
خواجہ ندیم احمد اور لاہور ریجن کی کامیابی کا راز
تحریر: عابد حسین
کامیابیاں کبھی ایک دن میں جنم نہیں لیتیں۔ ان کے پیچھے برسوں کی محنت، مسلسل جدوجہد، دور اندیش سوچ اور ایک واضح حکمتِ عملی کارفرما ہوتی ہے۔ کچھ شخصیات اپنی محنت اور کردار کے ذریعے ایسے نقوش چھوڑ جاتی ہیں
جو محض عہدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک پورے نظام کی شناخت بن جاتے ہیں۔ لاہور کرکٹ کے تناظر میں اگر حالیہ برسوں کی بات کی جائے تو خواجہ ندیم احمد کا نام انہی شخصیات میں نمایاں نظر آتا ہے۔
19 جون 2026 کو لاہور ریجن سے منسلک پانچ زونل کرکٹ ایسوسی ایشنز — سٹی، کینٹ، راوی، شالیمار اور ماڈل ٹاؤن زون — کے انتخابات منعقد ہوئے۔ اس انتخابی معرکے میں خواجہ ندیم گروپ کے نامزد امیدواروں نے پندرہ کی پندرہ نشستیں جیت کر ایک تاریخی کامیابی اپنے نام کی جبکہ مخالف گروپ کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بظاہر یہ کامیابی ایک انتخابی نتیجہ دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ کئی سال کی انتھک محنت اور ایک مضبوط نظام کی کامیابی ہے۔
خواجہ ندیم احمد نے 2023 میں لاہور ریجن کی قیادت سنبھالنے کے بعد لاہور کرکٹ کے ڈھانچے میں ایسی اصلاحات متعارف کروائیں جن کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔
انہوں نے محض روایتی نظام پر انحصار کرنے کے بجائے نئے راستے اختیار کیے اور نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی پالیسی اپنائی۔
ان کے دور میں زونل سطح پر پری(PRE ) کرکٹ ٹورنامنٹس متعارف کروائے گئے۔ انٹر ڈسٹرکٹ مقابلوں سے قبل "چیلنج کپ” کے نام سے نئے ایونٹس کا آغاز کیا گیا۔ انڈر 15، انڈر 17 اور انڈر 19 کی سطح پر بھی اسی طرز کے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا وسیع پلیٹ فارم میسر آ سکے۔
یہی وہ حکمتِ عملی تھی جس نے لاہور ریجن کو محض ایک انتظامی ادارے سے ایک مضبوط کرکٹ نرسری میں تبدیل کر دیا۔ ان ٹورنامنٹس میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بنیاد بنا کر ٹیموں کی تشکیل کی گئی اور اس کا نتیجہ قومی سطح پر لاہور ریجن کی مسلسل کامیابیوں کی صورت میں سامنے آیا۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران لاہور ریجن نے دو مرتبہ قومی انڈر 15 چیمپئن شپ اپنے نام کی، قومی انڈر 17 چیمپئن شپ جیتی، قومی انڈر 19 چیمپئن شپ کا اعزاز حاصل کیا اور قومی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں بھی اپنی برتری ثابت کی۔ صرف یہی نہیں بلکہ مختلف سطحوں پر لاہور ریجن کی ٹیموں نے اپنی کارکردگی کے ذریعے ملک بھر میں اپنا لوہا منوایا۔
کسی بھی ادارے کی ترقی صرف میدان میں کامیابیوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کے مستقبل کی منصوبہ بندی سے بھی اس کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ خواجہ ندیم احمد نے اپنے دور میں پاکستان کی پہلی ریجنل کرکٹ اکیڈمی کے قیام کا خواب حقیقت میں بدل دیا۔ یہ اقدام نہ صرف لاہور بلکہ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بن گیا۔
اس اکیڈمی میں نوجوان کھلاڑیوں کو مفت تربیت، جدید سہولیات اور معیاری کوچنگ فراہم کی جا رہی ہے۔ بہترین کوچز کی خدمات حاصل کی گئیں، ان کے لیے مناسب مراعات اور سہولیات کا بندوبست کیا گیا۔ مزید یہ کہ ایسے باصلاحیت مگر مالی مشکلات کا شکار کھلاڑیوں کے لیے ماہانہ وظائف کا نظام بھی قائم کیا گیا تاکہ وسائل کی کمی کسی کے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
اس منصوبے کی تکمیل میں نجی شعبے کی شراکت داری کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا اور کائزن پینٹ کے تعاون سے اس خواب کو عملی شکل دی گئی۔ یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ اگر نیت، وژن اور قیادت مضبوط ہو تو محدود وسائل بھی بڑی کامیابیوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
خواجہ ندیم احمد کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی شفافیت اور میرٹ پر یقین بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لاہور کے تقریباً اٹھانوے فیصد سے زائد کلب آرگنائزرز نے ان کے منشور اور کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ لوگوں نے انہیں صرف ووٹ نہیں دیا بلکہ ان کی قیادت، کردار اور نظام پر اعتماد کیا۔
اب جولائی کے پہلے ہفتے میں لاہور ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن کے مرکزی انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں اور قوی امکانات یہی ظاہر کرتے ہیں کہ خواجہ ندیم احمد ایک مرتبہ پھر بلا مقابلہ صدر منتخب ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یقیناً لاہور کرکٹ کے لیے یہ تسلسل ایک نئی امید ثابت ہوگا۔
بعض نام صرف رجسٹروں میں درج نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے صفحات پر لکھے جاتے ہیں۔ خواجہ ندیم احمد کا نام بھی لاہور کرکٹ کی تاریخ میں انہی لوگوں میں شمار ہوگا جنہوں نے کرکٹ کو محض کھیل نہیں بلکہ ایک مشن سمجھا۔ ان کی پالیسیاں، شفافیت، میرٹ اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی سوچ آنے والے برسوں تک لاہور کرکٹ کے سفر کی رہنمائی کرتی رہے گی۔
خواجہ ندیم احمد، آپ کا نام بلا شبہ لاہور کرکٹ کے روشن بابوں میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔



