جنرل (ر) اکرم ساہی


جنرل (ر) اکرم ساہی نے کہا ہے کہ پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن انتہائی محدود وسائل ہونے کے باوجودکر کٹ اور ہاکی کے بعد پاکستان میں قومی سطح کے سب زیادہ کھیلوں کے مقابلے منعقد کروانے والی فیڈریشن بن چکی ہے،یہی وجہ ہے ہے کہ ملک میں اتھلیٹکس ازم کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں لگاتار دوسرے سال جو نئیر اینڈ یوتھ نیشنل اتھلیٹکس چیپئین شپ کا کا میاب انعقاد اے ایف پی کی بہت بڑی کامیابی ہے ،اس ایونٹ نے گذشتہ برس بھی ہیں کئی نئے اتھلیٹس دئے تھے اور اس سال بھی ہماری نظروں میں کئی اتھلیٹس آئے ہیں جنہیں اے ایف پی ایڈاپٹ کرے گی۔انہیں کیمپوں میں رکھے گی اور انہیں تربیت کے ممکن حد تک بہترین مواقع فراہم کرے گی۔ جنرل (ر) اکرم ساہی یہاں اسلام آباد میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کر رہے تھے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہبدقسمتی سے ہماری ہاں کھیلوں کے کلینڈر بنانے کا اور انپر عمل کرنے کا رواج نہیں کر کٹ اور ہاکی کے بعد اتھلیٹکس فیڈریشن پہلی تنظیم ہے جس نے سالانہ ایونتس کی تاریخیں مقرر کر رکھی ہیں اور نہ صرف یہ بلکہ ہم باری باری سبھی صوبوں میں ایونٹس منعقد کر کے پاکستان کے نوجوانوں میں دوستی اور محبت کا رشتہ مضبوط کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کے کھیلوں کے حوالے سے محفوظ ملک ہونے کے تاثر کو بھی تقویت دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دو سال پہلے سب سے پہلے اے ایف پی نے بلوچستان میں نیشنل اتھلیٹکس اور گذشتہ برس سب سے پہلے سندھ میں نیشنل اتھلیٹکس چیمپین شپس منعقد کر وائیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال جو نئیر اینڈ یوتھ کے ایونٹ میں 300 اتھلیٹس اور 80کے لگ بگ آفیشلز نے شر کت کی۔ جنرل (ر) اکرم ساہی نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ کامن ویلتھ گیمز کی تیاریوں کے لئے قومی اتھلیٹکس تربیتی کیمپ پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں آج سے شروع ہو رہا ہے۔ایشین ان ڈور گیمز کے گولڈ میڈلسٹ کھلاڑیوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ ہماری اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ 27 سال بعد ایشیاء میں گولڈ میڈل لینے والی پاکستان کی ریلے ٹیم کے کھلاڑیوں کے لئے ابھی تک حکومتی جانب سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ ایک طرف سیف کے میڈلسٹوں کو دس دس لاکھ دئے کئے دوسری جانب ایشین گولڈ میڈلسٹس کو پوچھا تک نہیں گیا۔ اس سے بڑا ظلم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اسی پالیسی کی وجہ سے کھلاڑی پر فارم نہیں کرتے وہ سوچتے ہیں کہ پرفارم کر کے کیا مل جانا ہے؟ آو وقت گذارو اور چلتے بنو۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اتھلیٹکس جیسے کھیلوں کو فروغ دینا ہے تو تو حکومت کو اپنے ہیروز کی بھر پور سپورٹ کر نا ہو گی ،وگرنہ ہمیں کھلاڑیوں سے میڈلزز کی تو قع نہیں رکھنی چاہئے۔

6Shares

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!