ہاکی

ہاکی فیڈریشن نے طاہر زمان سے معذرت کی یا ہیڈ کوچ نے خود مصر جانے سے انکار کیا،اصل حقیقت کیا ہے۔؟

ہاکی فیڈریشن نے طاہر زمان سے معذرت کی یا ہیڈ کوچ نے خود مصر جانے سے انکار کیا،

اصل حقیقت کیا ہے۔؟

اسلام آباد: پاکستان ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ طاہر زمان نے قومی ٹیم کے کپتان عماد بٹ کو اسکواڈ میں شامل کرنے کے فیصلے کے بعد قاہرہ (مصر) میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر کے لیے ٹیم کے ہمراہ جانے سے انکار کیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے اڈہاک صدر محی الدین احمد وانی سے طاہر زمان کی قیادت میں ٹیم مینجمنٹ کے ایک وفد نے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران صدر پی ایچ ایف کو پاکستان ہاکی ٹیم کے حالیہ دورہ جات ارجنٹائن، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں ٹیم کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور بعض انتظامی معاملات میں کوتاہیوں پر کھل کر بات کی گئی اور آئندہ کے لیے اصلاحات پر مبنی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

اجلاس میں اڈہاک صدر پی ایچ ایف نے مینجمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ قاہرہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر کے لیے ٹیم کے ساتھ روانہ ہوں اور کیمپ جوائن کریں۔ تاہم کوچ سمیت ٹیم منیجمنٹ نے عماد بٹ کی ٹیم میں شمولیت پر اعتراض لگاتے ہوئے جانے سے انکار کر دیا۔۔

واضح رہے کہ عماد بٹ پر سابق صدر پی ایچ ایف کی جانب سے دو سالہ پابندی عائد کی گئی تھی، جسے موجودہ اڈہاک صدر محی الدین احمد وانی نے عہدہ سنبھالتے ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کپتان عماد بٹ کی پابندی ختم کرکے انہیں دوبارہ ٹیم میں شامل کیے جانے کے فیصلے پر ہیڈ کوچ طاہر زمان نے اختلاف کیا اور اسی وجہ سے انہوں نے مصر جانے سے انکار کر دیا۔

بعد ازاں وفد نے اڈہاک صدر پی ایچ ایف سے درخواست کی کہ انہیں آئندہ دوروں میں بہتری، نظم و ضبط اور کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ ترقی کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ تیار کرنے کی اجازت دی جائے۔

اڈہاک صدر محی الدین احمد وانی نے یہ درخواست منظور کرتے ہوئے مینجمنٹ ٹیم کو موجودہ دورے کے ساتھ جانے کے بجائے فیڈریشن کی رہنمائی کے لیے مفصل رپورٹ تیار کرنے کی اجازت دے دی۔

اس طرح واضح طور پر یہ صورتحال سامنے آئی ہے کہ ہیڈ کوچ طاہر زمان نے کپتان عماد بٹ کی ٹیم میں شمولیت کے فیصلے کے باعث قاہرہ روانگی سے انکار کیا۔

یار رہے کہ آسٹریلیا دورہ سے واپسی پر کپتان عماد بٹ نے ٹیم منیجمنٹ پر ناقص انتظامات پر شدید تنقید کی تھی۔۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!