Tag: پی ایس ایل

  • آج کراچی کنگز کا ٹکرائو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے ہوگا

    آج کراچی کنگز کا ٹکرائو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے ہوگا

    دبئی(سپورٹس لنک رپورٹ)پی ایس ایل میں آج کھیلا جانے والا دوسرا میچ کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان ہوگا جو پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 بجے شروع ہوگا۔ کراچی کنگز اب تک ایونٹ میں 5 میچز کھیل چکی ہے جس میں اسے صرف ایک میں ناکامی کا سامنا رہا جب کہ ایک میچ بارش کی وجہ سے متاثر ہوا اور تین میں اسے کامیابی ملی۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی کارکردگی ایونٹ میں اب تک مناسب رہی، 6 میچز میں سے اسے تین میں کامیابی اور تین میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور 6 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔

  • اسلام آباد یونائیٹڈکی ٹیم کو بڑا جھٹکا

    اسلام آباد یونائیٹڈکی ٹیم کو بڑا جھٹکا


    دبئی(سپورٹس لنک رپورٹ)اسلام آباد یونائیٹڈ کی پاکستان سپر لیگ 2018 کا ٹائٹل جیتنے کی امید کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب اس کے اسٹار آل راؤنڈر آندرے رسل ہیمسٹرنگ انجری کے باعث ایونٹ سے باہر ہوگئے۔پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن کی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ نے اپنا آخری میچ اتوار کو کھیلا تھا جس میں اس نے کراچی کنگز کو 8 وکٹوں سے شکست دی تھی، جبکہ اس میچ میں آندرے رسل بھی ٹیم کا حصہ تھے۔تاہم یہ میچ آندرے رسل کے لیے رواں سال ایونٹ کا آخری میچ ثابت ہوا اور وہ اپنے پہلے ہی اوور میں ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہوگئے۔اسلام آباد یونائیٹڈ کے فزیو ایرول ایلکوٹ نے انکشاف کیا کہ ویسٹ انڈین کرکٹر کو دائیں ہیمسٹرنگ میں گریڈ ٹو کی انجری ہوئی، جس کا مطلب 29 سالہ آندرے رسل چار سے آٹھ ہفتے کے لیے کھیل کے میدان میں قدم نہیں رکھ سکیں گے اور اس عرصے میں پی ایس ایل کا اختتام ہوجائے گا۔انجری کے علاج کے لیے آندرے رسل کا دوبارہ وطن لوٹنے کا امکان ہے۔رواں سال ایونٹ میں ان کا سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب انہوں نے لاہور قلندرز کے خلاف سپر اوور کی آخری گیند پر چھکا لگا کر ٹیم کو فتح دلائی تھی۔

  • پی ایس ایل ،سوشل میڈیا پر لاہور قلندر پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری

    پی ایس ایل ،سوشل میڈیا پر لاہور قلندر پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری


    شارجہ (سپورٹس لنک رپورٹ) پاکستان سپر لیگ کے سنسنی سے بھرپور میچز کے حوالے سے سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں۔ شائقین کرکٹ کو پی ایس ایل میں دلچسپ مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں وہیں لاہور قلندرز کی مسلسل شکست پر اسے شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔لاہور قلندرز کے مڈل آرڈر بلے باز عمر اکمل کی مایوس کن کارکردگی پر کئی ٹوئٹر صارفین نے بے شمار مزاحیہ میمز پوسٹ کر کے اپنے غصے کا اظہار کیا۔عائشہ نامی صارف لکھتی ہیں کہ عمر اکمل کو اتنی تنقید کا سامنا ہے لیکن انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ٹوئٹر پر فرضی نام سے موجود صارف نے پی ایس ایل فرنچائز کے مالک فواد رانا کے میچ کے دوران تاثرات کو ایک ویڈیو میمی میں قید کیا اور کیپشن لکھا ففٹی شیڈز آف رانا۔ پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے آغاز سے قبل لاہور قلندرز کو ایونٹ کی فیورٹ ٹیم قرار دیا جارہا تھا اور شائقین کی ایک بڑی تعداد قلندرز کی حمایت میں تھی تاہم مسلسل 5 شکستوں کے بعد ٹوئٹر پر اس کا مزاق بنایا جارہا ہے۔اس کے علاوہ پشاور زلمی کی نمائندگی کرنے والے وہاب ریاض کی مونچھوں کا نرالا اسٹائل بھی کافی مقبول ہوا اور اسے بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ایک صارف نے لکھا کہ ان کا حساب کچھ ایسا ہے کہ آن لائن دیکھ کر منگا کچھ اور آتا کچھ ہے۔دوسری جانب ڈیرن سیمی نے انجری کے باوجود پشاور زلمی کو ہار کا سامنا کرنے سے بچالیا جس کے بعد وہ کرکٹ شائقین کے ہر دلعزیز بن گئے۔

  • پی ایس ایل نوجوان ٹیلنٹ کیلئے بہترین پلیٹ فارم،حسن علی

    پی ایس ایل نوجوان ٹیلنٹ کیلئے بہترین پلیٹ فارم،حسن علی

    شارجہ (سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر اور پی ایس ایل میں پشاور زلمی کی نمائدگی کرنے والے حسن علی کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کا بہترین پلیٹ فارم ہے۔انجری سے چھٹکارہ پاکر پی ایس ایل میں شامل ہونے والے حسن علی نے لیگ میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کو مشورہ دیا کہ وہ خود پر یقین رکھیں، محنت کریں اور پاکستان کا نام روشن کریں۔فاسٹ بولر نے نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو میں مزید کہا کہ پاکستان سپر لیگ کی بدولت ہی وہ آج اس مقام پر ہیں، انجری کے بعد لیگ کے پہلے ہی میچ میں اچھا پرفارم کرکے مزہ آیا۔حسن علی نے کہا کہ پشاور زلمی میں ایک اور نوجوان ٹیلنٹ سامنے آیا ہے جس کا نام ابتسام شیخ ہے، وہ مستقبل میں قومی ٹیم میں شامل ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑی خود پر بھروسہ رکھیں، پی ایس ایل کا بھرپور فائدہ اٹھائیں، یہاں موجود سینیئر ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں سے سیکھیں۔خیال رہے کہ حسن علی نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں انجری کا شکار ہوگئے تھے اور وہ پاکستان سپر لیگ تھری کے ابتدائی میچز میں پشاور زلمی کی نمائندگی نہیں کرسکے تھے۔

  • کیون پیٹرسن نے پی ایس ایل میں شریک بائولرز کو مان بڑھا دیا

    کیون پیٹرسن نے پی ایس ایل میں شریک بائولرز کو مان بڑھا دیا

    شارجہ(سپورٹس لنک رپورٹ) کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بیٹسمین کیون پیٹرسن نے پاکستان سپر لیگ میں بولنگ کے معیار کی تعریف کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق قرار دے دیا۔میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل میں بولنگ کا معیار شاندار ہے، ایک بلے باز ہونے کی حیثیت سے آپ کو اپنا بہترین کھیل پیش کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر ٹیم کے پاس کچھ اچھے فاسٹ بولرز اور اسپنرز موجود ہیں۔اور یہ تمام بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہیں۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیگ میں بلے بازی کے معیار کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ وکٹیں اتنی اچھی نہیں جتنی ہوسکتی ہیں۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بلے باز کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل میں کیچنگ کا معیار بھی انتہائی شاندار ہے جبکہ یہ پاکستان کرکٹ کے لیے بہترین کام کررہی ہے۔کوئٹہ کے ساتھ تین سال سے وابستہ رہنے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کی ٹیم فیملی جیسی ہے اور انہیں یہاں ہمیشہ سپورٹ ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ندیم عمر ٹیم کے ایسے مالک ہیں جن کے لیے آپ میچ جیتنا چاہیں گے کیوں کہ وہ آپ کو بہت عزت دیتے ہیں۔

     

     

  • پی ایس ایل 3، کچھ مثبت اور کچھ منفی پہلوؤں پر ایک نظر

    پی ایس ایل 3، کچھ مثبت اور کچھ منفی پہلوؤں پر ایک نظر

    فہد کیہر

    پاکستان سپر لیگ کا شارجہ مرحلہ شروع ہوچکا ہے اور تمام ٹیموں کے 3، 3 مقابلے بھی مکمل ہوئے۔ حیران کن طور پر اس اہم مرحلے پر جو ٹیم سب سے آگے نظر آتی ہے وہ کراچی کنگز کی ہے جس نے اپنے تمام ہی مقابلے جیتے ہیں جبکہ لاہور قلندرز حسبِ روایت، حسبِ توقع یا جو بھی آپ کہہ لیں، آخری نمبر پر ہے۔

    درمیان میں تمام ٹیموں کے درمیان مقابلہ سخت ہے۔ کراچی کے بعد کوئٹہ اور ملتان ہیں جو 4، 4 پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ اس سے نیچے پہلے اور دوسرے سیزن کے چیمپیئنز اسلام آباد اور پشاور ہیں جو اب تک صرف ایک، ایک کامیابی ہی حاصل کر پائے ہیں، اور یہ کارکردگی دونوں کے لیے ہی لمحۂ فکریہ ہے۔

    لیکن، اتنی جلدی کسی بھی ٹیم کو پریشان یا بہت خوش ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ تمام ٹیموں نے 10، 10 میچز کھیلنے ہیں یعنی اب بھی بہت کچھ تبدیل ہوسکتا ہے، یہاں تک کہ لاہور بھی کوالیفائرز میں باآسانی پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ہم آگے اندازوں کے بجائے پاکستان سپر لیگ سیزن 3 کے کچھ ایسے پہلوؤں پر بات کر لیتے ہیں جن پر شاید بہت کم غور کیا گیا ہے۔ ان میں سے چند پہلو تو مثبت ہیں اور کچھ منفی بھی۔ بہتر یہی ہے کہ ہم پہلے کچھ مثبت پہلوؤں پر بات کرلیں۔

    مثبت پہلو

    جاندار کمنٹری

    پی ایس ایل 3 میں تازہ ہوا کا جو پہلا جھونکا محسوس ہوا وہ کمنٹری ہے۔ ایلن ولکنز اور ڈینی موریسن نے تو پچھلے سیزن میں بھی پاکستانی تبصرہ کاروں کے ساتھ مل کر اپنی صلاحیتوں کے خوب جوہر دکھائے تھے لیکن جس نے بھی اس سال مائیکل سلیٹر اور ڈیمین فلیمنگ کو شامل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اس کو ہمارا خصوصی سلام ہے۔ ان دونوں سابق آسٹریلوی کھلاڑیوں نے تو مقابلوں میں جان ڈال دی ہے۔

    اس کی ایک جھلک تو آپ نے خود بھی دیکھی ہوگی جب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف میچ میں کراچی کنگز کے شاہد آفریدی نے باؤنڈری لائن پر ایک خوبصورت کیچ لیا تو مائیکل سلیٹر نے کہا کہ’شاہد آفریدی 37 سال کے ہیں، 38 کے ہونے والے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اصل میں 45 سال کے ہیں لیکن یہ دیکھ کر تو میں کہوں گا کہ ان کی عمر 32 سال ہے۔‘

     

    یہی نہیں آسٹریلوی جوڑی نے اور بھی کئی چٹکلے چھوڑے ہیں اور ڈینی موریسن کی تنہائی کا خاتمہ کردیا ہے۔ یہ آسٹریلیا کے کمنٹیٹرز کی خاص بات ہوتی ہے کہ وہ میچ میں پوری طرح شامل ہوجاتے ہیں۔ بہرحال، سلیٹر اور فلیمنگ کی آمد سے خاتون تبصرہ کار میل جونز کی کمی بھی پوری ہوگئی ہے، جو اس سال پی ایس ایل میں کمنٹری نہیں کر رہیں۔ دوسری جانب ایلن ولکنز تو سدا بہار ہیں، اُن کی گلابی اردو میں ’چھکا‘ کی آواز بہت بھلی لگتی ہے۔ ابھی تو میدان اور گرم ہوگا، اس لیے کمنٹری میں مزید شاہکاروں کے لیے تیار رہیں۔

    شاندار فیلڈنگ اور زوردار مقابلے

    دوسرے مثبت پہلو کا تعلق میدان سے ہے۔ اب تک ہونے والے 9 مقابلوں میں ہم نے کئی ایسے کیچز دیکھے ہیں جو مدتوں یاد رکھے جائیں گے۔ کوئٹہ کے خلاف شاہد آفریدی کے کیچ کے علاوہ لاہور قلندرز کے شاہین آفریدی اور عمر اکمل کا ’ریلے کیچ‘، جو ڈینلی کا ’جونٹی رہوڈز‘ کی یاد دلا دینا اور محمد حفیظ اور احمد شہزاد کے عمدہ فیلڈ کیچز، یہی نہیں بلکہ فری-ہٹ پر کوئٹہ کے خلاف چیڈوِک والٹن کا کیچ بھی کسی سے پیچھے نہیں تھا، یعنی ہر لحاظ سے یہ سیزن فیلڈنگ کے معاملے میں آگے نظر آ رہا ہے۔

    کیچز چھوٹنے کی شرح بھی اب تک بہت ہی کم ہے ورنہ پاکستانی فیلڈرز ہوں تو اتنے میچز میں چھوٹنے والے کیچز کی تعداد درجن بھر ہوجانی چاہیے تھی۔ زیادہ خوشی کی، بلکہ حیران کن، بات یہ ہے کہ نوجوان پاکستانی فیلڈر بھی اپنا بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں جیسا کہ پشاور کے نوعمر ابتسام شیخ نے دو بہت عمدہ کیچز پکڑے اور تجربہ کار کھلاڑی بھی پیش پیش رہے ہیں۔

    خوبصورت کٹس

    تیسرا مثبت پہلو ٹیموں کی کٹس کا ہے۔ ہم لاہور اور کراچی کی کٹ کی ہرگز بات نہیں کریں گے کیونکہ وہ بجائے جدت اختیار کرنے کے مزید پیچھے جارہے ہیں لیکن پشاور، کوئٹہ اور ملتان کی کٹس واقعی لاجواب ہیں۔ پشاور زلمی کی کٹ تو بین الاقوامی سطح کی کسی بھی ٹیم کا مقابلہ کرسکتی ہے، خاص طور پر اس میں جو تفصیلات ہیں، جیسا کہ ٹراؤزر پر پیلی پٹی میں ZALMI لکھا ہونا اور پشت پر بھی برانڈنگ اسے بہت عرق ریزی سے تیار کیا ہوا لباس بناتی ہے۔ ملتان سلطانز کی کٹ میں رنگوں کا انتخاب بہت عمدہ ہے اور ٹیم لوگو کا بھی بہت خوبی سے استعمال کیا گیا ہے۔ کوئٹہ نے سنہرے رنگ کااستعمال کرکے اپنی جامنی رنگ کی کٹ کو چار چاند لگا دیے ہیں۔

    منفی پہلو

    تماشائیوں کی کمی

    اگر پی ایس ایل 3 کے منفی اور مایوس کن پہلوؤں کی بات کریں تو سب سے نمایاں ہے میدان میں تماشائیوں کی کمی۔ ویسے تو نہ اس پر گِلہ کرنا بنتا ہے اور نہ ہی کسی کو مؤرد الزام ٹھہرانا مقصود ہے کیونکہ لیگ پاکستان میں نہیں کھیلی جا رہی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ابتدائی مقابلے دبئی کے 30 ہزار تماشائیوں کی گنجائش والے اسٹیڈیم میں ہوئے جسے بھرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پھر بھی خالی کرسیوں کو دیکھنا آنکھوں پر بہت گراں گزر رہا ہے خاص طور پر جب اتنے اچھے مقابلے کھیلے جا رہے ہوں۔

    تشہیر کی کمی

    ہم جیسے پاکستانی تماشائی تو دیکھ کر آہیں بھرتے رہتے ہیں کہ کاش یہ مقابلے یہاں منعقد ہوں۔ یقین جانیں کہ کسی ایک میچ کے ٹکٹ ملنا بھی مشکل ہوجائیں لیکن جہاں یہ ہو رہے ہیں، وہاں دیکھنے والے بہت کم ہیں۔ یہ پہلو نہ صرف پی ایس ایل کی جلد از جلد اور زیادہ سے زیادہ پاکستان منتقلی کی اہمیت ظاہر کرتا ہے، وہیں پر پی ایس ایل انتظامیہ کی توجہ بھی مبذول کرواتا ہے کہ وہ ٹورنامنٹ کے دوران امارات میں جامع تشہیری مہم پر توجہ دے۔

    اب تک کسی بھی سیزن میں انتظامیہ کی جانب سے دبئی اور شارجہ میں مقابلوں کی تشہیر پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔ شاید اس کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی ہو لیکن جہاں اتنے شاندار میچز ہوں، وہاں ماحول بنانا ضروری ہوتا ہے۔ عالم تو یہ ہے کہ دبئی کی ایک بڑی آبادی کے علم میں ہی نہیں ہوتا کہ اسٹیڈیم میں ایک عالمی معیار کی کرکٹ لیگ کھیلی جا رہی ہے۔ اس لیے اگر اس پہلو پر جلد توجہ نہ دی گئی تو دبئی کی نیلی کرسیاں پی ایس ایل کی برانڈ ساکھ کو بُری طرح متاثر کریں گی۔

    امتحانات کے دوران ایونٹ کا انعقاد

    ایک بہت اہم پہلو، جسے شاید نظر انداز کیا گیا ہے، وہ ہے پی ایس ایل کا ان ایام میں منعقد ہونا جب پاکستان بھر میں اسکولوں کے طلبہ کے سالانہ امتحان شروع ہو رہے ہیں۔ آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ کی کامیابی کی 2 بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ اس کا انعقاد ان دنوں ہوتا ہے جب تعلیمی اداروں میں تعطیلات ہوتی ہیں، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر آپ اہل خانہ کے ساتھ میچ دیکھنا چاہتے ہیں ٹکٹوں میں خاص رعایت ملتی ہے۔

    بگ بیش پاکستان کے لیے بھی ایک متاثر کن لیگ کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے کم از کم اگلے سال پی ایس ایل کو کوشش کرکے فروری کے وسط تک مکمل کرنا چاہیے کیونکہ کرکٹ کے پرستاروں کی بہت بڑی تعداد اسکول طالب علم ہے۔ اگر انہیں پی ایس ایل دیکھنے کا موقع ہی نہ ملا یا وہ امتحانات کی وجہ سے مجبوراً دیکھ نہ پائے تو اس سے لیگ کی ریٹنگ پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور فی الحال پی ایس ایل اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

     

    بشکریہ ڈان

  • پشاور زلمی کی ٹیم میں دو کونسے کھلاڑی شامل ہونے والے ہیں؟آپ جان کر دنگ رہ جائینگے

    پشاور زلمی کی ٹیم میں دو کونسے کھلاڑی شامل ہونے والے ہیں؟آپ جان کر دنگ رہ جائینگے

     دبئی( سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دسویں میچ میں پشاور زلمی کے اسکواڈ میں چین سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑی بھی شامل ہونے کو تیار ہیں۔

    پشاور زلمی کے چین کے نمائندے عامرسہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ زلمی نے جیان لی اور یونی ژینگ کی چین میں کرکٹ کے فروغ کے لیے اقدامات کے تحت تربیت کی ہے۔

    دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں چینی کھلاڑیوں کی پشاورزلمی کے کیمپ میں شمولیت سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم انھیں اپنی صلاحیتوں کو ابھارنے اور عالمی سطح پر شناخت کے حصول کے لیے پلیٹ فارم فراہم کریں گے’۔

    خیال رہے کہ دفاعی چمپیئن پشاور زلمی یکم مارچ کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے ٹکرائے گی جبکہ اب تک کھیلے گئے تین میچوں میں سے ایک میں کامیابی حاصل کر کے پی ایس ایل کے پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر موجود ہے۔

    پی ایس ایل کے پوائنٹس ٹیبل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ایک میچ میں کامیابی کے باوجود پشاور زلمی سے سبقت لیتے ہوئے تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

    یاد رہے کہ پشاور زلمی نے رواں ماہ دنیا کے 16 ممالک میں زلمی کے نمائندہ کلبوں کی مدد سے مداحوں کا گلوبل زلمی نامی ایک ٹورنامنٹ منعقد کیا تھا جہاں چائنا زلمی بھی شریک تھی جس میں کھلاڑیوں کا تعلق چین سے تھا۔

    چائنا زلمی میں شامل اکثر کھلاڑیوں کو پاکستانی کمیونٹی کیکیاؤ سے منتخب کیا گیا تھا۔

    گلوبل زلمی میں ٹیموں کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا جہاں چائنا زلمی تینوں لیگ میں ناقابل شکست رہی تھی اور ٹائٹل بھی اپنے نام کیا تھا۔

    پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے فاتح ٹیم کو نہ صرف 10 ہزار ڈالر کا انعام دیا تھا بلکہ دو کھلاڑیوں کو سینیئر ٹیم کے ساتھ پریکٹس سیشن میں شرکت کی اجازت بھی دی تھی۔

    انھوں نے چائنا زلمی کی ٹورنامنٹ میں کامیابی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کامیابی سے چینی نوجوانوں میں کرکٹ کو فروغ حاصل ہوگا۔

  • پی ایس ایل فکسنگ سکینڈل،شاہ زیب کی قسمت کا فیصلہ کل

    پی ایس ایل فکسنگ سکینڈل،شاہ زیب کی قسمت کا فیصلہ کل

    لاہور (سپورٹس لنک رپورٹ) پی ایس ایل فکسنگ سکینڈل میں شاہ زیب حسن کیس کا فیصلہ کل 28 فروری کو سنایا جائے گا، کرکٹر پر فکسنگ کیلئے اکسانے اور بکی کے رابطے کی اطلاع پی سی بی کو نہ دینے کا الزام عائد تھا۔

    پی ایس ایل 2017 کے فکسنگ سکینڈل کا ایک اور کردار انجام کے قریب پہنچ گیا ہے۔ بیٹسمین شاہ زیب حسن کے کیس کا فیصلہ 28 فروری کو سنایا جائے گا۔ شاہ زیب حسن پر ساتھی کرکٹرز کو فکسنگ کیلئے اکسانے اور بورڈ کو بکی کے رابطے کی اطلاع نہ دینے کا الزام عائد ہے۔

    اس سے پہلے شرجیل خان، خالد لطیف، محمد نواز اور محمد عرفان کو بھی فکسنگ کیس میں سزا ہو چکی ہے۔ محمد عرفان اور محمد نواز اپنی سزا کی مدت پوری کرنے کے بعد کھیل کے میدان میں واپس آ چکے ہیں۔

  • پی ایس ایل تھری فائنل،ٹکٹوں کی قیمت کا تعین نہ ہوسکا

    پی ایس ایل تھری فائنل،ٹکٹوں کی قیمت کا تعین نہ ہوسکا

    کراچی (سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے فائنل میچ کی ٹکٹوں کی قیمتوں کا تعین تاحال نہ ہوسکا۔

    پاکستان سپر لیگ کا تیسرا ایڈیشن دبئی میں کامیابی سے جاری ہے اور پوائنٹس ٹیبل پر کراچی کنگز 6 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ ملتان سلطانز 4 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

    پوائنٹس ٹیبل پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ 2، 2 پوائنٹس کے ساتھ موجود ہیں جب کہ لاہور قلندر نے اب تک 3 میں سے کوئی میچ نہیں جیتا ہے۔

    پی ایس ایل کے 2 پلے آف میچز لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے اور ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے۔

    جب کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں 25 مارچ کو کھیلا جائے گا لیکن فائنل میچ کی ٹکٹ کی قیمتوں کا تعین اب تک نہیں ہوسکا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹکٹوں کی فروخت 15 مارچ سے پہلے شروع نہ کرنے کافیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی ٹکٹوں کی فروخت کے خطرے کے باعث زیادہ پہلے ٹکٹ نہ فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ پی ایس ایل فائنل کے ٹکٹ کی کم سے کم قیمت ایک ہزار روپے رکھی جائے گی جب کہ زیادہ سے زیادہ قیمت 10 سے 12 ہزار روپے ہوگی۔

    یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل لاہور میں کھیلا گیا تھا جس میں پشاور زلمی فاتح قرار پائی تھی۔

  • سینئراورغیر ملکی کھلاڑیوں کیساتھ کھیل کر اعتماد ملتا ہے،حسین طلعت

    سینئراورغیر ملکی کھلاڑیوں کیساتھ کھیل کر اعتماد ملتا ہے،حسین طلعت

    دبئی(سپورٹس لنک رپورٹ)اسلام آباد یونائیٹڈ کے ابھرتے ہوئے اسٹار کھلاڑی حسین طلعت پاکستان سپر لیگ میں اچھی پرفارمنس کی بدولت قومی اسکواڈ میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔

    پاکستان سپر لیگ کا تیسرا ایڈیشن دبئی میں جاری ہے جس میں 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    پی ایس ایل کی فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ نے نوجوان کھلاڑی حسین طلعت کی بہترین بیٹنگ کے بدولت ملتان سلطانز کو ٹورنامنٹ میں پہلی شکست سے دوچار کیا تھا۔

    میچ میں حسین طلعت نے مشکل وقت میں 48 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں حسین طلعت کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بھی پی ایس ایل میں کارکردگی کی بنیاد پر قومی ٹیم کے اسکواڈ میں شامل ہوا تھا اور اس سال بھی پی ایس ایل میں اچھا کھیل پیش کر کے قومی ٹیم میں منتخب ہونا چاہتا ہوں۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینیئر کھلاڑیوں اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر اعتماد ملتا ہے اور کھیل میں نکھار آجاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں ذاتی طور پر ٹیم کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں، پی ایس ایل اصل میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والوں کے لیے ہی ہے اور جو بھی لیگ میں پرفارم کرتا ہے اسے دنیا دیکھتی ہے۔

    حسین طلعت کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کارکردگی کے حوالے سے پر امید ہیں اور جیت کا کریڈٹ پوری ٹیم کو جاتا ہے، کھلاڑی جتنا پر اعتماد ہوگا اتنی اچھی کارکردگی دکھائے گا۔

error: Content is protected !!