لاہور قلندرز کے ہیڈکوچ عاقب جاوید مایوس


شارجہ(سپورٹس لنک رپورٹ) پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 30 سال سے کرکٹ سے وابستہ رہے ہین تاہم بیٹنگ میں بار بار ایک انداز میں ناکامی انہوں نے آج تک نہیں دیکھی۔خیال رہے کہ لاہور قلندرز کی ٹیم پی ایس ایل تھری میں اب تک پانچ میچ کھیل چکی ہے اور تمام ہی میچز میں اسے شکست کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔قلندرز کی بولنگ نے ٹورنامنٹ میں کہیں کہیں کچھ جان دکھائی ہے تاہم اس کی بیٹنگ تمام میچز میں ہی ناکام رہی ہے۔پشاور زلمی کے خلاف شکست کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عاقب جاوید ٹیم کی کارکردگی سے مایوس دکھائی دیے اور کہا کہ آپ ایک دو میچز کے بعد توقع رکھتے ہیں کہ ٹیم کی پرفارمنس بہتر ہوگی جیسا کہ کل کے میچ میں ہوا کہ دونوں ٹیموں نے اچھا کھیلا لیکن آج ہماری پرفارمنس پھر مایوس کن رہی۔ان کا کہنا تھا کہ تمام میچز میں ایک ہی طرح کا مسئلہ درپیش آرہا ہے، ہر کوئی جانتا ہے کہ لاہور قلندرز کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ابھی ٹورنامنٹ میں لاہور قلندرز کے پانچ میچز رہ گئے ہیں، آگے بہتر کارکردگی دینے کی کوشش کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ سختی کرنے سے چیزیں ٹھیک ہوجاتی ہیں، قومی ٹیم کے ساتھ کوچز کا رویہ مختلف ہوسکتا ہے کیوں کہ وہ ٹیم کے ساتھ ہی ہوتا ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہوسکتا کیوں کہ جو کھلاڑی یہاں کھیل رہے ہیں وہ سال میں چار، پانچ لیگز کھیلتے ہیں، آپ کو انہیں صرف مینج کرنا ہوتا ہے۔لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ ٹیم کو اچھا آغاز ملتا ہے لیکن ٹاپ آرڈر کا کوئی بھی بلے باز اننگز کو آگے لیکر نہیں چلتا، ان میں کم از کم ایک کھاڑی اچھے آغاز کے بعد اسے 70 رنز میں بدلے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی پرانی کہانی دہرائی گئی، آپ اپنے سینئر کھلاڑی جیسے برینڈن میکلم، فخز زمان، عمر اکمل، دنیش رامدین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ذمہ داری لیں۔انہوں نے کہا کہ فخر زمان کو پاور پلے ختم ہونے کے بعد اپنا انداز تبدیل کرنا چاہیے، آج کے میچ میں لائم ڈوسن کو ان کے خلاف اس لیے لایا گیا کہ وہ بڑا شاٹ کھیلیں۔ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں نے ایسی پرفارمنسز دینی ہیں جن سے ٹیم جیت سکے، وہ ٹیم کبھی نہیں جیت سکتی جس کا ایک بھی بیٹسمین بڑی اننگز نہ کھیل سکے۔عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ جب مخالف ٹیم صرف 100 رنز کے ہدف کا تعاقب کررہی ہو تو آپ کے بولرز بھی اوسط درجے کے لگتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر ٹیم اسی لیے کھیلتی ہے کہ کم بیک کرے اور ہم جب چھٹا میچ کھیلنے آئیں گے تو یقیناً یہ سوچ کر آئیں گے کہ ہمیں جیتنا ہے۔

0Shares

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!