جوہانسبرگ (سپورٹس لنک رپورٹ ) جنوبی افریقی بیٹسمین ابراہام ڈویلیئرز بائیں گھٹنے میں انجری کے باعث بھارت کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز سے باہر ہوگئے۔
کرکٹ جنوبی افریقہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ماہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل ڈویلیئرز کو آرام کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ مکمل صحت یاب ہو کر پانچ روزہ میچوں میں شرکت کر سکیں۔
ٹیم منیجر ڈاکٹر موسیٰ جی نے بتایا کہ ڈویلیئرز کو پانچویں ون ڈے سے قبل بیٹنگ کرتے ہوئے گھٹنے پر گیند لگی اگرچہ انہوں نے فٹنس ٹیسٹ پاس کر لیا تاہم میچ کے دوران انجری میں اضافہ ہوگیا۔
جوہانسبرگ(سپورٹس لنک رپورٹ)جوہانسبرگ میں کھیلے جانے والے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے پہلے کرکٹ میچ میں انڈیا نے میزبان جنوبی افریقہ کو 28 رنز سے شکست دے دی ہے۔
وانڈررز کے میدان پر کھیلے جانے والے اس میچ میں جنوبی افریقہ کی ٹیم 204 رنز کے ہدف کے تعاقب میں مقررہ 20 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز ہی بنا سکی۔
انڈیا کی طرف سے بھونیشور کمار نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے چار اوورو میں صرف 24 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
بھونیشور کے آخری اور جنوبی افریقہ کی اننگز کے 18ویں اوور میں تین کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔
انڈیا کے دورہ جنوبی افریقہ کے بارے میں یہ بھی پڑھیے
جنوبی افریقہ کی جانب سے نوجوان اوپنر ریزا ہینڈرکس نے 70 رنز کی اننگز کھیلی لیکن وہ اپنی ٹیم کو جیت نہ دلا سکے۔ ہینڈرکس کے علاوہ بہاردین نے 39 رنز سکور کیے۔
اس سے قبل انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 203 رنز بنائے۔
انڈیا کی جانب سے شکھر دھون نے 39 گیندوں پر 72 رنز کی اننگز کھیلی۔
میچ کے آغاز پر ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ نے پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا لیکن انڈین بلے بازوں نے یہ فیصلہ غلط ثابت کر دیا۔
دھون کے علاوہ دیگر کھلاڑی لمبی اننگز تو نہ کھیل سکے لیکن انھوں نے انڈین اوپنر کا ساتھ دیا اور پہلی مرتبہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 200 کا ہندسہ عبور کیا۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے اپنا پہلا میچ کھیلنے والے سی جے ڈالا نے دو وکٹیں حاصل کیں۔
دورہ جنوبی افریقہکے دوران اس سے پہلے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں جنوبی افریقہ نے 2-1 سے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ چھ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں انڈیا نے جنوبی افریقہ کو باآسانی 5-1 سے ہرا دیا تھا۔
دوسرا ٹی ٹوئنٹی 21 فروری کو سنچورین جبکہ آخری ٹی ٹوئنٹی 24 فروری کو کیپ ٹاؤن میں کھیلا جائے گا۔
جوہانسبرگ (سپورٹس لنک رپورٹ)کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے بھارت کیخلاف شیڈول ٹی ٹونٹی سیریز کیلئے سکواڈ کا اعلان کر دیا، ہینرچ کلاسن، جونیئر ڈالا اور کرسٹیان جونکر پہلی بار سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ، جے پی ڈومینی ٹیم کی قیادت کریں گے جنہیں فاف ڈوپلیسز کی جگہ یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے ، ڈوپلیسز بھارت کے خلاف پہلے و ن ڈے میچ کے دوران انجری کا شکار ہو گئے تھے اور ان دنوں بحالی صحت کے عمل سے گزر رہے ہیں، آسٹریلیا کے خلاف شیڈول چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پیش نظر سینئر بلے باز ہاشم آملا، ایڈن مارکرم اور لیگ سپنر عمران طاہر کو ڈراپ کر دیا گیا ہے ۔ جنوبی افریقہ اور بھارت کے درمیان تین ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کا آغاز 18 فروری سے ہو گا۔ اعلان کردہ سکواڈ جے پی ڈومینی(کپتان )، فرحان بہردین، جونیئر ڈالا، ڈی ویلیئرز، ریزا ہینڈرکس، کرسٹیان جونکر، ہینرچ کلاسن، ڈیوڈ ملر، کرس مورس، ڈین پیٹرسن، ایرن فانگیسو، اینڈائل پہلک وایو، تبریز شمسی اور جان سمٹس پر مشتمل ہے ۔یاد رہے کہ بھارتی ٹیم اس وقت طویل دورہ جنوبی افریقہ پرہے جہاں اسے ٹیسٹ سیریز میں 2-1 سے شکست ہوئی جبکہ 6ون ڈے میچوں کی سیریز میں اس نے 4-1 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے ۔
جوہانسبرگ(سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستانی نژاد جنوبی افریقہ کے اسپنر عمران طاہر نے ایک روزہ میچ کے دوران بھارتی شائق پر نسلی تعصب پر مبنی جملے کسنے کا الزام لگایا ہے۔
جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے مطابق عمران طاہر کو نامعلوم شخص نے بھارت کے خلاف جاری ایک روزہ میچز کی سیریز کے چوتھے میچ کے دوران نسلی تعصب کا نشانہ بنایا۔
کرکٹر کی جانب سے گراؤنڈ سیکورٹی کو شکایت کے بعد شائق کو گراؤنڈ سے باہر نکال دیا تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
جنویی افریقی بورڈ کے مطابق زیر گردش ویڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ عمران طاہر نے مذکورہ شخص یا بچے سمیت کسی سے کوئی بدتمیزی نہیں کی ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان یہ میچ جوہانسبرگ میں 10 فروری کو کھیلا گیا جس میں بھارتی ٹیم کو 5 وکٹوں سے شکست ہوئی ہے جب کہ عمران طاہر میدان میں اترنے والے گیارہ کھلاڑیوں میں شامل نہیں تھے اور 12ویں کھلاڑی کی حیثیت سے میچ میں حصہ لے رہے تھے۔
یاد رہے کہ نسلی تعصب برتنے پر آئی سی سی قانون کے مطابق مذکورہ شخص کو پابندی اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جوہانسبرگ(سپورٹس لنک رپورٹ)جنوبی افریقہ نے انڈیا کے خلاف جوہانسبرگ میں کھیلے جانے والے اپنے ‘پنک ڈے میچ’ میں جیت حاصل کرکے گلابی جرسی میں نہ صرف ناقابل شکست ہونے کا ریکارڈ برقرار رکھا بلکہ اس سیریز کو نئی زندگی عطا کی۔
اس سے قبل جنوبی افریقہ نے سات میچز گلابی جرسی میں کھیلے اور ساتوں میں کامیابی حاصل کی۔
خیال رہے کہ ’پنک ون ڈے‘ انٹرنیشنل جنوبی افریقہ کے کرکٹ کیلنڈر میں مخصوص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کھلاڑی، سٹیک ہولڈرز اور مداح بریسٹ کینسر کے لیے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں۔
اس میچ میں اکٹھا ہونے والے فنڈ سے جوہانسبرگ کے شارلٹ میکزیکے ہسپتال کے بریسٹ کيئر سینٹر کی امداد کی جائے گی۔
سنیچر کو وانڈررز میں کھیلے جانے والے سیریز کے چوتھے میچ میں جنوبی افریقہ نے ڈک ورتھ لوئس طریقے کے تحت پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
انڈیا نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 289 رنز بنائے جس میں اپنا 100 واں میچ کھیلنے والے انڈین اوپنر شیکھر دھون نے سنچری سکور کی جبکہ کپتان وراٹ کوہلی نے 75 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔
میچ بارش اور آسمانی بجلی کے سبب کئی بار رکا اور آخری بار جنوبی افریقہ کو 28 اوورز میں 202 رنز بنانے کا ہدف ملا۔
اس سے قبل انڈیا چھ میچوں کی اس سیریز میں تین میچ جیت کر اپنی پوزیشن مستحکم کر چکا ہے اور جنوبی افریقہ کے لیے سیریز بچانے کا یہ آخری موقع تھا۔
ہاشم آملہ، کپتان مارکرم اور اے بی ڈی ویلیئرز کے آؤٹ ہونے کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم اور شائقین نے امید چھوڑ دی تھی لیکن بارش سے متاثرہ میچ میں ابھی بہت سا ڈراما باقی تھا۔
پہلے سریش اییر نے ڈیوڈ ملر کا کیچ چھوڑا اور پھر وہ ایک نو بال پر بولڈ ہو گئے۔ ان دو مواقعوں کے بعد انھوں نے فری ہٹ پر چھکا لگا کر اپنے اعتماد کو مزید بحال کیا اور 28 گیندوں پر دو چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 39 رنز بنائے۔
دوسری جانب ہنرک کلاسین نے پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی بدولت 27 گیندوں پر 43 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جبکہ پھیلکوایو نے تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے پانچ گیندوں میں 23 رنز بنا کر میچ جنوبی افریقہ کی جھولی میں ڈال دیا۔
انڈیا کی جانب سے اب تک جنوبی افریقہ کو پریشان کرنے والے سپنرز اس میچ میں ملر، کلاسین اور پھیلکوایو کے نشانے پر تھے۔ انھوں نے ساڑھے گیارہ اوورز میں 119 رنز دیے اور تین وکٹیں حاصل کیں۔
جوہانسبرگ (سپورٹس لنک رپورٹ) جنوبی افریقہ اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان چھ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں پر مشتمل سیریز کا چوتھا میچ آج جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا۔ بھارت کو چھ میچوں کی سیریز میں پروٹیز کے خلاف 3-0 کی برتری حاصل ہے ،آج کے میچ میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے ۔ مہمان ٹیم نے میزبان ٹیم کو پہلے میچ میں 6 وکٹوں ، دوسرے میچ میں 9 وکٹوں اورتیسرے میچ میں 124 رنز سے شکست دی تھی ۔5واں ون ڈے میچ 13 فروری کو پورٹ الزبتھ جبکہ چھٹا اور آخری میچ 16 فروری کو سینچورین میں کھیلا جائے گا۔ اس سے قبل کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں میزبان ٹیم جنوبی افریقہ نے بھارت کو 2-1 سے شکست دی تھی۔
نئی دہلی(سپورٹس لنک رپورٹ)انڈین کرکٹ ٹیم کے سٹار بلے باز وراٹ کوہلی نے جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ایک روزہ میچ میں بطور کپتان کئی نئے ریکارڈز قائم کر دیے ہیں۔
انھوں نے اس میچ میں بطور انڈین کپتان اپنی 12ویں سنچری سکور کی۔ ان کے 160 رنز سچن تندولکر کے بعد کسی بھی انڈین بیٹسمین کی جانب سے جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرا بہترین سکور ہے۔ تندولکر نے 2010 میں جنوبی افریقہ کے خلاف 200 رنز سکور کیے تھے جو کہ ایک روزہ میچوں کی پہلی ڈبل سنچری تھی۔
بدھ کو کیپ ٹاؤن میں کھیلے جانے والے میچ میں وراٹ کوہلی 159 گیندوں پر 12 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 160 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔
واضح رہے کہ اس میچ میں انڈیا کی ٹیم نے اپنی اننگز میں 303 رنز بنائے اور جواب میں جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم 179 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ اس شکست کے بعد انڈیا نے چھ میچوں کی سیریز میں تین صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔
کوہلی نے ایک روزہ کیرئیر میں سب سے زیادہ سکور کرنے کے علاوہ ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے کسی بھی انڈین کپتان کی جانب سے سب سے زیادہ سنچریاں سکور کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔
اس سے پہلے ساروو گنگولی 11 سنچریوں کے ساتھ سرفہرست تھے لیکن اب 12 سنچریوں کے ساتھ کوہلی نے ان کی جگہ لے لی ہے۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کوہلی کو ابھی کرکٹ کی دنیا میں کسی بھی کپتان کی جانب سے سب سے زیادہ سنچریاں سکور کرنے کے لیے ابھی بہت محنت کرنے کی ضرورت ہو گئی کیونکہ آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ نے بطور کپتان 22 سنچریاں سکور کر رکھی ہیں۔
لیکن کوہلی کو اس کے بارے میں ابھی سوچنے کی زیادہ ضرورت نہیں کیونکہ وہ اپنی کارکردگی سے نئے ریکارڈ قائم کرتے جا رہے ہیں جس میں سنچریوں کے علاوہ انڈیا کی جانب سے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں سب سے زیادہ سکور کرنے والے بلے باز بن گئے ہیں۔
وہ اس وقت جاری سیریز کے پہلے تین میچوں میں 318 رنز بنا چکے ہیں اور ساتھ ساتھ جنوبی افریقہ کے خلاف کسی بھی سیریز میں ایک سے زیادہ سنچریاں سکور کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کر چکے ہیں۔
سیریز کے آغاز سے قبل وراٹ کوہلی نے جنوبی افریقہ میں ایک روزہ میچوں میں کوئی سنچری سکور نہیں کی تھی مگر تین میچوں کے بعد اب وہ دنیا کے ان پانچ بلے بازوں میں شامل ہو گئے ہیں جنھوں نے جنوبی افریقہ میں ایک سے زیادہ سنچریاں سکور کی ہیں۔
اب تک جنوبی افریقہ میں ایک روزہ میچوں کی سیریز میں سب سے زیادہ تین سنچریاں سکور کرنے کا اعزاز انگلینڈ کے بلے باز کیون پیٹرسن کے پاس ہے۔
گذشتہ برس انڈین کپتان وراٹ کوہلی نے نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریز میں سنچری سکور کر کے کم سے کم میچوں میں نو ہزار رنز مکمل کرنے کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا تھا۔
گذشتہ برس ہی وراٹ کوہلی نے دہلی ٹیسٹ میں سری لنکا کے خلاف اپنی چٹھی ڈبل سنچری بنا کر بطور کپتان سب سے زیادہ ڈبل سنچریاں بنانے کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا تھا۔
سیریز کا چوتھا میچ جوہانسبرگ میں 10 فروری کو کھیلا جائے گا۔ ایک روزہ میچوں کی سیریز 16 فروری کو ختم ہو گی جس کے بعد تین ٹی20 انٹرنیشنل بھی کھیلے جائیں گے۔
ڈربن(سپورٹس لنک رپورٹ)جنوبی افریقہ اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان چھ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز یکم فروری سے ہو گاشیڈول کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان ون ڈے سیریز کا دوسرا میچ 4 فروری کو سینچورین، تیسرا میچ 7 فروری کو کیپ ٹاؤن، چوتھا میچ 10 فروری کو جوہانسبرگ، پانچواں میچ 13 فروری کو پورٹ الزبتھ جبکہ چھٹا اور آخری میچ 16 فروری کو سینچورین میں کھیلا جائے گا، اس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان ٹی ٹونٹی سیریز کھیلی جائے گی۔ اس سے قبل کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں میزبان جنوبی افریقہ نے بھارت کو 2-1 سے شکست دی تھی۔
جوہانسبرگ(سپورٹس لنک رپورٹ)جوہانسبرگ میں ٹیسٹ کرکٹ میں عالمی نمبر ایک ٹیم انڈیا نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں 63 رنز سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔
جنوبی افریقہ کو سیریز میں پہلے ہی دو صفر سے برتری حاصل تھی۔
جنوبی افریقہ کے جانب سے ڈین ایلگر اور ہاشم آملہ نے عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے نصف سنچریاں سکور کیں لیکن باقی ساتھی بلے باز انتہائی دشوار پچ پر شاندار انڈین بولنگ کا سامنے کرنے سے قاصر رہے اور یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوتے چلے گئے۔
انڈیا کے جانب سے محمد شامی نے پانچ اور اشانت شرما اور جسپریت بھمرا نے دو دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔
وانڈررز کے میدان پر کھیلے جانے والا میچ اپنی خطرناک پچ کی وجہ سے کافی متنازع رہا جہاں پر دونوں ٹیموں کے بلے بازوں کو کئی دفعہ گیند لگی اور تیسرے روز کے آخری سیشن میں امپائروں کو میچ وقت سے قبل ختم کرنا پڑا۔
میچ کے چوتھے روز جب کھیل شروع ہوا تو جنوبی افریقہ کو جیت حاصل کرنے کے لیے 241 رنز درکار تھے اور ان کی نو وکٹیں باقی تھیں۔
کھانے کے وقفے تک ہاشم آملہ اور ڈین الگر نے بغیر کسی نقصان کے سکور 100 تک پہنچا دیا اور ایسا لگ رہا تھا کے جنوبی افریقہ شاید میچ جیت جائے لیکن اگلے سیشن میں جنوبی افریقہ کو پہلے ہاشم آملہ اور پھر اے بی ڈی ویلیئرز کا نقصان اٹھانا پڑا جس کے بعد انڈیا کا پلڑا پھر بھاری ہو گیا۔
جنوبی افریقہ کی آخری نو وکٹیں صرف 53 رنز کے عوض گریں جس میں سے سات کھلاڑی دن کے آخری سیشن میں آؤٹ ہوئے۔
واضح رہے کہ کیپ ٹاؤن میں کھیلے جانے والے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے انڈیا کو 72 رنز سے شکست دی تھی۔
جبکہ سنچورین میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں 135 رنز سے شکست دے کر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں دو صفر کی ناقابل شکست برتری حاصل کر لی تھی۔
ٹیسٹ سیریز کے بعد اب دونوں ٹیموں کے مابین چھ ایک روزہ میچوں اور تین ٹی 20 میچوں کی سیریز بھی کھیلی جائے گی۔
ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ یکم فروری کو ڈربن میں کھیلا جائے گا۔
جوہانسبرگ(سپورٹس لنک رپورٹ)جنوبی افریقا اور بھارت کے درمیان کھیلے جا رہے تیسرے ٹیسٹ کے تیسرے روز کا کھیل وکٹ کے خراب ہونے کی وجہ سے وقت سے پہلے ختم کر دیا گیا۔
بھارتی ٹیم ان دنوں جنوبی افریقا کے دورے پر ہے جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان جوہانسبرگ میں تیسرا ٹیسٹ کھیلا جا رہا ہے۔
تیسرے ٹیسٹ کے لیے تیار کی گئی وکٹ ابتداء ہی سے خطرناک دکھائی دے رہی تھی اور کھیل کے تیسرے روز اب تک 31 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے ہیں۔
بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے ٹاس جیت پہلے خود کھیلنے کا فیصلہ کیا اور پوری ٹیم 187 رنز ہی بنا پائی جب کہ جواب میں جنوبی افریقا کی ٹیم بھی پہلی اننگز میں 194 رنز سے آگے نہ بڑھ سکی۔
بھارت نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا تو وکٹ میں توقعات سے زیادہ باؤنس نظر آنے لگا اور اننگز کے دوران متعدد بار گیند کھلاڑیوں کو بھی لگی تاہم خوش قسمتی سے کوئی بھی کھلاڑی غیرمعمولی زخ نہیں ہوا۔
جنوبی افریقا نے بھارت کی جانب سے دیے گئے 241 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا تو میزبان ٹیم کو بھی خراب وکٹ کی وجہ سے اچانک سے اٹھنے والی خطرناک بالز کا سامنا کرنا پڑا۔
جنوبی افریقا نے 8.3 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 17 رنز بنائے تھے کہ جسپریت بھمراہ کی گڈ لینتھ پر آتی بال اچانک سے ڈین ایلگر کے ہیلمٹ پر لگی جس کے باعث امپائر کو کچھ دیر کے لیے کھیل روکنا پڑا۔
بعد ازاں میچ ریفری اینڈی پیکروفٹ نے آج کے دن کا کھیل ختم ہونے سے پہلے ہی میچ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
خیال رہے کہ جنوبی افریقا اور بھارت کے درمیان 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں میزبان پروٹیز کو 2 صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔