فٹ بال

کامیابی کی گونج، خاموشی کا سوال: خیبرپختونخوا میں نمبر ون فٹبال کوچ کی نظراندازی کیوں؟

جب عزت سرحدوں سے باہر ملے، اور اپنے صوبے میں خاموشی رہے، چہ معنی دارد؟

کامیابی کی گونج، خاموشی کا سوال: خیبرپختونخوا میں نمبر ون فٹبال کوچ کی نظراندازی کیوں؟

جب عزت سرحدوں سے باہر ملے، اور اپنے صوبے میں خاموشی رہے، چہ معنی دارد؟

رپورٹ ؛ غنی الرحمن

خیبرپختونخوا میں کھیلوں کے فروغ کے دعوے اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ ایک ایسا صوبہ جو کھلاڑی کے نام پر قائم حکومت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے،

وہاں ایک باصلاحیت کھلاڑی اور بین الاقوامی معیار کے کوالیفائیڈ کوچ کی مسلسل نظراندازی کھیلوں کے نظام پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے موجودہ نمبر ون فٹبال کوچ، قومی فٹبال ٹیم کے سابق کپتان اور انٹرنیشنل کوالیفائیڈ کوچ محمد ارشد کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔

وہ کوچ جن کی خدمات کے اعتراف میں ملک کے مختلف ادارے اور ڈیپارٹمنٹس انہیں خطیر ماہانہ معاوضے پر حاصل کرنے کے خواہاں ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے صوبے خیبرپختونخوا کو ہمیشہ ترجیح دی۔

بدقسمتی سے، صوبے میں بار بار انتظامی رکاوٹوں اور عدم تعاون کے باعث حالات یہاں تک پہنچے کہ نیشنل گیمز میں خیبرپختونخوا کی فٹبال ٹیم کوالیفائی نہ کر سکی۔ یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ وہی کوچ، جنہیں صوبائی سطح پر نظرانداز کیا گیا،

نے ایک ایسی ٹیم کو کراچی میں منعقدہ 35ویں ننیشنل گیمز کا چیمپئن بنایا جس کے بارے میں کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا کہ وہ اس سطح تک پہنچ سکے گی۔

صرف یہی نہیں بلکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام منعقدہ نیشنل یوتھ ٹیلنٹ پروگرام کے تحت کھیلے جانے والے فٹبال ٹورنامنٹ میں بھی محمد ارشد کوچنگ میں بھی خیبرپختونخوا کی فٹبال ٹیم نے گولڈ میڈل حاصل کیا اور یہ بھی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہواہے کہ خیبرپختونخوا ٹیم نے گولڈ جیتاہوں،

پاکستان ایئر فورس کی فٹبال ٹیم جو ماضی میں فائنل تک پہنچنے میں بھی مسلسل ناکام رہی، محمد ارشد کی پیشہ ورانہ کوچنگ، جدید حکمتِ عملی اور محدود وسائل کے باوجود نیشنل گیمز کی چیمپئن بن کر ابھری۔ یہ کامیابی محض ایک ٹرافی نہیں بلکہ کوچنگ کے معیار، وژن اور صلاحیت کا عملی ثبوت ہے۔

اس شاندار کامیابی پر پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر محسن گیلانی سمیت ملکی و بین الاقوامی فٹبال حلقوں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جو اس بات کا اعتراف ہیں کہ محمد ارشد آج پاکستان کے صفِ اول کے کوچز میں شمار ہوتے ہیں۔

تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی محکمہ کھیل خیبرپختونخوا اور متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل یا حوصلہ افزائی سامنے نہیں آئی۔ کھیلوں سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے کوچز کو بروقت عزت، اعتماد اور مواقع فراہم کیے جائیں تو صوبہ نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔

اس بات کی نشاندہی کسی فرد یا ادارے کو ہدفِ تنقید بنانے کے بجائے، ایک وسیع تر نظامی مسئلے کی نشاندہی ہے۔ کھیل صرف نعروں سے نہیں، بلکہ اہل لوگوں کو آگے لانے، ان کی عزت افزائی اور تجربے سے فائدہ اٹھانے سے فروغ پاتے ہیں۔

اگر خیبرپختونخوا واقعی کھیلوں میں قیادت کا خواب رکھتا ہے تو ضروری ہے کہ صلاحیت کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر تسلیم کیا جائے، تاکہ محمد ارشد جیسے کوچز کی کامیابیاں صوبے کی پہچان بنیں، نہ کہ خاموش سوال۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!