فٹ بال

ڈی ایف سی 2026 سے قبل پی ایف ایف کا پنجاب کے کوچز کے لیے انجریز سے بچاؤ کی ورکشاپ کا انعقاد

ڈی ایف سی 2026 سے قبل پی ایف ایف کا پنجاب کے کوچز کے لیے انجریز سے بچاؤ کی ورکشاپ کا انعقاد

پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے انجری پریوینشن اینڈ مینجمنٹ ورکشاپ کے پہلے سیشن کا انعقاد کیا، جس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے کوچز نے آن لائن شرکت کی۔ یہ ورکشاپ ڈسٹرکٹ فٹبال چیمپئن شپ (ڈی ایف سی) 2026 کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقد کی جا رہی ہے۔

مفت آن لائن ورکشاپ ڈی ایف سی 2026 کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ساؤتھ ایشین فٹبال فیڈریشن (ساف) کی معاونت سے جاری پی ایف ایف کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد نچلی سطح اور ضلعی سطح پر کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود، صحت، تحفظ اور سیف گارڈنگ کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔

ورکشاپ کی قیادت پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم کے فزیوتھراپسٹ ڈاکٹر عدنان محمد نے کی۔ انہوں نے انجریز سے بچاؤ کی اہمیت، دنیا بھر میں فٹبال کے نظام میں اس طریقہ کار کے بڑھتے ہوئے استعمال اور انجریز کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کوچز کی جانب سے اختیار کیے جانے والے عملی اقدامات پر روشنی ڈالی۔

سیشن میں خصوصی طور پر پری کمپیٹیشن اسیسمنٹ (Pre-Competition Assessment) کی اہمیت پر بات کی گئی، جو دنیا کے بڑے فٹبال کلبز اور پروگرامز میں باقاعدگی سے اختیار کیا جانے والا طریقہ ہے۔

ڈاکٹر عدنان نے بتایا کہ مقابلے سے قبل کھلاڑیوں کی طبی جانچ کے ذریعے ممکنہ انجریز یا جسمانی مسائل کی بروقت نشاندہی کی جاسکتی ہے، جس کے بعد کھلاڑی کو میدان میں اتارنے سے پہلے مناسب ری ہیبلیٹیشن کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کی قومی ٹیم کے کیمپس میں بھی انہی اصولوں کو اپنایا جاتا ہے، جہاں کھلاڑیوں کی پری کمپیٹیشن میڈیکل اسیسمنٹ (PCMA) کی جاتی ہے۔

اس عمل کے دوران سامنے آنے والی کسی بھی انجری یا طبی مسئلے کی صورت میں کھلاڑی کے لیے ری ہیبلیٹیشن پروگرام شروع کیا جاتا ہے، تاکہ مقابلے سے قبل اسے مکمل طور پر فٹ کرنے میں مدد مل سکے۔

ڈاکٹر عدنان نے کہا، “انجری پریوینشن صرف انجری ہوجانے کے بعد اس کے علاج کا نام نہیں۔ اس کا مقصد خطرات کی بروقت نشاندہی کرنا اور کھلاڑی کے مقابلے میں اترنے سے پہلے درست اقدامات کرنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے فٹبال کلبز اور پروگرامز اس عمل کو اتنی اہمیت دیتے ہیں، اور یہ ضروری ہے کہ ہمارے کوچز بھی اسے اپنی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے طریقہ کار کو سمجھیں۔”

ورکشاپ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ منظم طبی جانچ اور رسک مینجمنٹ کس طرح کھلاڑیوں کی صحت اور ان کی طویل مدتی ترقی میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

ڈی ایف سی کا آغاز پنجاب سے ہونے کے باعث پہلے سیشن میں صوبے کے کوچز کو شامل کیا گیا۔

ملک کے دیگر حصوں کے کوچز کے لیے مزید سیشنز خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کے بعد بلوچستان اور گلگت بلتستان کے لیے منعقد کیے جائیں گے، تاکہ ملک بھر کے کوچز کو انجری پریوینشن اور کھلاڑیوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے یکساں رہنمائی فراہم کی جاسکے۔

پی ایف ایف کے چیف آپریٹنگ آفیسر محمد شاہد نیاز کھوکھر نے کہا کہ یہ اقدام ملک بھر میں فٹبال کے نظام کے ہر درجے پر پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے کے عزم کا عکاس ہے۔

انہوں نے کہا، “فٹبال کی ترقی کا مطلب ان لوگوں کی ترقی بھی ہے جو اس کھیل کو ممکن بناتے ہیں۔

ہمارے کوچز کے لیے کھلاڑیوں کی فنی صلاحیتیں نکھارنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور فلاح و بہبود کے تحفظ کا علم بھی ضروری ہے۔ یہ ورکشاپ ضلعی سطح پر کھلاڑیوں کی نگہداشت کے بہتر معیار کو متعارف کرانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!