رضا اللہ ٹیسٹ ڈیبیو پر تیز ترین نصف سنچری بنانیوالے پاکستانی بیٹر بن گئے،
چھکوں کا عالمی ریکارڈ بھی برابر کر دیا

رضا اللہ ٹیسٹ ڈیبیو پر تیز ترین نصف سنچری بنانیوالے پاکستانی بیٹر بن گئے،
چھکوں کا عالمی ریکارڈ بھی برابر کر دیا
جسے انگلینڈ کے خلاف گیند سے کمال دکھانا تھا، اس نے بلے سے ایسا طوفان برپا کردیا کہ ٹیسٹ کرکٹ کا عالمی ریکارڈ برابر ہوگیا۔ رضا اللہ نے ڈیبیو پر 9 چھکے لگا کر تہلکہ مچا دیا۔
برمنگھم ٹیسٹ میں ڈیبیو کرنے والے پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر رضا اللہ نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کئی ریکارڈ برابر کر ڈالے۔ انہوں نے 9 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 63 گیندوں پر 81 رنز بنائے۔
انگلینڈ کے خلاف برمنگھم ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان کی دوسری اننگز شدید دباؤ میں تھی، لیکن نچلے نمبروں کے بیٹرز نے ایسی مزاحمت دکھائی کہ میچ کا نقشہ ہی بدل گیا۔
اسی دوران ڈیبیو کرنے والے فاسٹ بولر رضا اللہ نے انگلش بولرز کی خوب خبر لی اور صرف 63 گیندوں پر 81 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل ڈالی۔رضا اللہ کی اننگز میں 4 چوکے اور 9 چھکے شامل تھے،
انہوں نے انگلینڈ کے تیز گیند باز جوفرا آرچر کو بھی چھکے رسید کیے۔9 چھکے لگاتے ہی رضا اللہ نے ٹیسٹ ڈیبیو پر سب سے زیادہ چھکے لگانے کا عالمی ریکارڈ برابر کردیا۔
اس سے قبل نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر ٹم ساؤتھی نے 2008 میں انگلینڈ کے خلاف اپنے ٹیسٹ ڈیبیو پر 9 چھکے لگائے تھے۔
رضا اللہ نے صرف چھکوں کا ریکارڈ ہی برابر نہیں کیا بلکہ 43 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کرکے ٹیسٹ ڈیبیو پر تیز ترین نصف سنچری بنانے والے پاکستانی بیٹر کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ فہیم اشرف کے پاس تھا، جنہوں نے 2018 میں ڈیبیو پر 52 گیندوں پر ففٹی بنائی تھی۔
رضا اللہ کی جارحانہ بیٹنگ کی خاص بات یہ بھی رہی کہ وہ فاسٹ بولر ہونے کے باوجود انگلش اٹیک کے خلاف بالکل بے خوف نظر آئے۔ ان کی اننگز نے پاکستان کو اس وقت سہارا دیا جب ٹیم اننگز کی شکست کے خطرے سے دوچار تھی۔
رضا اللہ نے محمد عباس کے ساتھ مل کر اہم شراکت داری قائم کی۔ محمد عباس نے بھی 42 رنز بنا کر بھرپور مزاحمت کی اور پاکستان کو دوسری اننگز میں 449 رنز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رضا اللہ نے اپنی ایک ہی اننگز میں اتنے چھکے لگا دیے جتنے انگلینڈ کے لیجنڈری بلے باز سر جیفری بوائیکاٹ نے اپنے پورے 108 ٹیسٹ میچز کے کیریئر میں لگائے تھے۔
رضا اللہ کی اس غیر معمولی اننگز نے نہ صرف پاکستان کو اننگز کی شکست سے بچایا بلکہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کے پہلے ہی دن انہیں ریکارڈ بک میں بھی شامل کردیا۔



