دُنیا کی نمبر ون آل راؤنڈر بننا چاہتی ہوں،پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کپتان بسمہ معروف کا سپورٹس لنک پاکستان کو خصوصی انٹرویو


انٹرویو: محمد قیصر چوہان
’’ڈاکٹر بنناچاہتی تھی قسمت نے کرکٹر بنا دیا‘‘
خواتین کرکٹرز کیلئے بھی نیشنل کرکٹ اکیڈمی بنائی جائے
دُنیا کی نمبر ون آل راؤنڈر بننا چاہتی ہوں،پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کپتان بسمہ معروف کا سپورٹس لنک پاکستان کو خصوصی انٹرویو

کھیل صحت مند معاشرے کی پہچان اور قوموں کی ثقافت کے آئینہ دار کہلاتے ہیں اور جس معاشرے میں خواتین کو نظر انداز کر دیا جائے تو وہ معاشرہ بھیڑ بکریوں کی مانند ایک ہجوم بن کر رہ جاتا ہے۔ آج کے جدید دور میں خواتین کو نظر انداز کر کے ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا ہونے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا اعداد و شمار کے آئینہ میں دیکھا جائے تو پاکستان کی آبادی میں 52 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ دُنیا میں کوئی بھی تحریک یا تنظیم خواتین کی شمولیت کے بغیر اپنے مقاصد کے حصول کی منزل پر نہیں پہنچی۔ جس معاشرہ میں خواتین سے قومی، ملی، سماجی کام نہ لیا جائے بلکہ انہیں عضو معطل بنا کر رکھ دیا جائے وہ معاشرہ جمود کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ آج کی عورت تعلیم کے میدان میں مردوں سے آگے جا رہی ہے۔ ہر شعبہ زندگی میں خواتین نے اپنی صلاحیت و قابلیت کا لوہا منوا کر مقام پایا ہے۔ گلوگاری، انجینئر، بینکنگ، کمپیوٹر پروگرامز، بزنس مینجمنٹ، پائلٹ، پولیس، سول ایڈمنسٹریشن، ڈاکٹر، ٹریفک، ممبر قومی و صوبائی اسمبلی ، وزیر، وزیراعظم ، سپیکر قومی اسمبلی ، چیئرمین سینٹ، اداکاری، بوتیک، بیوٹی پارلر سمیت زندگی کے ہر شعبہ میں ذمہ داریا سنبھال کر ان سے بخوبی عہدہ بر آ ہو رہی ہیں۔ ٹی وی آرٹسٹ، اینکر پرسن، جرنلسٹ، تعلقات عامہ، شاپنگ سٹور، ادویات اور زراعت کے شعبے میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ ایئر ہوسٹس، ریلوے آفیسر، شپنگ کارپوریشن، بیمہ زندگی کا پیشہ تعلیم کے میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے کر اپنی صنف کے حصہ کو ادا کر رہی ہیں۔ عظیم تر پاکستان کیلئے خواتین عظیم تر جدوجہد میں مصروف ہیں۔ بھٹہ خشت ہو یا سڑکوں کی تعمیر، ملک میں کھیتوں کی ہریالی کا سبب خواتین کی عملی جدوجہد ہے۔ کھیتوں سے چارہ کاٹ کر لانا، گائے، بھینسوں کی پرورش کرنا، گندم کی کٹائی، کپاس کی چنائی کا کام عورت کی شرکت کے بغیر ادھو را ہے۔ وطن عزیز میں خواتین عملی طور پر ہر میدان میں موجود ہیں اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہی ہیں کہ ان کی جدوجہد کے بغیر خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح اگر ہم کھیلوں کے شعبے بالخصوص کرکٹ کے کھیل کی بات کریں تو ہمارے ملک کی خواتین نے اس شعبے میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا عالمی سطح پر منوایا ہے۔ اس کی زندہ و جاوید مثال لاہو ر میں پیدا ہونے والی بسمہ معروف ہیں جنہوں نے کرکٹ کے کھیل کو اپنا پروفیشن بنا کر اپنے شاندار کھیل کی بدولت انٹرنیشنل سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ بسمہ معروف خداداد صلاحیتوں کی مالک ایک بیٹنگ آل راؤنڈر ہیں جو کریز پر کھڑے ہو کر بیٹنگ کر رہی ہو ں تو مخالف باؤلرز کیلئے سوہان روح ثابت ہوتی ہیں۔ اپنے دلکش اسٹروکس سے مخالف ٹیموں کے باؤلرز کو پریشان کر دیتی ہے اور جب وہ لیگ اسپن باؤلنگ کرنے پر آمادہ ہو جائیں تواس کی جادو گری کمال کی ہوتی ہے۔ بسمہ معروف دو دھاری تلوار کی مانند ہیں۔ جس کے کھیل سے حب الوطنی جھلک رہی ہوتی ہے۔بسمہ معروف نے اب تک 92 ون ڈے انٹر نیشنل میچوں میں 2082 رنز بنا ئے ہیں اور 35 وکٹیں بھی حاصل کر رکھی ہیں۔ جبکہ ان کی T20 میچوں کی تعداد 74 ہے ۔جس میں انہوں نے 1351 رنز اور30 وکٹیں بھی حاصل کیں ہیں۔ گزشتہ دنوں نمائندہ ’’ ‘‘ محمد قیصر چوہان نے پاکستان ویمن کوکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ایک نشست کا اہتمام کیا اس میں ہونے والی بات چیت قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔

سوال : پاکستان کرکٹ بورڈ نے ثناء میر کی جگہ آپ کو پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کا کپتان بنایا ہے،آپ کے کیا احساسات ہیں؟
بسمہ معروف : پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرنا میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے ۔یہ میرے لیے ایک چیلنج ہے جس پر پورا اترنے کی میں ہر ممکن کوشش کر وں گی۔ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے مجھے پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کا کپتان بنایا، میں ان کی بڑی مشکور ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے میرے کاندھوں پر جو ذمہ داری ڈالی ہے میں اسے قومی ذمہ داری سمجھ کر بڑی ایمانداری کے ساتھ نبھانے کی ہر ممکن کوشش کروں گی۔ میں نے پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان بننے کا کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ یہ تو بس اللہ تعالیٰ کا مجھ نا چیز پر خصوصی فضل و کرم ہے کہ اس نے مجھے اتنی عزت سے نوازا ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کی کپتانی بہت ہی مشکل اور ذمہ داری والا کام ہے پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتانی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں بھرا تاج ہے۔ ایک چھوٹی سے غلطی آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے بڑی محتاط ہو کر چلوں گی اور ہر قدم پھونک پھونک کر رکھوں گی۔
سوال : آپ نے اپنے مستقبل کی کیا پلاننگ کی ہے؟
بسمہ معروف : میری اولین ترجیح ہمیشہ پاکستانی ٹیم کی فتوحات رہی ہیں ۔میرا مشن پاکستان کرکٹ ٹیم کو ناقابل تسخیر بنانا ہے۔ ایک ایسی ٹیم بنانا ہے جو ہر میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑتی رہے جس سے ملک و قوم کا نام روشن ہو۔ کپتان بننے کے بعد میرا اولین ٹارگٹ یہی ہے کہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کوورلڈ نمبر ون ٹیم بنا دوں۔ ہمارے ملک میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ لوگ شکست کو تسلیم نہیں کرتے اگر قومی ٹیم ہار جائے تو اس پر کڑی تنقید کرتے ہیں۔ جس سے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اگر ٹیم جیت جائے تو کھلاڑی کو آسمان پر لا کھڑا کیا جاتا ہے جیتنے پر ہیرو اور ہارنے پر زیرو تو یہ تاثر ختم کرنا ہو گا کیونکہ شکست کے پیچھے ہی جیت چھپی ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں کچھ ایسے عناصر سرگرم ہیں جو کہ ٹیم کی پوزیشن کمزور ہوتے ہی اس پر شدید تنقید کرنی شروع کر دیتے ہیں تنقید برائے تنقید سے کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اگر مجھے تھوڑا سا ٹائم دیا گیا تو میں قومی ٹیم کو وننگ ٹریک پر گامزن کر دوں گی۔ میرا مقصد یہی ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ہمیشہ فتح کیلئے بے چین اور بے تاب رہنے والے اسکواڈ میں تبدیل کردوں ایک قومی کھلاڑی اور کپتان ہونے کے ناطے میرا مقصد صرف یہی ہے کہ میں آنے والے چیلنجز میں بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کروں تاکہ ٹیم کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکوں یہی اس وقت میری اہم ذمہ داری ہے جس کا مجھے پوری طرح سے احساس ہے میں میدان میں تمام صلاحیتیں اور توانائیاں جھونک دینے کی عادی ہوں۔ بطور کپتان میرا مقصد یہی ہے کہ کرکٹ کے ہر میدان میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہمیشہ بلندی پر لہرائے میرا مقصد یہی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے پیارے وطن پاکستان کے لیے فتوحات کی راہیں تلاش کروں۔
سوال : آپ کے خیال میں ایک اچھے کپتان میں کیا خصوصیات ہونی چاہئیں؟
بسمہ معروف : اچھا کپتان اپنے کھلاڑیوں سے مکمل انصاف کرے، اپنے ساتھیوں کی بھرپور مدد کرے، پریکٹس کرے اور اپنی فٹنس کا خیال رکھے اچھا کپتان ہمیشہ بہادر اور جذبہ مسابقت رکھنے والا ہوتا ہے جسے آخری گیند تک جیت کیلئے لڑنا ہوتاہے تاہم ہار کی صورت میں وہ پھر مقابلے کیلئے خود کو اور ٹیم کو تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس میں ٹیلنٹ، جذبہ اور دماغی صلاحیتیں دوسروں سے زیادہ ہوں کیونکہ باقی کھلاڑی بھی اپنے کپتان کو دیکھ کر ہی حوصلہ پکڑتے ہیں ایک اچھے کپتان میں بر وقت فیصلے کرنے کی صلاحیتیں دوسروں سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے وہ جس حد تک اور جہاں تک ہو سکے ٹیم میں بہتری پیدا کرے تاکہ ٹیم مزید آرگنائز اور مضبوط ہو جائے۔
سوال : پاکستان ٹیم کو وننگ ٹریک پر گامزن کرنے کیلئے کیا آپ سابق کپتانوں سے مشاورت کریں گے؟
بسمہ معروف بطور کپتان اور بیٹسمین میرا مشن پاکستان کرکٹ ٹیم کو وننگ ٹریک پر گامزن کرنا ہے اس مشن کی تکمیل کیلئے میں سابق کپتانوں سے مشاورت کر وں گی۔
سوال : پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے ملنے والی سہولیات سے آپ کس حدتک مطمئن ہیں؟
بسمہ معروف: پاکستان کرکٹ بورڈ اور ویمن ونگ نے ویمن کرکٹ ٹیم کو بہترین سہولیات فراہم کیں ہیں اسی وجہ سے پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم نے2010 اور پھر 2014 کے ایشیئن گیمز میں گولڈ میڈلز حاصل کیا اور اس کے علاوہ کئی اہم میچوں میں کامیابی حاصل کی۔
سوال : پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کامیابیوں کا گراف کس طرح بلند ہو سکتاہے؟
بسمہ معروف: معاشی تحفظ نے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں نکھار پیدا کر سکتا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ دیا گیا ہے۔پی سی بی کوچاہیے کہ سنٹرل کنٹریکٹ کی رقم کو دوگنا کر دے کیونکہ ویمن ٹیم کی کھلاڑیوں کو ملنے والے سنٹرل کنٹریکٹ کی رقم پاکستان کی مردوں کی کرکٹ ٹیم کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے بلکہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ معاشی تحفظ ایک ایسی چیز ہے جو پلیئرز کو اچھی کارکردگی دکھانے پر اُکساتی ہے کیونکہ فکر معاش سے آزاد کھلاڑی ہی بین الاقوامی کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھا سکتا ہے۔
سوال : آپ نے اپنے لیے کوئی خاص ہدف بنایا ہے ؟
بسمہ معروف: 2006 میں جب میں نے ڈیبیو کیا تو ہمارے پاس کچھ خاص بڑے رول ماڈل نہیں تھے۔ ثناء میر کے علاوہ بہت کم خواتین کرکٹرز تھیں جن کا نام لیا جاتا تھا لیکن میں چاہتی ہوں کہ آنے والی لڑکیوں کے لیے میں رول ماڈل بنوں تاکہ آنے والی لڑکیاں مینز کرکٹرز کی نہیں، ہماری فی میل کرکٹرز کی مثالیں دیں کہ ’’میں بسمہ یا ثناء میر بننا چاہتی ہوں‘‘ اور ایسا اس وقت ہی ہو گا جب ہمیں بھی مردوں کے برابر مواقع ملیں گے اب حالات بہتر ہونے لگے ہیں لیکن اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ خواتین کرکٹرز کے لیے کوئی الگ سے اکیڈمی موجود نہیں ہے۔ گراؤنڈز کی بھی کمی ہیں، ہمیں پریکٹس کرنے میں بھی مشکلات ہوتی ہیں۔لاہور کی لڑکیاں پھر بھی خوش قسمت ہیں کہ نیشنل اکیڈمی میں ہمیں تھوڑی بہت ٹریننگ کا موقع مل جاتا ہے لیکن دوسرے شہروں کی لڑکیوں کو بہت سے مسائل پیش آتے ہیں۔
سوال : آپ ویمن کی کرکٹ کی بہتری کے لئے بطور کپتان کیا تجویز پیش کر یں گی؟
بسمہ معروف: ویمن کرکٹ پروموٹ کرنے کیلئے مزید سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے جو لڑکیاں اس کا شوق رکھتی ہیں اور ان میں صلاحیت بھی موجود ہے تو انہیں 17 برس کی عمر ہی میں بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کا موقع میسر آجانا چاہیے کیونکہ جب وہ بڑی ہو جاتی ہیں تو انہیں شادی وغیرہ جیسے مسائل بھی درپیش آجاتے ہیں۔ بہتر ہے کہ وہ پہلے سے ہی پختہ کرکٹر بن جائیں۔
سوال : اچھا اب آپ ہمارے قارئین کو اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
بسمہ معروف: میں لاہور کے معروف علاقے اپر مال کی رہائشی ہوں۔ میرے والد محترم کا نام ندیم معروف ہے جبکہ والدہ محترمہ کا نام شازیہ ندیم ہے۔ میرے ابو پٹرول پمپ کے بزنس سے وابستہ ہیں۔ ہم دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔ میں سب سے چھوٹی ہوں اس لیے لاڈلی ہوں۔ میری فیملی کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔ بچپن میں ابو کے ہمراہ قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کے ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے درمیان ہونے والے میچز دیکھے۔ میں نے اپنی ابتدائی تعلیم گریژن لاہور اکیڈمی سے حاصل کی۔ دوران تعلیم بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس اور کرکٹ کھیلی۔ میں بیڈمنٹن کی بہت ہی اچھی کھلاڑی تھی۔ میں نے اپنے سکول گریژن اکیڈمی لاہور کو انٹرڈسٹرکٹ سکول بیڈ منٹن چمپئن شپ کا چمپئن بھی بنوایا۔
سوال : کرکٹ کھیلنے کا آغاز کس عمر سے کیا تھا؟


بسمہ معروف: کرکٹ کھیلنے کا آغاز اپنے بھائی کو دیکھ کر کیا تھا۔ بچپن میں اپنے بھائی کے ساتھ گھر کے صحن میں پلاسٹک کے بیٹ اور بال سے خوب کرکٹ کھیلاکرتی تھی۔ تھوڑی بڑی ہوئی تو ٹینس بال سے کھیلنا شروع کر دیا۔ سکول میں میرا فوکس بیڈ منٹن کھیلنے پر زیادہ ہوتا تھا لیکن ایک مرتبہ سکول میں بریک کے دوران کرکٹ کھیل رہی تھی تو اسلامیات کی ٹیچر مس ساجدہ نے دیکھا تو انہوں نے میری بیٹنگ کی بڑی تعریف کی اور مجھے کہا کہ اگر تم نے کرکٹ کے کھیل کو اپنا پروفیشن بنایا تو بہت شہرت حاصل کرو گی۔ پھر سکول کی ٹیچر میڈم رفعت نے بھی میرا کھیل دیکھنے کے بعد میری بڑی حوصلہ افزئی کی تو پھر میں نے سنجیدگی کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت میں آٹھویں کلاس میں پڑھتی تھی۔
سوال : تو پھر آ پ نے کس کلب کو جوائن کیا تھا؟
بسمہ معروف: ماڈل ٹاؤن میں امتیاز کرکٹ اکیڈمی کو جوائن کیاتھا۔ جہاں پر میں نے لڑکوں کے ساتھ پریکٹس شروع کی تھی۔ لڑکوں کے ساتھ کھیل کر میرے اندر اعتماد آیا اور مجھے ذہنی مضبوطی حاصل ہوئی۔ کلب کی سطح پر مجھے لڑکی ہونے کی وجہ سے بڑی عزت و احترم ملتا تھا اور مجھے بیٹنگ بھی سب سے پہلے دی جاتی تھی۔ یوں میں بطور افتتاحی بیٹسمین کی حیثیت سے گروم ہوتی رہی۔ کلب کو جوائن کرنے کے بعد میرے کھیل میں دن بدن نکھار آنے لگا۔ پھر میں نے شفقت رانا کرکٹ اکیڈمی کو جوائن کر لیا۔ وہاں سے بھی مجھے کرکٹ کے کھیل بارے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اس کے بعد میں نے پیراگون کرکٹ کلب کو جوائن کر لیا۔ پیراگون کرکٹ کلب نے میری صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں اہم ترین کردار ادا کیاہے۔
سوال : کرکٹ کو پروفیشن بنانے کے بعد آپ نے کس کھلاڑی کو اپنا آئیڈیل بنا کر محنت شروع کی؟
بسمہ معروف: جب کرکٹ کھیلنا شروع کی تھی تب کسی کو آئیڈیل نہیں بنایا تھا بعد میں جب کرکٹ کے کھیل کی سمجھ آئی تو میں نے انڈین بلے باز سریشن رائنا اور یوراج سنگھ کی بیٹنگ کو فالو کرنا شروع کیاتھا۔ اسی طرح ویرات کوہلی اور اے بی ڈویلیئرز کے بیٹنگ سٹائل کو دیکھنا شروع کیا۔ یہ بیٹسمین میرے پسندیدہ ہیں میں نے ان کو کھیلتا دیکھ کر بہت کچھ سیکھا ہے۔
سوال : پاکستانی معاشرے میں صنف نازک بے جا پابندیوں میں جکڑی ہوئی ہیں ہمارے ہاں تو ویسے بھی لڑکیوں کیلئے کرکٹ کھیلنا کافی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جب آپ نے کرکٹ کو پروفیشن بنا لیا تو گھر والوں کا کیا ردعمل تھا؟
بسمہ معروف: آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کو کافی مشکلات کا سامانا کرنا پڑتا ہے۔ اگر مجھے میری فیملی سپورٹ نہ کرتی تو میرے لیے کرکٹ کھیلنا نا ممکن ہو جاتا۔ میں واقعی بڑی خوش قسمت ہوں کہ میرے گھر والوں نے مجھے کرکٹ کھیلنے کی مکمل آزادی دی۔میں آج جس مقام پر ہوں اپنے والدین ، بہن اور بھائی کی بھرپور سپورٹ کی بدولت ہوں۔ میری فیملی نے مجھے ہر ممکن سپورٹ کی میرے ابو ہمیشہ مجھے خود گاڑی پر اپنے ساتھ لے کر کلب کی پریکٹس پر جاتے تھے اور پھر ساتھ ہی واپس لے کر آتے تھے۔ پریکٹس سے گھر واپسی پر وہ میرے ساتھ کرکٹ اور میرے کھیل پر گفتگو کرتے تھے اور اچھے کھیل پر میری بڑی تعریف کیا کرتے تھے۔ ابو کی جانب سے ملنے والی بھرپور حوصلہ افزائی نے ہمیشہ مجھے آگے بڑھنے اور اچھا پرفارم کرنے کی تحریک دی۔ پھر مختلف کلبوں میں لڑکوں کے ساتھ کھیل کر میرے اندر خود اعتمادی اور ذہنی مضبوطی پیدا ہوئی۔
سوال : آپ کے کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ کون سا تھا؟
بسمہ معروف: انڈر 21 ٹیم کے ٹرائلز ہو رہے تھے۔ میں نے اپنے انکل معروف جو ا ب انگلینڈ میں رہائش پذیر ہیں کے کہنے پر ٹرائلز دیئے تو میں قومی ٹیم کے کیمپ میں سلیکٹ ہو گئی۔
سوال : 2006 میں جب پہلی مرتبہ آپ کا نام پاکستان وومن کرکٹ ٹیم میں آیا تو آپ کے کیا احساسات تھے؟
بسمہ معروف: کسی بھی کھلاڑی کے لیے وہ وقت بڑا اہم اور یادگار ہوتا ہے جب وہ اپنی قومی ٹیم کیلئے پہلی مرتبہ کھیل رہا ہوتا ہے اور وہ تمام چیزیں میرے سامنے بھی تھیں۔ خاص طور پر بین الاقوامی کرکٹ کھیلتے ہوئے کھلاڑی کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کامیابی حاصل کرے۔ میں نے اپنا پہلا انٹرنیشنل میچ ہانگ کانگ کرکٹ ٹیم کے خلاف قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا تھا ۔ ہانگ کانگ کی وومن کرکٹ ٹیم 2006 میں تین میچوں کی سیریز کھیلنے کیلئے پاکستان کے دورے پر آئی تھی۔ پہلے دو میچوں میں مجھے چانس نہیں ملا تھالیکن سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں پاکستان وومن ٹیم کی کپتان عروج ممتاز نے مجھے حتمی الیون کا حصہ بنا یا تھا اور میں نے بطور افتتاحی بیٹسمین کی حیثیت سے اپنا کیریئر شروع کیا تھااور اپنے اولین میچ میں 60رنز بنا کر اپنی سلیکشن کو درست ثابت کیا تھا۔
سوال : بطور افتتاحی بیٹسمین انٹرنیشنل کرکٹ کیریئر کا آغاز کرتے ہوئے کیسا لگ رہا تھا؟
بسمہ معروف: اننگز کا آغاز کرنا واقع بہت مشکل ترین کام ہے کیونکہ آپ کو وکٹ کے رویے کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ اس میں کتنا باؤنس ہے اور پہلے دس اوورز میں یہ کیسا کھیلے گی اور بعدازاں یہ کیسا کھیلے گی۔ یہ تو آپ جب وکٹ پر اننگز کا آغاز کرنے کیلئے کریز پر جاتے ہیں تو ہی کرکٹ کے رویے کے بارے میں پتہ چلتا ہے اس وجہ سے اننگز کا آغاز کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ اننگز کا آغاز کرتے وقت آپ پر تھوڑا بہت پریشر بھی ہوتا ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ آپ کو وکٹ کے رویے کے بارے میں معلومات نہیں ہوتیں اور دوسرا ٹیم مینجمنٹ کی پلاننگ کے مطابق کھیلنا پڑتا ہے۔
سوال : آپ نے اپنا کیریئر بطور افتتاحی بیٹسمین کے طور پر شروع کیا تھا لیکن بعدازاں آپ نے ون ڈاؤن پوزیشن سنبھال لی اور پھر آپ نے لیگ اسپن باؤلنگ بھی شروع کر دی یہ سب کچھ کس طرح ممکن ہوا؟
بسمہ معروف: تقریباً 2برس تک میں افتتاحی بلے باز کے طور پر کھیلتی رہی لیکن پھر ویمن کرکٹ ٹیم کے کوچ منصور رانا صاحب نے مجھے مڈل آرڈر کی پوزیشن پر منتقل کر دیا۔ بعدازاں مجھے ون ڈاؤن کی پوزیشن پر منتقل کر دیا گیا اور اب میں اسی پوزیشن پر کھیل رہی ہوں۔ قومی وومن ٹیم مینجمنٹ کو ایک ایسے آل راؤنڈر کی تلاش تھی جو بیٹنگ کے ساتھ ساتھ باؤلنگ بھی کر سکے۔ اس مقصد کیلئے کوچ منصور رانا صاحب نے مجھے اور نین عابد کو نیٹ پریکٹس کے دوران باؤلنگ کرانے کو کہا جب میں نے لیگ اسپن باؤلنگ شروع کی تو انہوں نے کافی تعریف کی اور مجھے ریگولر باؤلنگ کرنے کا مشورہ دیا جس پر میں نے عمل کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں میں نے ایک بیٹنگ آل راؤنڈر کا روپ دھار لیا اور اب میں دنیا کی نمبر ون آل راؤنڈر بننے کی خواہش مند ہوں۔
سوال : پہلی مرتبہ کس ٹیم کے خلاف باؤلنگ کی تھی اور آپ کی کارکردگی کیسی رہی تھی؟
بسمہ معروف: میں نے آئرلینڈ کی ویمن ٹیم کے خلاف ڈبلن میں پہلی مرتبہ لیگ اسپن باؤلنگ کی تھی۔ میں نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے قومی ٹیم کو فتح دلوائی تھی۔ مجھے بہترین کارکردگی دکھانے پر مین آف دی میچ کا ایوارڈبھی ملا تھا۔
سوال : ابھی تک آپ نے جو ون ڈے اور T20 کرکٹ میچز کھیلے ہیں ان میں اپنی پرفارمنس سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
بسمہ معروف: میں نے ابھی تک جو ون ڈے انٹرنیشنل اور ٹونٹی 20میچز کھیلے ہیں ان میں اپنی کارکرگی سے مطمئن ہوں اور مزید بہتری کیلئے سخت محنت کر رہی ہوں۔
سوال : جب آپ پہلی مرتبہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیل رہی تھیں تو آپ کے کیا احساسات تھے؟
بسمہ معروف: میں جب پہلی مرتبہ پاکستان ویمن ٹیم کی طرف سے ہانگ کانگ کے خلاف کھیل رہی تھی تو مجھے خواب سا لگ رہا تھا کیونکہ میں نے تو کبھی خواب میں بھی پاکستان وومن کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ میں خود کو خوش قسمت تصور کرتی ہوں کہ مجھے پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا۔ یہاں پر میں کپتان عروج ممتاز کی بصیرت اور سمجھداری کو داد دوں گی جنہوں نے مجھے دیگر کھلاڑیوں پر ترجیح دی تھی جب میں بیٹنگ کرنے کیلئے جا رہی تھی تو میری اللہ تعالیٰ سے یہی دُعا تھی کہ جب تو نے اتنا بڑا موقع دیا ہے تو اس میں کامیابی بھی عطاء فرما اور میں سمجھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال رہی جس کی وجہ سے میں نے ہانگ کانگ کے خلاف 60 رنز کی اننگ کھیلی تھی۔ مجھے میچ سے ایک دن قبل کپتان عروج ممتاز نے بتا دیا تھا کہ بسمہ کل تم میچ کھیل رہی ہو۔ مجھے کپتان کے منہ سے یہ الفاظ سن کر بے حد خوشی ہوئی تھی۔ اسی خوشی میں مجھے رات دیر تک نیند نہیں آئی تھی۔
سوال : کن کرکٹرز نے آپ کو کھیل میں بہتری لانے کے حوالے سے ٹپس دی ہیں؟
بسمہ معروف: سب سے پہلے تو پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کے کوچ منصور رانا صاحب نے کھیل میں بہتری لانے کیلئے سب سے اہم کردار ادا کیا۔ پہلے تو پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی قومی وومن ٹیم کے کھلاڑیوں سے گفتگو نہیں کرتے تھے لیکن جب ہم نے 2010 میں ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا تو اس کے بعد مصباح الحق ، محمد حفیظ، کامران اکمل، اظہر علی، عمر اکمل نے مجھے بہت زیادہ گائیڈ کیا۔ ان بہترین کرکٹرز کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے میں نے اپنے کھیل میں نکھار پیدا کیا۔ میں ان سب کرکٹرز کی بے حد مشکور ہوں جنہوں نے بروقت میری مدد کی۔
سوال : آپ نے ابھی تک جن باؤلرز کو کھیلا ہے اس میں کون سا مشکل لگا؟
بسمہ معروف: جو دن آپ کا ہو۔ اس دن کوئی باؤلر بھی مشکل نہیں لگتا اور جو دن باؤلر کا ہو تو پارٹ ٹائم باؤلر بھی آپ کو مشکلات میں مبتلا کر دیتا ہے اس کے سامنے آپ اپنے پسندیدہ اسٹروکس بھی نہیں کھیل پاتے۔ بعض اوقات ایک بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ پر بھی کچھ موسم اس طرح کا ہو جاتا ہے کہ آپ اپنا کھیل نہیں کھیل سکتے۔ مجھے کبھی بھی کسی باؤلر کو کھیلتے ہوئے مشکل پیش نہیں آئی کیونکہ میں باؤلرز پر حکمرانی کرنا پسند کرتی ہوں جب باؤلرز اچھی گیندیں کر رہا ہو تو میں اسے میرٹ پر کھیلتی ہوں۔ البتہ انڈیا کی فاسٹ باؤلر جیولن گوسوامی اور آسٹریلیا کی فاسٹ باؤلرایلس پیری بہت ہی بہترین بلکہ حقیقی فاسٹ باؤلرز ہیں۔ ان کی اسپیڈ، سوئنگ اور لائن و لینتھ بہترین ہے۔ میں نے ابھی تک ان سے اچھی فاسٹ باؤلرز کا سامنا نہیں کیا۔
سوال : بطور لیگ اسپن باؤلر کس بیٹسمین نے آپ کو تنگ کیا؟
بسمہ معروف: میں نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز ، سری لنکا، جنوبی افریقہ سمیت دیگر ممالک کی ٹیموں کے خلاف میچز کھیلے ہیں۔ اس دوران میں نے کئی بہترین بیٹسمینوں کو باؤلنگ کی لیکن سب سے خطرناک بیٹسمین انڈیا کی متھالی راج اور انگلینڈ کی سارہ ٹیلر ہیں جو فاسٹ باؤلنگ اور اسپن باؤلنگ کو یکساں مہارت کے ساتھ کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ان دونوں کا بیٹنگ اسٹائل بھی بہت ہی پر کشش ہے۔
سوال : آپ بطور لیگ اسپن باؤلر مخالف بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے اور کامیابی کے حصول کیلئے خود کوکس طرح تیار کرتی ہیں؟
بسمہ معروف: مخالف بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے کیلئے بہت سی باتوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جیسا کہ وکٹ کی کنڈیشن، مخالف بیٹسمین کی فارم سمیت دیگر پہلوؤں کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔ پھر یہ کہ تمام بیٹسمینوں کی کمزوریاں مختلف ہوتی ہیں یہ ایک سخت مشکل کام ہے۔ میں پرُ سکون اور ٹھنڈے دماغ کے ساتھ مخالف بلے بازوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتی ہوں۔ مد مقابل بیٹسمینوں کو اپنی گیند کی ڈائریکشن تبدیل کر کے اپنے جال میں پھنسایاجا سکتا ہے۔ میں جب باؤلنگ کرتی ہوں تومیری اولین کوشش یہی ہوتی ہے کہ لائن و لینتھ پر باؤلنگ کر کے مدمقابل بیٹسمین پر دباؤ بڑھاؤں اور اس کو ٹریپ کر کے آؤٹ کروں اور پاکستان کرکٹ ٹیم کو فتح دلواؤں۔
سوال : آپ نے اپنی لیگ اسپن باؤلنگ میں بہتری لانے کیلئے کس کرکٹر سے رہنمائی حاصل کی ہے؟
بسمہ معروف: ویسے تو منصور رانا صاحب نے کافی گائیڈ کیا ہے لیکن اس حوالے سے مردوں کی قومی ٹیم کے کوچ مشتاق احمد صاحب اور شاہد خان آفریدی نے مجھے لیگ اسپن باؤلنگ میں نکھار لانے کیلئے مفید مشورے دیئے ہیں۔
سوال:یہ بتائیے گا کہ آپ خود کو فزیکل طور پر فٹ رکھنے کیلئے کیا کرتی ہیں؟
بسمہ معروف: میں نے اپنے گھر کے قریب ہی ایک جم جوائن کیا ہوا ہے جہاں پر میں باقاعدگی سے ٹریننگ کرتی ہوں۔اب میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بھرپور ٹریننگ کرتی ہوں۔
سوال : جب لڑکی میچور کھلاڑی بنتی ہے تو گھر والے اس کی شادی کر دیتے ہیں اور پھر شادی کے بعد لڑکیوں کو مزید کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہیں ملتی اور اس طرح ایک وومن کھلاڑی پر کی جانے والی محنت ضائع ہو جاتی ہے، اس حوالے سے آپ کیا کہیں گی؟
بسمہ معروف: ہمارے معاشرے میں جب لڑکی جوان ہوتی ہے تو والدین کو اس کی شادی کی فکر پڑ جاتی ہے۔ جو اس لحاظ سے تو اچھی چیز ہے کہ لڑکی جلد اپنے گھر کی ہو جائے۔ جہاں تک شادی کے بعد کھیلنے کی بات ہے یہ تو اس لڑکی کے سسرال والوں پر منحصر ہے کہ وہ اس کو اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ البتہ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ شادی کے بعد بھی لڑکی سپورٹس میں حصہ لے سکتی ہے اور اس کوحصہ لینا بھی چاہیے کیونکہ اس طرح لڑکی کی صلاحیتوں سے ملک و قوم کو فائدہ ہوتا ہے اور وہ خاتون کھلاڑی معاشی طور پر مضبوط بھی ہوتی ہے۔
سوال : کیا آپ پر گھر والوں کی طرف سے شادی کا کوئی دباؤ ہے؟
بسمہ معروف: ہمارے خاندان میں 18سے 20 سال کی عمر کے اندر لڑکی کی شادی کر دی جاتی ہے لہٰذا اس حوالے سے مجھ پر تھوڑا سا دباؤ تو ہے۔ کیونکہ والدہ کو میری شادی کی فکر لگی ہوئی ہے اور وہ میرے لیے رشتہ بھی ڈھونڈ رہی ہیں۔ البتہ میری تمام تر توجہ 2016 میں بھارت کی سرزمین پر منعقد ہونے والے T20 ورلڈ کپ پر مرکوز ہے۔ مجھے شادی کی ابھی کوئی جلدی نہیں ہے۔ شادی ایک دن ہونی تو ضرور ہے لہٰذا میں کرکٹ سے محبت کرنے والی فیملی کی بہو بننا پسند کروں گی اور ایسا لائف پارٹنر پسند کروں گی جو مجھے شادی کے بعد بھی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے۔
سوال : آپ کے کیریئر کے یادگار لمحات کون سے ہیں؟
بسمہ معروف: ایشین گیمز 2010اور 2014 میں پاکستان کیلئے گولڈ میڈل جیتنا میرے کیریئر کے یادگار لمحات ہیں۔ 2010کی ایشین گیمز میں کرکٹ کے کھیل کے T20 فارمیٹ کو پہلی مرتبہ شامل کیا گیا تھا۔ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی تمام کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کر کے قوم کو ایشین گولڈ میڈل دلایا تھا اور 2014 کی ایشین گیمز میں بھی اپنی عمدہ کارکردگی کی بدولت پاکستان کیلئے گولڈ میڈل جیتا تھا۔ دو مرتبہ ایشین گولڈ میڈلسٹ بننا میرے لیے بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی افریقہ اور بھارت جیسی مضبوط ٹیموں کو شکست دینا بھی یادگار لمحوں میں سے ایک ہے۔ سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کو ان کی سرزمین پر شکست دینا بھی یادگار لمحوں میں سے ہے۔
سوال : کرکٹ کا کھیل ایشین گیمز کا حصہ بن چکا ہے کیا آپ کے خیال میں کرکٹ کے T20فارمیٹ کو اولمپکس میں شامل کیا جانا چاہیے؟
بسمہ معروف: اولمپکس میں شرکت کرنا ہر کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے اور یہ بڑے اعزاز کی بھی بات ہے۔ پہلے تو ٹیسٹ میچ اور ون ڈے انٹرنیشنل کی وجہ سے کرکٹ اولمپکس میں شامل نہیں ہوسکتی تھی لیکن اب ٹونٹی 20 کرکٹ متعارف ہونے کے بعد تو اس کھیل کی مختصر صورت سامنے آگئی ہے تو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کو چاہیے کہ وہ کرکٹ کے کھیل کو بھی اولمپکس میں شامل کریں تاکہ کرکٹرز کو بھی اولمپین بننے کا اعزاز حاصل ہو سکے۔
سوال : پاکستان میں ویمن کرکٹ کے کھیل کا معیار آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی طرز جیسا بنانے کیلئے کن اقدامات کی اشد ضرورت ہے؟
بسمہ معروف: خواتین کرکٹرز کو معاشی و عزت کا تحفظ دیا جائے اور نیشنل اکیڈمی کی طرز پر خواتین کیلئے الگ سے کرکٹ اکیڈمی قائم کی جائے اور جو سہولیات پاکستان کی مردوں کی کرکٹ ٹیم کو میسر ہیں وہی سہولیات وومن کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو فراہم کی جائیں پھر پاکستان میں صرف 6 ادارے ایسے ہیں جن کی وومن کرکٹ ٹیمیں ہیں اس تعداد کو بڑھا کر 12تک کیا جائے۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر وومن کرکٹ ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔ کرکٹ کی بنیاد پر سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ دیا جائے۔ خواتین کرکٹرز کیلئے الگ سے کلب بنائے جائیں۔ الگ سے گراؤنڈز کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ لڑکیاں آسانی کے ساتھ کرکٹ کے شوق کو پروان چڑھا سکیں۔ قیصر صاحب آپ نے بات کی ہے ناں آسٹریلیا اور انگلینڈ میں وومن کرکٹ ٹیم کے معیار کی تو ان ممالک میں ویمن کرکٹرز کو معاشی تحفظ حاصل ہے وومن کرکٹرز کا بے حد احترام کیا جاتا ہے۔ ویمن کرکٹرز کیلئے الگ کلبیں اور اکیڈمیاں موجود ہیں۔ جب اتنی زیادہ سہولیات میسر ہوں اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ معاشی تحفظ بھی حاصل ہو تو پھر کھلاڑیوں کا تمام تر فوکس اپنے کھیل پر ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ اچھی سے اچھی کارکردگی دکھا کر اپنے ملک کو جتوانے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے پاس سوچنے کو بہت کچھ ہے۔ ہمیں وہ سہولیات میسر نہیں ہیں جو کہ آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ یا بھارت کی ویمن ٹیموں کو حاصل ہیں۔ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم نے نامساعات حالات کے باوجود انڈیا کو اس کی سرزمین پر شکست دی ہے۔ سری لنکا، بنگلہ دیش،ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیموں کو ہرایا ہے۔ اگر پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کو سہولیات میسر ہوں تو ہم پاکستان کو ویمن ورلڈ کپ کا چمپئن بنوا سکتی ہیں۔
سوال : گراس روٹ لیول پر خواتین کھلاڑیوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
بسمہ معروف: گراس روٹ لیول پر خواتین کھلاڑیوں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ کرکٹ کھیلنے کی خواہش رکھنے والی کھلاڑیوں کیلئے کوئی گراؤنڈ وغیرہ نہیں ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ وغیرہ کے بھی مسائل ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں سکول اور کالجز کی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال : سکول اور کالجز کی طالبات کو کس طرح کرکٹ یا کھیلوں کی طرف لایا جا سکتا ہے؟
بسمہ معروف: دیکھیں بات یہ ہے کہ آپ طالبات کو جتنی زیادہ سہولتیں دیں گے وہ کھیلوں کی طرف راغب ہوں گی، اس میں سکول اور کالجوں کا کردار اہم ہے۔ جبکہ وومن ٹیم بھی اگر شہروں کے علاوہ دور دراز علاقوں میں جائے تو اس سے لڑکیوں میں کھیلنے کا شوق پیدا ہو گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کو دور دراز علاقوں میں ٹرائلز کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ لڑکیوں کے کرکٹ سے متعلق شوق میں اضافہ ہو اس طرح ہمیں اچھا ٹیلنٹ بھی مل سکے گا۔
سوال : ویمن ٹیم کے مثبت اور منفی پوائنٹس کون کون سے ہیں؟
بسمہ معروف: ہماری ٹیم کا مثبت پوائنٹ ہماری باؤلنگ کا شعبہ ہے۔ یہ شعبہ کافی مضبوط ہے، فیلڈنگ میں بھی ہماری کارکردگی کبھی اچھی اور کبھی خراب رہتی ہے جس پر بات بھی ہوتی رہتی ہے۔ بیٹنگ میں ہم بھی امپروو ف کرنے کے مرحلے سے گزر رہے ہیں اس میں بھی بیٹنگ آرڈر کا ایشو آرہا ہے کہ کون کہاں سیٹ ہو گا، ہم جونیئرز کو بھی ایڈجسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین کامبی نیشن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سوال : آپ سمجھتی ہیں کہ مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اب پاکستان ویمن ٹیم کو مزید نئی کھلاڑیوں کی ضرورت ہے؟
بسمہ معروف: پاکستان میں کرکٹ کھیلنا اور اپنے آپ کو منوانا آسان نہیں ہے، ہمیں تقریباً 9 یا 10 سال کرکٹ کھیلتے ہوئے ہو گئے ہیں اور ہم اب اس مقام پر پہنچے ہیں۔ یہ ایسا وقت ہے کہ ہمیں سینئرز کو بیک کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جونیئرز کو ابھی ملنے میں بہت وقت ہے اگر جونیئر لڑکیاں جلدی پک کر لیتی ہیں تو پھر انہیں موقع ملنا چاہیے۔
سوال : کیا یہ بات صحیح ہے کہ لڑکیاں آؤٹ ڈور کھیل کی سہولتیں نہ ہونے کے سبب انڈور کھیلوں کی طرف زیادہ راغب ہو رہی ہیں؟
بسمہ معروف: پاکستان میں اب کلچر کافی تبدیل ہوا ہے پہلے جب میں سکول میں کھیلتی تھی تو اس وقت ہم نہ صرف سکول کے اندر بیڈمنٹن وغیرہ کھیلتے تھے بلکہ باہر کرکٹ کھیلنے بھی جاتے تھے۔ پہلے سکولوں یا کالجوں میں اپنے گراؤنڈز ہوا کرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے اب گراؤنڈز وغیرہ ختم ہوتے جا رہے ہیں اس سلسلے میں ضرور توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف لڑکیوں بلکہ لڑکوں کو بھی صحت مندانہ سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کا موقع ملے۔ ہم نے بھی ہمیشہ گراؤنڈ کی ڈیمانڈ کی ہے۔ ہمیں لاہور ماڈل ٹاؤن میں گراؤنڈ ملا ہے لیکن ابھی ہم وہاں جا کر کھیلے نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک وومن کرکٹ اکیڈمی بن جائے جہاں جا کر ہم پریکٹس کریں۔
سوال : کرکٹ ایک فل ٹائم جاب ہے، آپ کس طرح اس کے ساتھ انصاف کرتی ہیں؟
بسمہ معروف: بالکل یہ ایک فل ٹائم جاب ہے اور میری پوری توجہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے پر مرکوز رہتی ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ انفرادی طور پر بھی اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے سخت محنت کروں۔ یہ ضرور ہے کہ کرکٹ کیریئر کی ابتدا میں اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی جو مجھے کرنی چاہیے تھی لیکن میں نے اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ بہرحال میں اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے بہت زیادہ محنت کر رہی ہوں، کوشش کروں گی کہ آنے والی سیریز کے دوران پاکستان کیلئے مزید بہتر پرفارم کروں۔
سوال : کرکٹ اور تعلیم میں کس طرح توازن برقرار رکھتی ہیں؟
بسمہ معروف: جب میں نے کرکٹ شروع کی تو اس وقت میں 8 ویں کلاس میں تھی اس وقت مجھے کرکٹ اور تعلیم میں بیلنس کرنے میں بڑی دشواری کا سامنا تھا لیکن پھر میں دونوں چیزوں میں توازن قائم کرتے ہوئے آگے بڑھی اور اب میں نے گریجویشن بھی مکمل کر لی ہے۔
سوال : اگر آپ کرکٹر نہ ہوتیں تو کیا بننا پسند کرتیں؟
بسمہ معروف: میں نے توکبھی سوچا نہیں تھا کہ کرکٹر بنوں گی۔ ابتدا میں یہی بات ذہن میں تھی کہ پڑھائی جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹربنوں گی اس وقت یہی میرا ٹارگٹ تھا لیکن زندگی میں حالات اور واقعات کی تبدیلی انسان کے بس میں نہیں ہوتی۔ بہرحال میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ پاکستان کی ویمن کرکٹ ٹیم میں شامل ہو کر ملک و قوم کی خدمت کر رہی ہوں۔
سوال : بسمہ !آپ اکثر ملک سے باہر رہتی ہیں اور آپ کے ٹورز ہوتے ہیں تو پھر کھانا پکانا وغیرہ آپ کو آتا نہیں ہو گا؟
بسمہ معروف: جی نہیں! کھانا بنانا مجھے بہت اچھا آتا ہے خاص کر کے میری بریانی تو پورے خاندان میں مشہور ہے۔ اس کے علاوہ مجھے کڑاہی گوشت اور تمام پاکستانی اور چائینیز ڈشز بنانی آتی ہیں۔ ہاں! کھانا بناتی میں موڈ کے مطابق ہوں اکثر نہیں بناتی بلکہ یہ ذمہ داری امی ہی سنبھالتی ہیں لیکن آپ کو تو پتہ ہے ہر پاکستانی ماں اپنی بیٹی کو کھانا بنانا ضرور سیکھاتی ہے تو میر ی والدہ نے بھی اپنا کھانا بنانے کا فن مجھ میں منتقل کیا ہے۔ جب میں فری ہوتی ہوں تو کچن کا رخ کر لیتی ہوں یا یہ کہیں کہ کچن میں بھیج دی جاتی ہوں اور پھر چولہا چوکی بھی کرتی ہوں یہ تو کرنا ہی پڑتا ہے آخر لڑکیوں والے کام بھی تو کرنے ہیں۔
سوال : خواتین کی کمزوری کپڑے اور جیولری ہوتے ہیں تو آپ بھی ڈیزائنرز سوٹ پسند کرتی ہیں اور جیولری بھاری اچھی لگتی ہے یا لائٹ؟
بسمہ معروف: مجھے جیولری بہت زیادہ پہننے کا شوق تھا، ہلکی پھلکی چین وغیرہ یا پھر ٹاپس چلتے ہیں۔ کپڑے پاکستان میں تو عام طور پر شلوار سوٹس وغیرہ ہی پہنتی ہوں جو عام گھروں میں پہنیں جاتے ہیں یا پھر پارٹیز ڈریسنگ، بیرون ملک ہم زیادہ جینز اور شرٹس پہنتے ہیں۔ ویسے مجھے بہت زیادہ کام شام والے کپڑے پہننے کا کوئی خاص شوق نہیں لیکن عید یا تہواروں پر تو فیملی کی فرمائش ہوتی ہے تو پھر میں بھی پہن لیتی ہوں۔ ویسے مجھے بچپن سے ہی بہت زیادہ لڑکیوں والے شوق نہیں ہیں بس ہلکا پھلکا میک اپ کرتی ہوں، وہ بھی امی کے پر زور اصرار پر ورنہ مجھے یہ سب کچھ زیادہ پسند نہیں ہے۔
سوال : کہا جاتا ہے کہ پاکستان ویمن ٹیم میں صرف وہی لڑکیاں آتی ہیں جن کے والدین کا فی امیر ہیں یا ان کا سیاسی اثر و رسوخ ہے۔۔۔ کیا یہ بات درست ہے؟
بسمہ معروف: ایسا بالکل نہیں ہے۔ ٹیم کی زیادہ تر لڑکیاں وہ ہیں جن کے والدین ان کو سپورٹ کرتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق لوئر مڈل کلاس فیملیز سے ہے لیکن ان کے والدین کی سپورٹ نے انہیں آج قومی ٹیم میں پہنچا دیا ہے۔ یہ کوئی ایسا کام نہیں جس میں صر ف سفارش کے بل بوتے پر آپ کچھ بن سکتے ہیں، کرکٹ میں چلیں آپ سفارش کے بل بوتے پر پہنچ بھی جائیں تو آپ کھیلیں گے کیسے؟ آج کل میڈیا پر سب دکھائی دیتا ہے؟ کون کیسے کھیل رہا ہے کس نے غلطی کی کس کی تکنیک کیسی ہے تو پھر کوئی بھی سفارشی کیسے چل سکتا ہے۔ یہ سب مختلف لوگوں کے خیالات ہیں لیکن حقیقت سے ان کا بہت کم تعلق ہے۔ میں آج جہاں ہوں کہ اس میں میرے والدین خاص کر کے میرے والد کا بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے میری حوصلہ افزئی کی، اپ اینڈ ڈاؤن آتے رہتے ہیں لیکن مجھے میرے والدین کی طرف سے بھرپور سپورٹ ملی پھر ٹیم میں تمام لوگ ایک فیملی کی طرح ہیں جو ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں کیونکہ ہم زیادہ تر سیریز تو ملک سے باہر ہی کھیلتے ہیں۔ اس لیے ہمارا زیادہ تر وقت بھی ساتھ ہی گزرتا ہے، ہم سب ساتھ انجوائے کرتے ہیں لڑتے ہیں اور ہماری دوستیاں ہیں اور پاکستانی ٹیم کے ڈریسنگ روم کا ماحول بہت اچھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ٹیم متحد ہو کر کھیلتی ہے اور بڑی بڑی ٹیموں کو ہم ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔
سوال : ویمن کرکٹ میں شائقین زیادہ دلچسپی نہیں لیتے کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ اس میں کھیل کی رفتار بہت کم ہوتی ہے اور زیادہ چوکے چھکے بھی زیادہ نہیں لگتے؟
بسمہ معروف: اب تو ویمن کرکٹرز نے بھی جارحانہ انداز اپنانا شروع کر دیا ہے میں خود اپنی بیٹنگ میں جارحانہ انداز لانے پر کام کر رہی ہوں۔ نمبر تین پر بیٹنگ کرتے ہوئے میر ی کوشش ہوتی ہے کہ ویرات کوہلی کی طرح ٹیم کو لے کر چلوں جس طرح وہ اپنی ٹیم کی بیٹنگ کابوجھ اٹھاتا ہے اورپورے میچ کو بناتا ہے۔ میری بھی کوشش ہے کہ میں بھی پاکستانی ٹیم کے لیے ایسا ہی کردار ادا کروں۔ چھکے وومن کرکٹ میں کم لگتے ہیں لیکن ایسا بالکل نہیں کہ نہیں لگتے۔ میری پوری کوشش تو ہے کہ اپنی بیٹنگ اور اسٹرائیک ریٹ بہتر کروں۔ اس پر میں کام بھی کر رہی ہوں، ہمارے کوچز بھی بہت محنت کر رہے ہیں لیکن ہمیں بھی فل ٹائم اکیڈمی کی ضرورت ہے۔ اگرویمن کرکٹ اکیڈمی بن گئی تو پھر ہمیں ایک ایسی جگہ میسر آجائے گی جہاں ہم جب چاہئیں، جا کر پریکٹس کر سکیں گی اور ہمارے کوچز ہمیں ہر وقت دستیاب ہوں گے۔
سوال : یہ بتائیں کہ ویمن کھلاڑیوں کے کھیل میں مزید نکھار کس طرح لایا جا سکتا ہے؟
بسمہ معروف: وہ صرف اس صورت ممکن ہے جب مختلف ڈیپارٹمنٹ اپنی وومن کرکٹ ٹیمیں تشکیل دیں گے۔ جب فرسٹ کلاس کرکٹ ٹیموں کی تعداد بڑھے گی تو زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کو کھیلنے کاچانس ملے گا اور ان کو روزگار بھی میسر آئے گا تو وومن پلیئرز کی کارکردگی میں خودبخود نکھار آجائے گا۔ پاکستان میں ویمن کرکٹ کو فروغ دینے میں زرعی ترقیاتی بینک کا سب سے اہم ترین کردار ہے اب عمر ایسوسی ایٹس اور ساگا سپورٹس نے بھی ویمن کرکٹ ٹیمیں تشکیل دی ہیں یہ ایک مثبت قدم ہے۔ لہٰذا دوسرے اداروں کو بھی ان کی تقلید کرنی چاہیے زیادہ ٹیمیں ہوں گی تو زیادہ پلیئرز کو کھیلنے کے مواقع ملیں گے۔ اس سے والدین کو بھی ترغیب ملے گی کہ اگر ان کی بیٹی کرکٹ کے کھیل کو اپنا پروفیشن بنائے گی تو اس کو معاشی تحفظ ملے گا۔ تو اس سے زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کو کرکٹ کھیلنے کی ترغیب ملے گی۔ جب لڑکیاں کرکٹ کھیلیں گی تو ہی ان کے کھیل میں نکھار آئے گا۔
سوال : ماضی میں ویمن پلیئرز کو گراؤنڈ کی کمی کا شکوہ رہتا تھا لیکن اب کھلاڑی مطمئن ہیں؟
بسمہ معروف: خواتین کیلئے کرکٹ گراؤنڈ زاب بھی ناکافی ہیں۔ 2010 میں قومی وومن کرکٹ ٹیم نے ایشیئن گیمز میں گولڈ میڈل جیتاتھا تو خواتین کیلئے الگ سے گراؤنڈ کا اعلان ہوا تھا جس پر عمل گزشتہ برس ہوا ہے اب PCB گراؤنڈ کو اپ گریڈ کر رہا ہے۔ اگر حکومت خواتین کیلئے الگ سے گراؤنڈز فراہم کر دے تو نہ صرف کرکٹ بلکہ دیگر کھیلوں میں بھی خواتین دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر ملک و قوم کا نام روشن کریں گی۔
سوال : گراؤنڈز کی کمی کے حوالے سے آپ نے حکومت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگاہ کیا ہے؟
بسمہ معروف: جی بالکل میں نے خواتین کیلئے گراؤنڈز کی کمی کے حوالے سے ہر فورم پر آواز بلند کی ہے۔ PCB اور حکومت کو بھی اس اہم ترین مسئلے کے حوالے سے بتایا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ گراس روٹ لیول پر کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں کو صرف اسی صورت فروغ دیا جا سکتا ہے جب خواتین کیلئے الگ سے میدان بنیں گے۔ کیونکہ لڑکیاں جب خود کو زیادہ محفوظ محسوس کریں گی تو زیادہ محنت بھی کریں گی جس سے نہ صرف کھیلیں پھلے پھولیں گی بلکہ پلیئرز کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔
سوال : جب آپ نے کرکٹ کو بطور پروفیشن بنایاتھا تب تو خواتین کو ہمارے معاشرے میں اتنا زیادہ بطور پلیئر قبول نہیں کیا جاتا تھا اب کیا صورتحال ہے؟
بسمہ معروف: میں نے 2006 میں ڈیبیو کیا تھا تب واقعی کافی مشکلات کا سامناکرنا پڑتا تھا لیکن آج اس حوالے سے مشکلات کم ہیں۔ لوگوں میں شعور پیدا ہوا ہے والدین اب خود اپنی بیٹیوں کو گراؤنڈ میں لے کر آتے ہیں۔
سوال : جس عمر میں لڑکی کو کرکٹ کے کھیل کی سمجھ آتی ہے وہ میچور ہوتی ہے والدین اس کی شادی کر دیتے ہیں اور پھر وہ کھیلنا چھوڑ دیتی ہیں جس سے ایک پلیئر پر کی گئی برسوں کی محنت ضائع ہو جاتی ہے اس مسئلے کا حل کیسے ڈھونڈا جا سکتا ہے کہ لڑکی شادی کے بعد بھی کچھ عرصہ تک کھیل سے وابستہ رہ سکے؟
بسمہ معروف: اس حوالے سے معاشرے میں انقلابی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ میرے نزدیک خواتین کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ایک صحت مند ماں صحت مند قوم تیار کر سکتی ہے۔ لہٰذا جس گھر میں لڑکی شادی کے بعد جا رہی ہے ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لڑکیوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں میں شرکت سے روکنے کے بجائے شرکت کرنے کے مواقع فراہم کریں۔
سوال : پاکستان میں خواتین کوآگے بڑھنے کے جو مواقع میسر ہیں آپ ان سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
بسمہ معروف:خواتین آج بھی بے پناہ مسائل کا شکار ہیں۔ خواتین کو مساوی مواقع دیئے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ کھیل صحت مند معاشرے کی پہچان ہوتے ہیں بیرون ممالک سے دوستی کا رشتہ پروان چڑھانے اور رابطے بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ لہٰذا حکومت خواتین کیلئے کھیلوں میں آگے بڑھنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرے۔ کھیل چونکہ امن اور محبت کی علامت ہوتے ہیں اس لیے کھیلوں کو فروغ دے کر معاشرے میں تنگ نظری، انتہا پسندی پر مبنی سوچ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ پرُ امن اور صحت مند پاکستان خواتین کو کھیلوں میں زیادہ سے زیادہ مواقع دے کر دنیا کے نقشے پر ابھر سکتا ہے۔
سوال : آپ نے اپنا کیریئر عروج ممتاز کی کپتان میں شروع کیا تھااس کے بعدثناء میر کی قیادت میں آپ کاکیریئر آگے بڑھا ، آپ کسے بہترین کپتان قرار دیں گی؟
بسمہ معروف: ہر کپتان کا اپنا الگ سٹائل ہوتا ہے ٹیم کو لیڈ کرنے کا۔ ہر ایک کی یہی تمنا ہوتی ہے کہ کسی طرح پاکستان کی کامیابیوں کے گراف کو بلند کیا جائے۔ تو عروج ممتاز اور ثناء میر دونوں کی ہی اولین ترجیح پاکستان ٹیم کی فتح ہوتی تھی۔ دونوں کی سب سے بڑی کوالٹی یہی ہے کہ وہ اپنی ساتھی کرکٹرز کو اعتماد اور ذہنی طور پر مضبوط بنانے کیلئے ہمیشہ مثبت انداز میں سوچنے اور عمدہ کھیل پیش کرنے کے حوالے سے اکساتی تھیں۔
سوال : یہ بتائیں کہ آپ کے کھانے کا ذوق کیسا ہے؟
بسمہ معروف: کھانے میں نخرے بالکل بھی نہیں کرتی جو ملے اللہ کا شکر ادا کر کے کھا لیتی ہوں۔ چکن اور مٹن بریانی بڑے شوق سے کھاتی ہوں۔
سوال : فلموں سے کس حد تک لگاؤ ہے اور آپ کے پسندیدہ فلم سٹار کون سے ہیں؟
بسمہ معروف: فلموں سے زیادہ لگاؤ نہیں ہے کیونکہ کرکٹ کی مصروفیات کی وجہ سے بہت کم ٹائم ملتا ہے۔ اگر کبھی فرصت ملے تو کوئی سی بھی اچھی فلم دیکھ لیتی ہوں۔ شاہ رخ خان اور کترینہ کیف کی اداکاری پسند ہے۔ ’’کل ہو نہ ہو‘‘ پسندیدہ فلم ہے۔
سوال : میوزک سے کس حد تک لگاؤ ہے؟
بسمہ معروف: ٹائم ملے تو میوزک سے ضرور لطف اندوز ہوتی ہوں۔ زیادہ تر ری مکس اور فاسٹ ٹریک پسند ہیں۔ عاطف اسلم، راحت فتح علی خان اورجگجیت سنگھ کی آواز میں گائے ہوئے گانے اچھے لگتے ہیں۔
سوال : پاکستان میں ویمن کرکٹ کا مستقبل کیسا دیکھ رہی ہیں؟


بسمہ معروف:میں توپاکستان میں ویمن کرکٹ کا مستقبل روشن دیکھ رہی ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی اور پی سی بی کے سابق چیئرمین شہر یار خان سمیت دیگر عہدیداروں کی انتھک محنت کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ملک و قوم کیلئے ایک نیک شگون ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہونے کے بعد پاکستان میں کرکٹ کا مستقبل روشن ہو گیا ہے۔ ورلڈ الیون نے پاکستان کے دورے پر آکر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں کیلئے ایک پرُ امن ملک ہے۔ ورلڈ الیون کے خلاف سیریز کے دوران ہمارے تماشائیوں کا جوش و خروش دیدنی تھا جس نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی لوگ کرکٹ کے کھیل سے محبت کرتے ہیں اور کھلاڑیوں کی بے پناہ عزت کرتے ہیں۔ مجھے خوش ہے کہ اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ بہت جلد پاکستان میں دوسری بڑی ٹیمیں بھی آنا شروع ہو جائیں گی۔ کرکٹ ہمارے ملک کی عوام کا پسندیدہ کھیل ہے، کروڑوں پاکستانی کھیل کے شیدائی ہیں ان کا حق ہے کہ وہ گراؤنڈ میں جا کر میچز دیکھیں اور اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو کارکردگی دکھانے پر داد دیں۔ ہم بھی اپنے ملکی شائقین کو مس کرتے ہیں اور طویل عرصے بعد ملک کے سنسان گراؤنڈز آباد ہونے کی جتنی خوشی شائقین کو ہے اتنی مجھے بھی ہے۔میں یہاں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) سے مطالبہ کرنا چاہوں گی کہ آئی سی سی کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے تسلسل کو قائم رکھنے میں مدد کرے۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ میچز ہونے سے نوجوان نسل میں کرکٹ کے کھیل کو اپنا پروفیشن بنانے کا جذبہ پیدا ہو گا۔ جب پاکستان میں کھیلوں کے میدان آباد ہوں گے تو اس کے دو فائدے ہوں گے ایک تو ہسپتال ویران ہو جائیں گے اور دوسرا انتہا پسندی پر مبنی سوچ بھی ختم ہو جائے گی۔ میں سمجھتی ہوں کہ کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں کے فروغ سے دہشت گردی کوشکست دے کر معاشرے کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے کیونکہ کھیل امن، محبت، بھائی چارے اور رواداری کو فروغ دیتے ہیں۔
سوال : پاکستان میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے لڑکوں کی طرح لڑکیاں بھی اب اس کھیل کو اپنا پروفیشن بنانا چاہتی ہیں لیکن وہ خاندانی پابندیوں کی وجہ سے کرکٹ میں آگے نہیں آتی ان کیلئے آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
بسمہ معروف: ان لڑکیوں کے والدین کو پیغام دینا چاہوں گی کہ وہ اپنی بیٹیوں پر اعتماد کریں اور انہیں اچھے برے کی تمیز سکھا دیں تو کوئی مشکل نہیں ہو گی۔ میں سمجھتی ہوں کہ کوئی
بھی فیلڈ بری نہیں ہوتی آپ کو خود اپنے آپ کو ٹھیک رکھنا ہوتا ہے۔ کرکٹ تو بہت صحت مندانہ سرگرمی ہے۔ جس کو کھیلنے سے انسان سماجی برائیوں سے محفوظ رہتا ہے اور صحت اچھی رہتی ہے۔ سب سے بڑھ کر پاکستان کا نام روشن کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس لیے اگر لڑکیوں میں ٹیلنٹ ہے تو ان کو روکنے کے بجائے کھیلنے کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں تاکہ وہ اپنے ٹیلنٹ کے ذریعے ملک و قوم کا نام عالمی سطح پر روشن کر سکیں۔

30Shares

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!