Tag: ہیڈکوچ

  • مسلسل ناکامیوں پر لاہور قلندرز کے کوچ عاقب کا بڑا اعلان

    مسلسل ناکامیوں پر لاہور قلندرز کے کوچ عاقب کا بڑا اعلان


    دبئی (سپورٹس لنک رپورٹ) پاکستان سپر لیگ ٹیم لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا ہے کہ ہماری کرکٹ قابل برداشت نہیں ٗکھلاڑیوں نے اچھی کرکٹ نہیں کھیلی، جو کارکردگی نہیں دیگا، اسے دوبارہ کنٹریکٹ نہیں ملے گا۔ایک انٹرویو دیتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ شائقین ہر ٹیم کو لڑتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ٗہمارے کھلاڑی پہلے میچ سے ایک ہی غلطی کررہے ہیں، ہم اچھے آغاز کے باوجود اچھا اختتام نہیں کرپارہے ہیں ٗفرنچائزز کی خواہش ہوتی ہے کہ کھلاڑی پرفارم کریں، فرنچائز کرکٹ میں پرفیشنل کرکٹرزکو شامل کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک بیٹسمین کو لمبی اننگز کھیلنے کی ذمہ داری لینا ہوگی ، بیٹسمین کو اسکور بورڈ دیکھ کر ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے، اگلے پانچ میچوں میں کھلاڑیوں کو صرف جیتنے کا کہوں گا۔

  • ڈیرن سیمی کے مداحوں کیلئے اچھی خبر۔۔

    ڈیرن سیمی کے مداحوں کیلئے اچھی خبر۔۔


    شارجہ (سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستان سپر لیگ کی فرنچائر پشاور زلمی کے ہیڈ کوچ محمد اکرم کا کہنا ہے کہ کپتان ڈیرن سیمی کی ریکوری توقع سے زیادہ بہتر ہورہی ہے، جلد وہ ٹیم کا حصہ ہوں گے۔شارجہ میں نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے دفاعی چیمپئن زلمی کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ ڈیرن سیمی کے اسکین کلیئر آئے ہیں اور وہ ہماری توقع سے زیادہ تیز بہتری کی جانب گامزن ہیں۔سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ ڈیرن سیمی کی انجری زیادہ سنگین نہیں اور وہ زیادہ دیر تک ٹیم سے باہر نہیں رہیں گے، امید ہے آنے والے میچز میں وہ ٹیم کا حصہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر سیمی کی عدم موجودگی میں محمد حفیظ ٹیم کو آگے لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، وہ قومی کرکٹ ٹیم کے بھی کپتان رہ چکے ہیں اور انہیں کرکٹ کی بہت زیادہ سمجھ ہے۔محمد اکرم نے فاسٹ بولر حسن علی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے وہ میچز کھیلتا جائے گا اس کی پرفارمنس میں نکھار آتا جائے گا، انجری سے واپس آنے والے کھلاڑی کو ردھم پکڑنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔پی ایس ایل تھری کے ابتدائی میچز میں شاندار کارکردگی کی بدولت توجہ حاصل کرنے والے نوجوان اسپنر ابتسام شیخ کو آرام دینے کے حوالے سے کوچ محمد اکرم نے کہا کہ ’’ہم اسے لے کر آئے ہیں اور گروم کررہے ہیں، وہ پاکستان کے لیے اثاثہ ہے، فرنچائز کرکٹ میں مجبوری ہوتی ہے کہ آپ صرف ایک ایمرجنگ کھلاڑی کھلاسکتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر نوجوان کھلاڑی باہر ہوجاتے ہیں‘‘۔محمد اکرم نے یقین دہانی کرائی کہ ابتسام شیخ اچھے ہاتھوں میں ہے، ثقلین مشتاق کے ساتھ مسلسل سیکھنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں، ان کا مستقبل کافی روشن ہے۔انہوں نے کہا کہ تمیم اقبال اور شبیر رحمان قومی ٹیم میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش واپس چلے گئے ہیں اور یہ سلسلہ پوری لیگ کے دوران چلتا رہتا ہے۔

  • کرکٹ بورڈ میں سب اچھا نہیں،مکی آرتھر سے کون کون ناخوش،کیا مطالبات کردیئے

    کرکٹ بورڈ میں سب اچھا نہیں،مکی آرتھر سے کون کون ناخوش،کیا مطالبات کردیئے

    اسلام آباد(سپورٹس لنک رپورٹ): پاکستان کرکٹ میں کوئی کچھ بھی کہہ لے،سب اچھا نہیں ہے، ہیڈکوچ مکی آرتھر کی من مانیوں سے تنگ آکر جلد قومی سلیکشن کمیٹی ،پاکستان کرکٹ بورڈ انتظامیہ کے سامنے یہ مطالبہ رکھنا چاہتی ہے کہ غیر ملکی دوروں میں بھی قومی سلیکشن کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ 

    سلیکشن کمیٹی چاہتی ہے کہ مکی آرتھر پاکستان ٹیم میں اپنے کلچر کو فروغ نہ دیں اور کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے اور مخصوص کھلاڑیوں کو پروموٹ کرنے سے گریز کریں۔

    غیر ملکی دورں میں سلیکٹر بھیجنے کا فیصلہ بحال کیا جائے یا ہر میچ کے لئے گیارہ کھلاڑی منتخب کرتے وقت سلیکٹرز کو ویڈیو لنک پر شامل کرکے ان کی رائے کو بھی شامل کیا جائے، اس بارے میں چیف سلیکٹر انضمام الحق سے رابطے کی کوشش کی گئی تو وہ فون پر دستیاب نہ ہوسکے۔

    غیر ملکی دورں میں ٹور سلیکشن کمیٹی کپتان سرفراز احمد اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر پر مشتمل ہوتی ہے، اس سے قبل وقار یونس کے دور میں منیجر بھی ٹور سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہوتے تھے لیکن طلعت علی ملک ٹیسٹ کرکٹر ہونے کے باوجود سلیکشن کمیٹی میں شامل نہیں ہوتے ہیں۔

    ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیکٹرز چاہتے ہیں کہ مکی آرتھر کو قابو کیا جائے تاکہ وہ من مانیاں نہ کرسکیں، پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ غیر ملکی کوچ مکی آرتھرکے کردار اور سخت گیر رویے پر جہاں کھلاڑی پریشان ہیں وہیں قومی سلیکشن کمیٹی بھی ان کی تمام پالیسیوں کی حمایت کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔

    چوں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم پورے سال اپنی 99 فیصدکرکٹ بیرون ملک کھیلتی ہے اس لئے سلیکٹرز کا خیال ہے کہ ٹور سلیکشن کمیٹی میں بھی ایک سلیکٹر شامل ہو۔

    ماضی میں اقبال قاسم کی سلیکشن کمیٹی کا ایک رکن غیر ملکی دوروں میں پاکستان ٹیم میں شامل ہوتا تھا تاہم چند سیریز کے بعد بیرون ملک سلیکٹرز کو بھیجنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا سلیکشن کمیٹی جلد اس بارے میں نجم سیٹھی سے بات کرے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کوچ مکی آرتھر کئی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے رہے جس سے محمد حفیظ جیسے سینئر کھلاڑی کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں باہر بٹھایا گیا۔

    مکی آرتھر کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ ہارڈ لائنر ہیں اگر کسی کھلاڑی سے کارکردگی نہ ہو تو اس کی حوصلہ شکنی اس انداز میں کرتے ہیں کہ وہ اس سے بات چیت ہی نہیں کرتے جب کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستان کے سب سے سینئر بیٹسمین محمد حفیظ کو گیارہ رکنی ٹیم میں شامل نہ کرنے پر بھی سلیکٹرز ناراض ہیں۔

    ان کا خیال ہے کہ عمر امین کی جگہ محمد حفیظ بہتر آپشن ہوسکتا تھا لیکن مکی آرتھر شعیب ملک کو تو اہمیت دیتے ہیں لیکن محمد حفیظ کے معاملے میں ان کا رویہ سخت گیر ہے۔

    محمد حفیظ نے بھی شکایت کی ہے کہ کوچ ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے ون ڈے سیریز میں دو نصف سنچریاں بنائیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سنیئر کھلاڑیوں کی کارکردگی توقع کے مطابق نہیں تھی، پہلے سلیکٹر نے سلیکشن میں غلطیاں کیں پھر ٹور سلیکشن کمیٹی نے حفیظ جیسے بیٹسمین کو نظر انداز کیا۔پاکستان نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز پانچ صفر سے ہار گیا تاہم پہلا ٹی ٹوئینٹی ہارنے کے باوجود پاکستان نے سیریز دو ایک سے جیت لی تھی۔ اس جیت کے ساتھ پاکستان نے عالمی نمبر رینکنگ دوبارہ حاصل کی۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے سرفراز احمد کو عصرحاضر کے تقاضوں کے عین مطابق کپتان قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔

    مکی آرتھر نے کہا کہ سرفراز احمد جارحانہ حکمت عملی اور انداز اختیار کرنے والے کرکٹر ہیں اور وہ حریف ٹیم کے خلاف جارحانہ کھیل کو پسند کرتے ہیں اور آج کل کی کرکٹ میں اسی کی ضرورت ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم نے جس انداز کی کرکٹ کھیلی وہ بہت اہم تھی اور اس جیت کے بعد اب ہم بڑے اعتماد سے ورلڈ کپ کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں اور اپنے کھلاڑیوں کو مناسب وقت اور مواقع دے سکتے ہیں کہ وہ خود کو ورلڈ کپ کے لیے تیار کرسکیں۔

    درحقیقت چیمپئنز ٹرافی کی جیت نے ہمیں خوداعتمادی دی ہے، پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کے سبب سب سے بڑا نقصان نوجوان کرکٹرز کو ہورہا ہے جو انٹرنیشنل اسٹارز کو اپنے سامنے دیکھ نہیں رہے ہیں اور انھیں سیکھنے کا موقع نہیں مل رہا ہے۔

  • ’حسن علی کے واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے‘ سرفراز احمد

    ’حسن علی کے واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے‘ سرفراز احمد

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اور اسٹار کھلاڑی سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان ٹیم کے سلیکشن میں ہیڈ کوچ مکی آرتھر غیر ضروری اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے من مانی کررہے ہیں اور کپتان کی رائے کو اہمیت نہیں دے دہے ہیں۔

    نیوزی لینڈ سے کراچی پہنچنے کے بعد نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ مکی آرتھر اور میں دوروں میں گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب مشاورت سےکرتے ہیں، ضرورت پڑنے پر چیف سلیکٹر انضمام الحق سے بھی مشورہ کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ٹیم سیریز ہارجاتی ہے، ابھی آسٹریلیا نے ایشز سیریز جیتی لیکن انگلینڈ نے ون ڈے سیریز چار ایک سے جیت لی، وہاں کسی نے شکست میں سے سازشی مفروضوں کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔

    ’آسٹریلیا نے بھی ون ڈے سیریز میں ٹیم میں تبدیلیاں کیں، اوپنر تبدیل کئے، کیمرون وائٹ کو ہٹایا، بعض تبدیلیاں مثبت ہوتی ہیں اور بعض فیصلے بیک فائر کر جاتے ہیں، میں خراب کارکردگی کا دفاع نہیں کروں گا لیکن ہر بری کارکردگی اور شکست کے بعد اسے اختلافات قرار دینا درست نہیں ہے۔‘

    سرفراز احمد نے کہا کہ ہم نے غلطیاں کیں اور خراب کھیل کر ہارے، حسن علی کے واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے، ٹیم میں ایک خاندان والا ماحول ہے پانچ ہفتوں میں کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

    پاکستانی کپتان نے کہا کہ لڑائی جھگڑوں اور اختلافات کی خبریں غلط اور بے بنیاد ہیں، ایسی خبروں سے ٹیم کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور بیرون ملک پاکستان کرکٹ کی بدنامی ہوتی ہے، دوستوں کو ایسی خبروں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ سے شکست کے دوران غلطیاں ضرور ہوئیں، ٹیم کے انتخاب میں مکی آرتھر، انضمام الحق اور میں ایک صفحے پر ہیں، پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ماحول بہت اچھا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے ٹی ٹوئینٹی سیریز میں دنیا کی نمبر ایک ٹیم کو شکست دے کر نمبر ایک پوزیشن دوبارہ حاصل کی۔

    سرفراز احمد نے کہا کہ مسلسل چھ انٹر نیشنل میچ ہارنے کے بعد بڑی بڑی ٹیمیں سیریز میں واپس نہیں آتیں، پوری ٹیم کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے، ٹیم اسپرٹ ہی تھی جس کی وجہ سے گری ہوئی ٹیم آخری دونوں ٹی ٹوئینٹی میچوں میں دنیا کی مضبوط ٹیم کے خلاف کامیاب رہی۔

    ون ڈے اور ٹی ٹوئینٹی سیریز کے دوران ہونے والی غلطیوں کے بارے میں کپتان نے کہا کہ غلطیاں جان بوجھ کر نہیں ہوئیں، اتفاق تھا کہ ون ڈے میچ سے قبل امام الحق نے کہا کہ میری انگلی میں تکلیف ہے، ان کے انکار کے بعد فہیم اشرف کو اوپنر کی حیثیت سے کھلایا گیا، اسی طرح محمد نواز کو بھی ون ڈاؤن پر کھلانا کا فیصلہ مجبوری میں کیا گیا۔

    شکست کے اسباب بتاتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ ابتدائی چھ میچوں میں ہماری ٹاپ آرڈر کلک نہیں کررہی تھی، نئی گیند پر مسائل تھے، ون ڈے سیریز میں پاور پلے میں ہماری بیٹنگ لائن مشکلات میں گھر جاتی تھی، دباؤ کی وجہ سے مڈل اور لوئر آرڈر بھی مشکل میں آجاتی تھی، تمام پانچ میچوں میں بہت کم اسکور پر دو وکٹ گر جاتے تھے لیکن میں کریڈٹ لڑکوں، ٹیم انتظامیہ، سلیکشن کمیٹی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو دوں گا جنہوں نے ٹیم کو گرنے نہیں دیا اور بیک کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ احمد شہزاد کی شمولیت سے فائدہ ہوا، سنیئر بیٹسمین کی حیثیت سے انہوں نے اپنی شمولیت سے ٹیم کو فائدہ دیا، آخری دونوں ٹی ٹوئینٹی میچوں میں ٹیم نے بولنگ میں بھی اچھی کارکردگی دکھائی، بیٹنگ بھی چل گئی اور فیلڈنگ بھی اچھی رہی، اوپننگ اسٹینڈ کی وجہ سے ٹیم کو فائدہ ہوا، احمد شہزاد اور بابر اعظم کے علاوہ میں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔

    سرفراز احمد نے کہا کہ بولروں نے بھی اپنا کردار خوب نبھایا، جیت کی وجہ سے کئی خامیاں چھپ جاتی ہیں لیکن یہ ٹیم اسپرٹ اور کھلاڑیوں کی محنت ہی تھی جس کی وجہ سے پاکستان ٹیم دوبارہ نمبر ایک بن گئی ہے۔

    ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر کی جانب سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو نارتھ ناظم آباد کی ٹیم قرار دیئے جانے پر کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ شعیب اختر میرے بڑے ہیں، محمد حفیظ پاکستانی ٹیم کا کھلاڑی ہے اگر وہ کسی وجہ سے نہیں کھیلتے تو پاکستان ٹیم کو گلی محلے کی ٹیم قرار دینا افسوس ناک ہے، کسی کھلاڑی کو نہ کھلانے پر یہ ریمارکس افسوس ناک تھے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ون ڈے سیریز میں بیٹنگ کے بعد فاسٹ بولروں کی وجہ مشکل پیش آئی، جب فاسٹ بولر نیوزی لینڈ پہنچے تو تھکے ہوئے تھے، مکی آرتھر نے درست کہا ہے کہ مسلسل کرکٹ کی وجہ سے ہمارے کھلاڑی کی فٹنس متاثر ہورہی ہے، پاکستانی فاسٹ بولر تینوں فارمیٹ میں کھیلتے ہیں۔

    پاکستانی کپتان نے کہا کہ ہمارے فاسٹ بولر جب کسی لیگ میں کھیلتے ہیں تو انہیں اہم کھلاڑی کی حیثیت سے شامل کیا جاتا ہے، بگ بیش ہو یا کاؤنٹی کرکٹ، بنگلہ دیش پریمیئر لیگ ہو یا کیریبین لیگ، پاکستانی کرکٹرز کو سارے میچ کھیلنا پڑتے ہیں جس سے ان کی فٹنس متاثر ہوتی ہے۔

    سرفراز احمد نے کہا کہ وطن واپسی کے بعد کھلاڑی ایک سے ڈیڑھ ہفتے آرام کریں گے، ان کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ریجن کی جانب سے ون ڈے ٹورنامنٹ کھیلیں، میچوں کے آف ڈے پر پاکستانی ٹیم کے ٹرینر گرانٹ لوڈن قومی اکیڈمی میں موجود ہوں گے، وہ کھلاڑیوں کو فٹنس کا پلان دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ٹیم انتظامیہ نے نیوزی لینڈ میں یہ بات محسوس کی تھی کہ بعض کھلاڑی ٹیم کے ساتھ رہ کر فٹنس پر کام کرتے ہیں اور آف کرنے کے بعد ریلکس کرتے ہیں، کوچ نے تمام کھلاڑیوں سے کہا ہے کہ وہ ٹرینر کے ساتھ رابطے میں رہیں اور اپنی فٹنس پر توجہ دیں۔

    سرفراز احمد نے کہا کہ آکلینڈ سے دبئی کی طویل فلائٹ کے دوران حسن علی کے پاؤں میں سوزش بڑھ گئی ہے، انہیں فوری طور پر چار ہفتے آرام کا مشورہ دیا گیا ہے، ہوسکتا ہے کہ حسن علی پاکستان سپر لیگ کے ابتدائی میچوں میں شرکت نہ کرپائیں۔

    سرفراز احمد نے مزید کہا کہ میں ایک ہفتے بعد عمرے کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب جارہا ہوں جس کے بعد پاکستان سپر لیگ میں حصہ لوں گا۔

  • ویمن ہاکی ٹیم کے کوچ سعید خان کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

    ویمن ہاکی ٹیم کے کوچ سعید خان کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

    پاکستان ویمن ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ سعید خان نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے، وہ جلد پاکستان ہاکی فیڈریشن کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیں گے۔

    بنکاک میں ہونے والے ایشین گیمز کوالیفائر میں پاکستان ویمن ہاکی ٹیم نے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ،سات ٹیموں کے ایونٹ میں پاکستان ٹیم نے صرف ایک میچ میں کامیابی حاصل کی ا ور پانچ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ سعید خان نے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے، اس حوالے سے انہوں نے بنکاک میں کھلاڑیوں سے گفتگو میں بھی کہہ دیا کہ یہ ان کا آخری ایونٹ ہے ۔

    سعید خان جلد پی ایچ ایف کو بھی اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیں گے ،ٹیم کی ناقص کارکردگی کے علاوہ دو خواتین کھلاڑیوں کے الزامات کی وجہ سے بھی سعید خان اپنے عہدے سے الگ ہو رہے ہیں ۔

error: Content is protected !!