
بنیاد سے عروج تک – پی سی بی کا سکول کرکٹ ماڈل، تمام کھیلوں کے لیے مشعلِ راہ۔
تحریر: کھیل دوست/شاھدالحق
پاکستان میں کھیلوں کی ترقی ہمیشہ سے ایک بڑا سوالیہ نشان رہی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے یہ راز سمجھ لیا ہے کہ کھیلوں کی جڑیں اگر مضبوط ہوں تو مستقبل کے چیمپئن پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔
آسٹریلیا اور امریکہ جیسے ممالک نے اپنی کھیلوں کی بنیاد سکولوں اور کالجوں میں رکھی، جہاں ہر کھلاڑی کا ریکارڈ، تربیت اور موقع ایک شفاف نظام کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ملکوں کے کھلاڑی عالمی سطح پر کارکردگی دکھاتے ہیں اور مستقل کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ عبداللہ خرم نیازی نے حال ہی میں سکول کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک شاندار منصوبے کا اعلان کیا ہے جو بلاشبہ پاکستان کرکٹ کی جڑوں کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک بہترین قدم ہے۔
اس منصوبے کے تحت ملک بھر کے 39 اضلاع کے 400 سکولز میں 40 اوورز کے میچز کھیلے جائیں گے، جس کے بعد دوسرے مرحلے میں 100 منتخب سکولز کے درمیان مقابلے ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ پی سی بی 168 سکولوں کے گراؤنڈز کو اپ گریڈ کرے گا تاکہ بچوں کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔ جیتنے والی ٹیموں کو نہ صرف بیرون ملک کھیلنے کا موقع دیا جائے گا بلکہ انڈر 15 اور انڈر 17 کھلاڑیوں کی براہ راست سلیکشن بھی انہی ٹورنامنٹس کے ذریعے ہوگی۔
یہ پروگرام اپنی نوعیت کا انوکھا اور امید افزا ہے، مگر اس کی اصل کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ سلیکشن اور کوچنگ کے عمل میں مکمل شفافیت لائی جائے۔ پاکستان میں ہمیشہ سے سفارش، اقربا پروری اور فیورٹ ازم نے گراس روٹ سطح پر ٹیلنٹ کو دبایا ہے۔
اگر ہم واقعی مستقبل کے عالمی معیار کے کرکٹرز پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کلچر کو ختم کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے میری تجویز ہے کہ ہر میچ پر سینئر کرکٹرز کو بطور مہمان بلایا جائے تاکہ بچے اپنے ہیروز کو سامنے دیکھ کر مزید محنت اور جوش کے ساتھ کھیلیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو سرٹیفکیٹ، کیش انعامات اور سالانہ وظائف دیے جائیں تاکہ وہ خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
کوچز اور سکولوں کے اسپورٹس ٹیچرز کی بھی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ ان کے لیے تربیتی پروگرام اور مالی معاونت کا بندوبست ہونا چاہیے تاکہ وہ زیادہ جانفشانی اور لگن سے اپنے شاگردوں کی رہنمائی کریں۔
سکول ٹورنامنٹ کے فاتح اداروں کو ایک خصوصی جھنڈا اور اس کا ڈیسک ماڈل دیا جانا چاہیے تاکہ یہ ان کے لیے ایک مستقل اعزاز بن جائے۔ یہ سب اقدامات زیادہ خرچ طلب نہیں مگر ان کے اثرات برسوں تک قائم رہیں گے۔
اگر پی سی بی اس پروگرام کو شفافیت، بہترین گورننس اور خود احتسابی کے اصولوں کے ساتھ جاری رکھتا ہے تو یہ صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ پاکستان کے دیگر کھیلوں کے لیے بھی ایک ماڈل بن سکتا ہے۔
کھیل وہ سرمایہ ہیں جو قوموں کو دنیا میں پہچان دلاتے ہیں اور پاکستان کے بچے دنیا کے بہترین ٹیلنٹ میں کسی طرح کم نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں مواقع اور صحیح سمت فراہم کی جائے۔
تحریر: شاہد الحق ; (سپورٹس فیلنتھراپسٹ، سابق نیشنل باسکٹ بال پلیئر، فٹنس کوچ آف نیشنل ٹیمز، فری لانس اسپورٹس رائٹر اور جرنلسٹ، سی ای او/ہوسٹ SPOFIT چینل) Email: spofit@gnail.com



