دیگر سپورٹسمضامین

پاکستان اسپورٹس بورڈ کے نئے قواعد: شفافیت، مدت کی حدود اور کھیلوں کے بیوروکریسی کا کھیل

پاکستان اسپورٹس بورڈ کے نئے قواعد: شفافیت، مدت کی حدود اور کھیلوں کے بیوروکریسی کا کھیل

مسرت اللہ جان

پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) نے حال ہی میں قومی اسپورٹس فیڈریشنز کے آفس بیئررز کے لیے نئے قوانین نافذ کیے ہیں۔ بظاہر یہ اقدامات کھیلوں کے شعبے میں شفافیت اور بہتر انتظام کے لیے ضروری لگتے ہیں،

مگر پاکستان کی کھیلوں کی بیوروکریسی کو دیکھیں تو یہ قوانین عملی طور پر ایک الگ کھیل لگ سکتے ہیں۔نئے قوانین کے مطابق، ہر آفس بیئرر زیادہ سے زیادہ دو مدتیں (ہر مدت چار سال) ایک ہی عہدے پر رہ سکتا ہے،

یعنی زیادہ سے زیادہ آٹھ سال۔ ایک شخص ایک وقت میں دوسری فیڈریشن میں عہدہ نہیں رکھ سکتا، سوائے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے۔ آفس بیئرر کی زیادہ سے زیادہ عمر 70 سال ہوگی۔

فیڈریشن میں سب سے اعلیٰ عہدہ صرف صدر کا ہوگا۔ کوئی اور اعلیٰ عہدہ نہیں۔ خالی عہدے انتخابات کے ذریعے بھری جائیں گے، اور منتخب ہونے والا صرف باقی مدت کے لیے خدمات انجام دے گا۔

اگر قوانین کی خلاف ورزی کی جائے تو ڈائریکٹر جنرل پابندیاں عائد کر سکتے ہیں، جن میں چار سے چھ سال تک عہدہ رکھنے کی پابندی اور مراعات سے محرومی شامل ہے۔ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے نام PSB کی ویب سائٹ پر شائع ہوں گے۔

تمام فیڈریشنز کو 90 دن میں نئے ڈھانچے کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، ورنہ فنڈز روک دیے جائیں گے اور بورڈ سے الحاق کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ اقدام شفافیت اور ذمہ داری کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔

PSB نے خصوصی اسائنمنٹس اور مالیاتی شفافیت کے لیے بھی نئے قوانین جاری کیے ہیں۔ DG کو اختیار ہے کہ وہ کسی بھی فرد کو قومی اہمیت کے ایونٹس، کمیٹیوں یا دیگر ذمہ داریوں کے لیے مدعو یا نامزد کریں، بشرطیکہ فرد کی رضامندی ہو۔

منتخب کھلاڑی، کوچ اور ماہرین کو صرف مخصوص اسائنمنٹ کے دوران BPS-17 سے BPS-21 کے افسر کے مساوی مراعات دی جا سکتی ہیں، جیسے سفر، روزانہ الاونس اور ہوائی کرایہ۔

تمام مالیاتی لین دین دو مجاز دستخط کنندگان کے ذریعے ہوں گے، اور نقد رقم 25,000 روپے تک محدود ہوگی۔ تنظیمیں سالانہ آزاد آڈٹ کروائیں گی اور آڈٹ شدہ مالی بیانات عام طور پر شائع کریں گی۔ PSB کسی بھی وقت مالی ریکارڈز کا معائنہ کر سکتا ہے۔

فنڈز کے غلط استعمال یا غیر شفاف عمل کی صورت میں گرانٹس معطل یا قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی گرانٹ غیر خرچ شدہ رہ جائے تو 30 دن کے اندر PSB کو واپس کرنا ہوگانئے قوانین کے مطابق کیمپ میں شامل افراد:

کھلاڑی، کوچ، ریفری، ڈاکٹر، فزیو، ماہرین، ویڈیو اینالسٹ، مینیجر یا دیگر افراد جنہیں DG کی منظوری حاصل ہو۔ ڈیلیگیشن کے افراد: وہ جو بین الاقوامی ایونٹس میں ملک کی نمائندگی کے لیے نامزد ہوں۔

ادارہ (Entity): کھیلوں سے متعلق تمام تنظیمیں جو قومی یا صوبائی سطح پر کام کرتی ہیں۔ مالی امداد یا گرانٹس: PSB کی طرف سے فراہم کردہ فنڈز۔ میگا اسپورٹس ایونٹس:

اولمپکس، ایشین گیمز، کامن ویلتھ گیمز، اسلامی سولیڈیریٹی گیمز، ساوتھ ایشین گیمز وغیرہ۔ بین الاقوامی چیمپئن شپ: کسی کھیل کی عالمی، ایشیائی یا ساوتھ ایشیائی چیمپئن شپ یا کوالیفیکیشن۔ یونفارم: بلیزر، پینٹس، قمیض، ٹائی، ٹریک سوٹ، جوتے وغیرہ جو باضابطہ نمائندگی کے لیے ضروری ہیں۔

PSB نے مالی امداد یا گرانٹس کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے، جس میں DG کمیٹی کے کنوینر ہوں گے، فنانس اور ٹیکنیکل ونگ کے افسران ممبر ہوں گے، اور DG تمام انتظامی اور مالی فیصلوں کی منظوری دینے کے مجاز ہوں گے۔

یہ قوانین سنجیدہ اور نیک نیتی کے حامل ہیں، مگر پاکستان کے کھیلوں کی بیوروکریسی کے پیش نظر، عملی نفاذ میں مزاحیہ مناظر بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض لوگ “آنری پوزیشنز” یا چھپی ہوئی فیڈریشنیں بنا کر قوانین کے گرد گھوم سکتے ہیں۔

ذہن میں ایک منظر یہ آتا ہے کہ آڈٹ کمیٹی مالی ریکارڈ چیک کر رہی ہو اور کوچ دلیل دے رہا ہو کہ اس کا ذاتی الاونس “ذہنی تیاری” کے لیے ضروری ہے۔ یا سینئر آفس بیئرر 70 سال سے زیادہ عمر کا دعویٰ کرے کہ عمر صرف ایک نمبر ہے اور وہ عہدہ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

مزاح کے باوجود، اگر قوانین سختی سے نافذ ہوں تو مدت کی حدود، مالی شفافیت، اور جمہوری انتخاب واقعی کھیلوں کے شعبے میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

کیمپ، ڈیلیگیشن، اور یونیفارم کی وضاحت بین الاقوامی مقابلوں میں شراکت کو منظم کرنے میں مددگار ہوگی۔آخرکار، یہ قوانین ایک نادر امتزاج ہیں: حکمرانی، نیک نیتی، اور غیر ارادی مزاح۔ اگر موثر طور پر نافذ کیے جائیں تو پاکستان کے کھیلوں میں شفافیت، مساوات اور بین الاقوامی سطح پر بہتر نمائندگی ممکن ہوگی۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!