ہاکی اکیڈمی کےکوچ کو سمگلنگ کےالزام پرایئرپورٹ پرروک لیاگیا

کراچی (سپورٹس لنک رپورٹ)ہاکی اکیڈمی کے کوچ کولاکھوں روپے مالیت کا سامان غیر قانونی طریقے سے اسمگل کرنے کے الزام پر ائیرپورٹ پرروک لیا، کوچ آل حسن ٹیم کے ساتھ لاکھوں مالیت کے آٹو پارٹس اور ڈھائی من پان لیکر آئے،خواتین کھلاڑیوں کے ٹکٹس پر سامان بک کرایا گیا ذرائع کسٹم حکام،تفصیلات کے مطابق کسٹم حکام نے تھائی لینڈ سے واپس آتی ہوئی کراچی یونیورسٹی ویمنز ہاکی ٹیم کے کوچ آل حسن کو لاکھوں روپے مالیت کا سامان غیر قانونی طریقے سے اسمگل کرنے کے الزام پر ائیرپورٹ پرروک لیا. ذرائع کے مطابق کوچ آل حسن کراچی یونیورسٹی ویمنز ہاکی ٹیم کو غیر قانونی طور پر بیرون ملک دورے پر لیکر گئے ہوئے تھے جہاں سے واپسی پر تھائی لینڈ سے لاکھوں مالیت کا سامان غیر قانونی طریقے سے اسمگل کررہے تھے.کسٹم حکام نے ٹیم کے سامان کی تلاشی لی توبغیرڈیوٹی اسمگلنگ کا سامان برآمد ہوا. سامان میں مبینہ طور پرلاکھوں روپے مالیت کے آٹو پارٹس اورڈھائی من پان وغیرہ شامل تھے جو کہ مذکورہ کوچ غیر قانونی طریقے سے اسمگل کررہے تھے.کوچ آل حسن کے ساتھ ٹیم کے ایک اور آفیشلز بھی کسٹم حکام کی تحویل میں ہےکوچ آل حسن جو کہ کراچی یونیورسٹی وومنز ہاکی ٹیم کے ساتھ ساتھ اولمپین اصلاح الدین،ایم اے شاہ ہاکی اکیڈمی کے بھی کوچ ہیں گذشتہ کئی سال سے مبینہ طور پرسمگلنگ میں ملوث ہیں جو کہ پاکستان سے بیرون ملک سپورٹس ٹیموں کی آڑ میں سامان کی غیرقانونی نقل و حرکت کے قبیح فعل میں ملوث تھے. جہاں قوم کی آنکھیں فتح کو ترس رہی ہیں وہاں ایک مخصوص سمگلنگ مافیا سے.پاکستان میں کھیلوں کی تنظیمیں بھی محفوظ نہیں. منی لانڈرنگ ہو یا پھیرے بازی، ثقافتی ٹور ہوں یا کھیلوں کے دستے کوئی بھی اس گندے دھندے سے محفوظ نہیں. بدنام زمانہ ماڈل گرل کے منی لانڈرنگ کیس کے بعد پاکستان کی کھیلوں کے دستوں میں بھی اب مافیا سرگرم نظر آتا ہے. پھیرے بازی، ہنڈی اور کھیپ بازی سے ملکی خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے.کسٹمزذرائع کے مطابق تھائی لینڈ سے پاکستان کیمرہ جات، ایل سی ڈیز، پانی اور الکوحل کی بوتلوں سمیت ممنوعہ نشہ آورادویات کھلاڑیوں کے سامان میں لائی جاتیں ہیں.اس مافیا کے سرگرم ممبران اپنے سہولت کاروں کی مدد سےاس قبیح فعل کے ذریعہ قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگا رہے ہیں. پاکستانی کھیلوں کے دستوں کے ذریعہ شان کے مصالحے، ہاکی کا سامان، اورمعروف مہنگے برانڈز کی گھڑیوں کی فرسٹ کاپی کھیپ کی صورت میں بھجوائی جاتی ہے اور کھلاڑہوں کو علم بھی نہیں ہوپاتا کہ اس سامان میں کیا ہے اور کس مقصد کے لئے لایا یا لے جایا جارہا ہے. چور بازاری اور پھیرے بازی کے اس گندے کھیل میں کئی پردہ نشینوں کے نام سامنے آنے والے ہیں جن میں معروف اولمپین ، انٹرنیشنل کھلاڑیوں اور فیڈریشن کے اعلیٰ عہدیداران کے علاوہ کسٹم کے محکمہ سے وابسطہ افراد بھی شامل ہیں

0Shares

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!