لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)پی سی بی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس سابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم کی سربراہی میں رواں ماہ ہوگا، اجلاس میں قومی ٹیم اور کوچز کی انگلینڈ میں کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
مصباح الحق کو بھی اجلاس میں طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع پی سی بی کے مطابق اجلاس معمول کی کارروائی ہے، اجلاس دورہ انگلینڈ کے بعد ہو رہا ہے تو اس میں ٹیم کی پرفارمنس کا معاملہ بھی آئے گا۔ مینجمنٹ میں تبدیلیوں کا معاملہ زیر بحث نہیں ہو گا، یونس خان سے دورہ انگلینڈ کیلئے معاہدہ تھا۔
لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کنٹریکٹ میں شامل تمام کوچز کو یوٹیوب چینلز چلانے سے روک دیا ہے۔ذرائع کے مطابق پی سی بی نے ہائی پرفارمنس سینٹر اور ریجنل ٹیموں کے تمام نئے مقرر کردہ کوچزکو پالیسی سے آگاہ کردیاہے۔
پی سی بی کے مطابق کنٹریکٹ میں شامل کوچز یو ٹیوب چینلز نہیں چلائیں گے اور کسی کو بھی انٹرویو دینے کے لیے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔پی سی بی نے واضح کیا ہے کہ پالیسی کےخلاف کام کرنے والوں کوکارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ نے یہ فیصلہ گذشتہ دنوں ہیڈ آف انٹرنیشنل پلیئرز ڈویلپمنٹ ثقلین مشتاق کا یوٹیوب پر بیان سامنے آنے کے بعد کیا ہے۔
لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)سابق ڈائریکٹر اکیڈمیز پی سی بی مدثر نذر کا کہنا ہے کہ کاش بڑے ناموں والے کرکٹرز کو ایک برس پہلے کوچ تعینات کر دیا جاتا تو پاکستان کرکٹ کا بہت فائدہ ہوتا۔پی سی بی کی جانب سے ری اسٹرکچرنگ سے قبل سابق ٹیسٹ کرکٹر مدثر نذر ڈائریکٹر اکیڈمی رہے، اب نیشنل کرکٹ اکیڈمی کو نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور ندیم خان کی ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس تقرری کے علاوہ بھی کئی ایک تقرریاں کی گئی ہیں۔
سابق ڈائریکٹر اکیڈمیز مدثر نذر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مجھے خوشی ہے کہ محمد یوسف، یونس خان، فیصل اقبال اور دیگر بڑے نام کوچز بنے ہیں، ان کے نام تو ایک برس پہلے بھی آئے تھے اور اگر اس وقت ان کا تقرر ہو جاتا تو پاکستان کرکٹ کو مزید فائدہ ہوتا لیکن اس وقت بورڈ کی مرضی نہیں تھی اور معاوضے بھی اتنے نہیں تھے کہ کوئی آنے کے لیے آمادہ ہوتا، اب ان کے معاوضے بڑھا دیے گئے ہیں جو کہ اچھی بات ہے۔مدثر نذر کا کہنا ہے میں سمجھتا ہوں کہ باہر سے لوگوں کو لانا اور ان سے کام کرانا غلط نہیں ہے کیونکہ میں نے بھی باہر سے آکر کام کیا ہے اور دوسرے ملکوں میں بھی جا کر کام کیا ہے تو میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ یہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ کوالیفائیڈ ہیں اور میرٹ پر پورا اترتے ہیں تو کام کرنا چاہیے، باہر سے آکر ملک کی خدمت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر پسند و ناپسند کی بنیاد پر لایا جائے اور نکالا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ زیادتی ہو گی۔ان کا کہنا ہے کہ موجودہ عمل میں یہ رحجان نظر آیا ہے، اس سے جتنی جلد چھٹکارا حاصل کر لیں اتنا بہتر ہے۔سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ میں نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ٹی وی یا کہیں اور بیٹھ کر بولنے والوں کو نوکریاں دی جا رہی ہیں، یہ سوچ غلط ہے کہ منہ بند کرا دیں تو پھر صرف واہ واہ ہو گی، ایسا نہیں ہو سکتا، 90 کی دہائی سے لیکر اب تک آپ نے کتنے لوگوں کو چپ کرا دیا ہے، اب اگر کچھ کو آپ نے جاب دے دی ہے تو کیا دوسرے نہیں بولیں گے، جنہیں نکالا ہے وہ یا ان کے دوست نہیں بولیں گے، کرکٹ بورڈ چلانا ہے تو درست انداز میں چلائیں یہ نہ کریں کہ اپنی جاب بچانے کے لیے بھرتیاں کرتے جائیں۔
مدثر نذر نے کہا کہ گزشتہ سیزن کے قائد اعظم ٹرافی کی چیمپئن سینٹرل پنجاب کے کوچ اعجاز جونئیر کو نکالنا سب سے حیران کن ہے، کہا جا رہا ہے کہ کھلاڑیوں سے پوچھا ہے اور اس رپورٹ پر نکالا گیا ہے، دنیا میں کونسا ایسا کرکٹر ہے جو اپنے کوچ سے خوش ہوتا ہے، اب اگر پاکستان ٹیم ہار جاتی ہے اور کچھ کرکٹرز مصباح الحق کے خلاف بات کرتے ہیں تو کیا مصباح الحق کو نکال دیا جائے گا۔سابق ڈائریکٹر اکیڈمیز نے کہا کہ یہ درست ہے کہ جب نئے لوگ آتے ہیں تو اپنے ساتھ نئے لوگوں کو لاتے ہیں اس لیے اب ردو بدل بھی زیادہ ہوا ہے، نئے لوگ نئے انداز اور جاںنے والوں کو ترجیح دیتے ہیں لیکن مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ کوچ ایجوکیشن کو اہمیت نہ دے کر نظام تباہ کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ابھی بھی تقرریوں میں کوچ ایجوکیشن کو اہمیت نہیں دی گئی، کورسز کو فوقیت نہیں دی گئی، مجھے بڑی امید تھی کہ چیف ایگزیکٹو وسیم خان اپنے دوست ڈیوڈ پارسنز اور گرانٹ بریڈ برن کے ساتھ مل کر کوچ ایجوکیشن پروگرامز کو آگے لیکر چلیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
لاہور (سپورٹس لنک رپورٹ)۔ سیکرٹری سپورٹس، یوتھ افیئرز، آرکیالوجی و ٹور ازم پنجاب احسان بھٹہ نے کہا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز میں نئے بھرتی ہونے والے تحصیل سپورٹس افسران اور ڈویژنل کوچز کو آن لائن دی جانے والی کیپسٹی بلڈنگ اینڈ ٹریننگ سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں گے، تمام افسران نے ٹریننگ میں بھرپور دلچسپی لی، صوبائی وزیر کھیل، امور نوجوانان، آثار قدیمہ و سیاحت رائے تیمور خان بھٹی کے مشکور ہیں جن کی سرپرستی حاصل رہی، انتہائی کم لاگت سے آن لائن ٹریننگ کے انتظامات کرنے پر ڈائریکٹر ایڈمن جاوید چوہان اور آئی ٹی ماہرین کو مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے پانچ روزہ ٹریننگ کو احسن طریقے سے منعقد کرایا،
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز افسران کی آن لائن کیپسٹی بلڈنگ اینڈ ٹریننگ کورس کے اختتام پر افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈائریکٹر ایڈمن جاوید چوہان، ڈائریکٹر سپورٹس محمد حفیظ بھٹی،پراجیکٹ ڈائریکٹر پی ایم یو اکرم صوبن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ناصر ملک، آئی ٹی انچارج جواد اللہ و دیگر بھی موجود تھے، سیکرٹری سپورٹس، یوتھ افیئرز، آرکیالوجی و ٹور ازم پنجاب احسان بھٹہ نے مزید کہا کہ افسران کو ماہرین نے اپنے تجربے کی روشنی میں لیکچرز دیئے ہیں جن سے تمام افسر استفادہ کرکے اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائیں، انہوں نے نئے افسران سے کہا کہ آج سوشل میڈیا کا دور ہے
اس حوالے سے تمام افسران اس بات کا خیال رکھیں اور سوشل میڈیا کو استعمال کریں، سوشل میڈیا کے ذریعے کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کرائیں، تمام افسران نے ٹریننگ میں بھرپور دلچسپی لی جو کہ خوش آئند ہے، ٹریننگ کے دوران انہوں نے جو رپورٹس تیار کی ہیں وہ بہترین ہیں ان پر مزید کام کریں اور بہتر بنائیں، ٹریننگ میں ہم کو صوبائی وزیر کھیل، امور نوجوانان، آثار قدیمہ و سیاحت رائے تیمور خان بھٹی کی سرپرستی حاصل رہی جس سے ورکشاپ کامیاب رہی۔
ڈائریکٹر ایڈمن جاوید چوہان نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے پہلی بار افسران کو آن لائن ٹریننگ کا اہتمام کیا ہے جو انتہائی کامیاب رہی، ٹریننگ سے افسران کی کارکردگی بہت بہتر ہوگی اور اس کے دور رس نتائج آئیں گے، نوجوان افسران نے ٹریننگ کی بہت اچھی رپورٹس تیار کی ہیں جس سے ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں سپورٹس کو فروغ ملے گا، ڈائریکٹر ایڈمن جاوید چوہان نے سیکرٹری سپورٹس، یوتھ افیئرز، آرکیالوجی و ٹور ازم پنجاب احسان بھٹہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہدایت پر آن لائن ٹریننگ دی گئی اور ان کی رہنمائی سے ٹریننگ پروگرام کامیاب رہا، انہوں نے افسران سے کہا کہ جس طرح ٹریننگ میں افسران نے ڈسپلن کا مظاہرہ کیا ہے اسی طرح وہ اپنے کام میں بھی ڈسپلن کا مظاہرہ کریں اور اس ٹریننگ سے جو کچھ سیکھا ہے اس پر عمل پر کریں تاکہ پنجاب حکومت کے ویژن کے مطابق سپورٹس کو فروغ، ترقی ملے اور نیا ٹیلنٹ سامنے آئے
انہوں نے تجویز دی کہ مہینے میں ایک دو روز کی ورکشاپ منعقد کی جائے جس میں ڈویلمپنٹ کے حوالے تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے، سیکرٹری سپورٹس پنجاب احسان بھٹہ نے تجویز کی تائید کی، تمام تحصیل سپورٹس افسران و ڈویژنل کوچز نے صوبائی وزیر کھیل، امور نوجوانان، آثار قدیمہ وسیاحت رائے تیمور خان بھٹی اور سیکرٹری سپورٹس، یوتھ افیئرز، آرکیالوجی و ٹورازم پنجاب احسان بھٹہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ انہوں نے نئے افسران کی بہترین رہنمائی کی ہے اور اس ٹریننگ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے اگر یہ ٹریننگ نہ ہوتی تو ہم اندھیرے میں رہتے اور ہم کو شاید علم نہ ہوتا کہ ہمارا کام کیا ہے، ٹریننگ کے آخری روز کریکٹر بلڈنگ پر ساجد حفیظ ملک نے افسرا ن کو لیکچر دیا۔ آن لائن کیپسٹی بلڈنگ اینڈ ٹریننگ کورس کے اختتام پر بہترین رپورٹس تیار کرنے اور پریزنٹیشن دینے والے تحصیل سپورٹس افسران و ڈویژنل کوچز کے ناموں کا اعلان کیا گیا جس کا فیصلہ کمیٹی نے کیا ہے، بہترین رپورٹس بنانے اور پریزنٹیشن دینے والوں میں مرزا مدثر پہلے، قمر عباس دوسرے اور اقراء حسن تیسرے نمبر پر رہیں۔