Tag: Hassan Nawaz

  • حسن نواز کی شاندار نصف سنچری، پاکستان کی فتح اور نیاز 18 کرکٹ اکیڈمی میں جشن

    حسن نواز کی شاندار نصف سنچری، پاکستان کی فتح اور نیاز 18 کرکٹ اکیڈمی میں جشن

    حسن نواز کی شاندار نصف سنچری،

    پاکستان کی فتح اور نیاز 18 کرکٹ اکیڈمی ایوب پارک راولپنڈی میں جشن

    تحریر: عبدالغفار، کرکٹ کمنٹیٹر و اسپورٹس جرنلسٹ اسلام آباد

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کھیلے گئے میچ نے کرکٹ شائقین کو ایک بار پھر پرجوش کر دیا۔ قومی ٹیم کے نوجوان اوپنر حسن نواز نے اپنی شاندار نصف سنچری کے ذریعے نہ صرف میچ کا نقشہ بدل دیا بلکہ اپنے مستقبل کے بارے میں بھی ایک واضح پیغام دے دیا کہ پاکستان کرکٹ کو نیا اسٹار مل گیا ہے۔

    حسن نواز کی اننگز میں اعتماد، پختگی اور جارحانہ کرکٹ کا حسین امتزاج نظر آیا۔ انہوں نے آغاز سے ہی مخالف باؤلرز پر دباؤ ڈالا اور ایسے شاٹس کھیلے جنہیں دیکھ کر کرکٹ کے شائقین ہی نہیں بلکہ ماہرین بھی داد دینے پر مجبور ہوگئے۔

    ان کی بیٹنگ میں وہ کرکٹنگ اسٹائل دکھائی دیا جس کی توقع شائقین ایک عالمی معیار کے اوپنر سے کرتے ہیں۔ خاص طور پر باؤنڈری لائن کے پار کھیلے گئے اسٹروکس نے یہ باور کرایا کہ حسن نواز میں کسی بھی بڑے اسٹیج پر کھڑا ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔

    یہ کارکردگی صرف ایک کھلاڑی کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک مکمل سسٹم اور محنت کار فرما ہے۔ حسن نواز نے جس جگہ اپنی بنیادی تربیت حاصل کی،

    یعنی نیاز 18 کرکٹ اکیڈمی ایوب پارک راولپنڈی، وہاں کا ماحول اور کوچنگ ان کی اس کامیابی کا اصل راز ہے۔ اس اکیڈمی نے چند ہی برسوں میں وہ پہچان حاصل کر لی ہے جو بڑی بڑی کرکٹ اکیڈمیز برسوں میں بھی حاصل نہیں کر پاتیں۔

    اکیڈمی کے ہیڈ کوچ نیاز علی خان ایک ماہر اور دور اندیش کوچ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایوب پارک میں اپنی نگرانی میں نوجوانوں کو جدید کرکٹ کی تربیت فراہم کی ہے۔

    بیٹرز کے لیے خصوصی اسٹک پریکٹس، بولرز کے لیے باؤلنگ کی الگ مشقیں اور فٹنس پر بھرپور توجہ نے یہاں کے ٹیلنٹ کو نکھارنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    حسن نواز کی کامیابی دراصل اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جب کسی کھلاڑی کو درست رہنمائی، سخت محنت اور مثبت ماحول میسر آ جائے تو کامیابی خود اس کے قدم چومتی ہے۔

    ایوب پارک میں قائم یہ اکیڈمی آج راولپنڈی ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے امید کا چراغ بن چکی ہے۔ یہاں کے کھلاڑی نہ صرف قومی سطح پر جگہ بنا رہے ہیں بلکہ ان کی کارکردگی انٹرنیشنل سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    حسن نواز نے نصف سنچری بنا کر جس طرح اپنی ٹیم کو فتح دلائی، اس کے بعد اکیڈمی میں جشن کا سماں تھا۔ کھلاڑیوں، کوچز اور شائقین سب نے مل کر یہ کامیابی منائی کیونکہ یہ صرف ایک بیٹسمین کی اننگز نہیں تھی بلکہ ایک ادارے کی محنت اور خواب کی تکمیل تھی۔

    کرکٹ کے تجزیہ نگار یہ بات زور دے کر کہہ رہے ہیں کہ حسن نواز جیسا کھلاڑی مستقبل میں پاکستان کرکٹ کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔ ان کی عمر ابھی کم ہے اور وہ اپنے کیریئر کے آغاز پر ہیں،

    لیکن جس اعتماد کے ساتھ وہ میدان میں اترے اور دباؤ کو جھیلتے ہوئے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی، وہ غیر معمولی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان کرکٹ کو ہمیشہ ایسے ہی نوجوان بیٹسمینوں کی ضرورت رہی ہے جو دباؤ میں ٹیم کو سہارا دے سکیں۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حسن نواز کی اننگز نے پاکستان کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں کئی سوالوں کے جواب بھی دے دیے ہیں۔ ایک طرف سینئر کھلاڑیوں پر کارکردگی نہ دکھانے کا دباؤ ہے تو دوسری طرف حسن نواز جیسے نوجوان ابھرتے ہوئے اسٹارز موجود ہیں جو ہر وقت موقع ملنے کا انتظار کرتے ہیں۔ یہی وہ ٹیلنٹ ہے جو پاکستان کرکٹ کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

    دوسری جانب، نیاز 18 کرکٹ اکیڈمی کو خراج تحسین پیش کرنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان میں اکثر والدین اور نوجوان کرکٹ کے شوق کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، لیکن ایسی اکیڈمیز نوجوانوں کے شوق کو مثبت سمت دیتی ہیں۔

    ہیڈ کوچ نیاز علی خان کا وژن یہی ہے کہ نوجوانوں کو جدید سہولیات اور ٹریننگ فراہم کر کے ان میں سے عالمی معیار کے کھلاڑی پیدا کیے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج حسن نواز جیسے کھلاڑی ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں اور دنیا کو اپنی صلاحیتوں سے متاثر کر رہے ہیں۔

    اکیڈمی کے کھلاڑیوں کے لیے یہ لمحہ ایک سبق بھی ہے کہ محنت، لگن اور صحیح کوچنگ کے ذریعے بڑے خواب پورے کیے جا سکتے ہیں۔ حسن نواز کی مثال ان سب کے سامنے ہے۔ آج جب وہ قومی ٹیم کا حصہ بنے ہیں اور میدان میں پرفارم کر رہے ہیں تو اس کے پیچھے برسوں کی محنت اور کوچز کی رہنمائی ہے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومتی سطح پر ایسے اداروں کی سرپرستی کی جانی چاہیے۔ اگر ملک کے ہر بڑے شہر میں ایسی جدید اکیڈمیز قائم کر دی جائیں تو یقیناً پاکستان دنیا کی بڑی کرکٹ طاقتوں میں ایک بار پھر اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔ راولپنڈی کی یہ اکیڈمی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ کی کمی نہیں، کمی ہے تو صرف سہولیات اور درست رہنمائی کی۔

    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ حسن نواز کی نصف سنچری صرف ایک اننگز نہیں بلکہ ایک کہانی ہے محنت، عزم اور رہنمائی کی۔ یہ اننگز اس بات کا پیغام ہے کہ پاکستان کے نوجوان کھلاڑی دنیا کے کسی بھی بڑے کھلاڑی سے کم نہیں۔ ان میں وہ صلاحیت ہے جو کسی بھی بڑے موقع پر پاکستان کا جھنڈا بلند کر سکتی ہے۔

    جشن صرف ایوب پارک میں نہیں منایا گیا بلکہ یہ خوشی ہر اس پاکستانی کے دل میں محسوس کی گئی جو کرکٹ سے محبت کرتا ہے۔ امید یہی ہے کہ حسن نواز جیسے کھلاڑی آئندہ بھی پاکستان کو فتوحات دلاتے رہیں گے اور نیاز 18 کرکٹ اکیڈمی مستقبل میں مزید ایسے ہی اسٹارز تیار کر کے پاکستان کرکٹ کو نئی بلندیوں پر پہنچائے گی۔

  • فائنل سے قبل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے حسن نواز ان فٹ ہو گئے

    فائنل سے قبل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے حسن نواز ان فٹ ہو گئے

    فائنل سے قبل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے حسن نواز ان فٹ ہو گئے۔

    حسن نواز کا پریکٹس سیشن کے دوران پاؤں مڑ گیا، انہیں ریسکیو کی گاڑی کے ذریعے ایکسرے کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم فائنل کیلئے ایل سی سی اے گراؤنڈ پر پریکٹس میں مصروف تھی۔

    واضح رہے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پی ایس ایل سیزن 10 کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرچکا ہے،ایونٹ کا فائنل میچ اتوار کو کھیلا جائے گا۔

  • حسن نواز نئے میچ فنشر، آخری بال پر چھکا لگا کر کوئٹہ کو میچ جتوایا

    حسن نواز نئے میچ فنشر، آخری بال پر چھکا لگا کر کوئٹہ کو میچ جتوایا

    حسن نواز نئے میچ فنشر، آخری بال پر چھکا لگا کر کوئٹہ کو میچ جتوایا

    کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے جارح مزاج بیٹر حسن نواز نے پی ایس ایل 10 میں ایک بار پھر میچ فنش کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتح دلادی۔

    تفصیلات کے مطابق ملتان سلطانز کے خلاف ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے آخری اوور میں کوئٹہ گلیڈی ایٹر کو جیت کےلیے 11 رنز درکار تھے، ایسے میں حسن نواز نے آخری اوور میں 2 چھکے لگا کر میچ جتوادیا۔

    ملتان کے بولرز محمد حسنین آخری اوور کرنے کےلیے آئے، انھوں نے پہلی بال ڈاٹ کی جبکہ دوسری بال پر حسن نے دو رنز لیے۔

    اس کے بعد والی بال پھر ڈاٹ رہی جس کے بعد میچ مزید سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوگیا اور کوئٹہ کو 3 بالز پر جیت کےلیے 9 رنز درکار تھے، اگلی بال پر حسن نواز نے حسنین کو چھکا جڑ دیا۔

    اس کے پانچویں بال پر ابرار احمد رن آئوٹ ہوگئے، تاہم حسن نے اپنے حواس قابو میں رکھے اور آخری بال پر جب جیت کےلیے 3 رنز درکار تھے انھوں نے چھکا لگا کر کوئٹہ کو جیت دلوادی۔

  • صفر پر آؤٹ ہونے کا ناپسندیدہ ریکارڈ حسن نواز کے نام

    صفر پر آؤٹ ہونے کا ناپسندیدہ ریکارڈ حسن نواز کے نام

    پاکستانی ٹیم کے نوجوان اوپنر حسن نواز نے صفر پر آؤٹ ہونے کا ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

    ویلنگٹن میں کھیلے گئے آخری ٹی ٹوئنٹی میچ صفر پر آؤٹ ہو کر ایک ہی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں تین بار صفر پر آؤٹ ہوکر ناپسندیدہ ریکارڈ بنایا۔

    حسن نواز نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں بھی کوئی رنز نہ بنا سکے، تیسرے میچ میں تیز ترین سنچری بنا ڈالی۔

    نوجوان اوپنر چوتھے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ایک رنز بنا کر پویلین لوٹے جبکہ آخری میچ میں صفر پر آؤٹ ہوئے۔ اس طرح وہ ایک سیریز میں بطور اوپنر تین بار صفر پر آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔

    ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستانی اوپنرز کی جانب سے سب زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے والوں میں حسن نواز پہلے نمبر پر آ گئے ہیں وہ تین بار صفر پر آؤٹ ہوئے۔

    ٹی20 سیریز میں پاکستانی اوپنر کی جانب سے سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے والوں کی فہرست:

    3 – حسن نواز (5 اننگز)

    2 – شاہ زیب حسن (2 اننگز)

    2 – محمد حفیظ (3 اننگز)

    2 – محمد رضوان (4 اننگز)

  • حسن نواز پر تنقید: نوجوان کھلاڑی کو وقت دینے اور عزت دینے کی ضرورت

    حسن نواز پر تنقید: نوجوان کھلاڑی کو وقت دینے اور عزت دینے کی ضرورت

    حسن نواز پر تنقید: نوجوان کھلاڑی کو وقت دینے اور عزت دینے کی ضرورت

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان جاری پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریزکے چوتھے میچ میں پاکستان کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 115 رنز کے بڑے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے

    جس کے بعد سیریز بھی اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میچ کی شکست کا جیسے شائقین کرکٹ بالخصوص سوشل میڈیا پر بیٹھے کرکٹ سے نابلد ماہرین کرکٹ کو انتظار تھا

    اور بالخصوص اس بات کا انتظار تھا کہ حسن نواز فلاپ ہو جائے اور وہ اس کی سوشل میڈیا پر ایسی تیسی پھیر کر رکھ دیں، نجانے ایسا کرنے سے ان کو کیا سکون ملتا ہے۔۔۔؟، یہ سمجھ نہیں آئی۔

    حسن نواز نوجوان بیٹر ہے پہلے دو میچوں میں ناکام ہوا اور تیسرے میچ میں اس نے ریکارڈ ساز سنچری سکورکرتے ہوئے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا جس کے بعد ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا اور ہر طرف اس کے چرچے شروع ہو گئے

    اس کی شاٹس کی تعریفوں میں زمین و آسمان ایک کردیئے گئے لیکن ساتھ ساتھ ہی یہ سب کچھ کرنے والے دل میں کہیں اس سے نفرت رکھ کر بیٹھے تھے اور انتظار میں تھے کہ یہ چوتھے میچ میں فلاپ ہو اور آپ اس کی بے عزتی کرکے اپنے دل کو سکون دے سکیں۔

    یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ کیا نیوزی لینڈ کیخلاف صرف حسن نواز ہی کھیل رہا ہے، دوسرا کوئی کھلاڑی نہیں کھیل رہا یا دوسرے کسی کھلاڑی کی اچھی کارکردگی دکھانے کی ذمہ داری نہیں ہے۔۔۔؟ ایک بیٹر جو ابھی نیا آیا ہے شکست کا سارا غصہ اس پر نکال دینا کیا انصاف ہے۔۔۔؟

    کھلاڑیوں کی کارکردگی پر تنقید ضرور کریں مگر ان کی بے عزتی مت کریں۔ اور تنقید کا حق بھی انہی ماہرین کو ہے جو کرکٹ کو سمجھتے ہیں صرف ادھر ادھر سے معلومات اکٹھی کرکے سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرنے والوں کو یہ حق قطعی نہیں کہ وہ کسی کے کارکردگی پر اس کے ساتھ یہ سلوک کریں۔

    حسن نواز نے ابھی چار میچ کھیلے ہیں اس کے ساتھ جو کچھ ابھی کیا جا رہا ہے اس کے ساتھ اس وقت کیا جانا چاہئے تھا جب وہ کم از کم دس میچوں میں ناکام نظر آتا اتنا وقت تو دینا چاہئے

    کسی بھی کھلاڑی کو، اگر شاہد آفریدی جیسے شعبدہ باز کو ایک تیز ترین سنچری کے باعث سالہا سال برداشت کیا اور کرکٹ کا بیڑا غرق کروا دیا تو حسن نواز کو کم از کم دس میچ تو دے دیتے اس پر چھریاں چلانے سے پہلے۔

  • حسن نواز کی تیز ترین سنچری پر محمد رضوان ، بابر اعظم نے کیا کہا؟

    حسن نواز کی تیز ترین سنچری پر محمد رضوان ، بابر اعظم نے کیا کہا؟

    حسن نواز کی تیز ترین سنچری پر محمد رضوان ، بابر اعظم نے کیا کہا؟

    نوجوان بیٹر حسن نواز نے نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹی ٹونٹی میچ میں شاندار سنچری اسکور کی جس پر ٹیم سے باہر موجود کرکٹرز بابر اعظم اور محمد رضوان نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    جمعہ کے روز پاکستان نے پانچ میچوں کی ٹی ٹونٹی سیریز کے تیسرے میچ میں میزبان نیوزی لینڈ کو 9 وکٹوں سے شکست دی۔ نیوزی لینڈ نے 205 رنز کا ہدف دیا، جسے گرین شرٹس نے حسن نواز کی شاندار سنچری کی بدولت صرف 16 اوورز میں مکمل کر لیا۔

    22 سالہ حسن نواز کی اس شاندار کارکردگی پر ون ڈے ٹیم کے کپتان محمد رضوان نے انسٹاگرام اسٹوری پر حسن نواز کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ حسن اور پاکستان ٹیم نے شاندار پرفارمنس دکھائی۔

    اس کے علاوہ، بابر اعظم نے بھی انسٹاگرام اسٹوری پر حسن نواز اور محمد حارث کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ "تم پر فخر ہے”۔

    واضح رہے کہ محمد رضوان کو پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کپتانی سے ہٹا کر سلمان علی آغا کو کپتان بنایا گیا ہے جبکہ بابر اعظم کو بھی کیویز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے ڈراپ کیا گیا ہے۔

    نیوزی لینڈ کو پانچ میچوں کی سیریز میں پاکستان کے خلاف 1-2 کی برتری حاصل ہے۔

  • پی ایس ایل x ; حسن نواز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے کھیلیں گے

    پی ایس ایل x ; حسن نواز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے کھیلیں گے

    حسن نواز پی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے کھیلیں گے

    نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار سنچری اسکور کرنے والے حسن نواز پی ایس ایل ایڈیشن 10 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے کھیلیں گے۔

    پلیئرز ڈرافٹس میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے حسن نواز کو ایمرجنگ کیٹیگری میں منتخب کرکے اپنے اسکواڈ کا حصہ بنایا تھا، وہ پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے ایکشن میں نظر آئیں گے۔

    نوجوان بلے باز نے پاکستان سپر لیگ 2023 میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کی تھی، اس دوران انہیں صرف تین میچوں میں کھیلنے کا موقع ملا تھا، انہوں نے تین میچوں میں 28 رنز بنائے تھے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 100 اور اوسط 9.33 تھی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز حسن نو از کی تیز ترین سنچری نے پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا، جہاں پاکستان نے 200 رنز کا ہدف کم سے کم اوور میں پورا کرنے کا ریکارڈ بنایا تو حسن نے بھی بابراعظم کی تیز ترین سنچری کا ریکارڈ توڑ کر اپنے نام کیا۔

  • حسن نواز نے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کیلئے تیز ترین سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    حسن نواز نے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کیلئے تیز ترین سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    حسن نواز نے ٹی 20 میں پاکستان کیلئے تیز ترین سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    نیوزی لینڈ کیخلاف کھیلے جارہے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں قومی ٹیم نے متعدد ریکارڈز اپنے نام کرلیے۔

    آکلینڈ میں کھیلےجارہےتیسرےٹی ٹوئنٹی میچ میں حسن نوازنےٹی 20 میں پاکستان کیلئےتیزترین سنچری کاریکارڈ اپنےنام کرلیاہے،

    اس سےقبل ٹی 20انٹرنیشنل میں تیزترین سنچری کا ریکارڈ بابراعظم کے پاس تھا، جنہو ں2021ء میں جنوبی افریقہ کےخلاف 49 گیندوں سنچری سکور کی تھی ۔ پاکستان نےپاورپلےمیں ایک وکٹ پر 75 رنزبنائے،

    پاکستان نےپاورپلےمیں اپنےسب سےبڑے اسکورکاریکارڈ بنالیا،کپتان سلمان آغا نے31 گیندوں پر51 رنزکی ناٹ آؤٹ اننگزکھیلی،نیوزی لینڈکی ٹیم پہلےکھیلتے ہوئے204 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی۔

  • بیٹے کی عمدہ کارکردگی پربہت خوش اور اپنے رب کے شکرگذارہیں ; والدہ حسن نواز

    بیٹے کی عمدہ کارکردگی پربہت خوش اور اپنے رب کے شکرگذارہیں ; والدہ حسن نواز

    ’اس ڈر سے میچ نہیں دیکھا کہ کہیں بیٹے کو ہماری ہی نظر نہ لگ جائے‘: والدہ حسن نواز

    نیوزی لینڈ کیخلاف تیسرے ٹی 20میچ کے ہیرو حسن نواز کے والدین نے بیٹے کی شاندار پرفارمنس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسن نواز کی محنت رنگ لے آئی۔

    حسن نواز کے والد کا کہنا تھا کہ کم وسائل کے باوجود حسن نواز نے اپنے سفر میں ہمت نہیں ہاری انہوں نےلیہ کے پسماندہ علاقے کوٹلہ حاجی شاہ سے اپنا سفر شروع کیا،

    بیٹے کی عمدہ کارکردگی پربہت خوش اور اپنے رب کے شکرگذارہیں۔ حسن نواز کی والدہ نے کہا کہ اس ڈر سے میچ نہیں دیکھا کہ کہیں بیٹے کو ان کی ہی نظر نہ لگ جائے۔

    نیوزی لینڈ کے خلاف آکلینڈ میں 44 گیندوں پر 105 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھلینے اور ٹیم کو جیت سے ہمکنار کروانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئےحسن نواز نے کہا کہ وہ اپنی سنچری اپنے والد کے نام کرتے ہیں جو ہمیشہ ان کیلئے دعا کرتے ہیں۔

    نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شاندار اننگ کھلینے پر حسن نواز پر پلیئر آف دی میچ قرار پائے جبکہ انہوں نے بابر اعظم کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں تیز ترین سنچری بنانے والے پاکستانی کرکٹر ہونے کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

    یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ میچ حسن نواز کے کرئیر کا تیسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل تھا۔

  • شاداب خان نے میری کافی مدد کی اور حوصلہ بڑھایا ؛ حسن نواز

    شاداب خان نے میری کافی مدد کی اور حوصلہ بڑھایا ؛ حسن نواز

    شاداب خان نے میری کافی مدد کی اور حوصلہ بڑھایا ؛ حسن نواز

    نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پلیئر آف دی میچ قرار پانے والے حسن نواز کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق لیہ سے ہے ،وہاں سے لوگ پاکستان کیلئے کھیلنے کا خواب دیکھتے ہیں۔

    میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 100سے 150روپے پاکٹ منی ملتی تھی ،اپنی پاکٹ منی سے گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ ٹیپ بال کھیلتا تھا ،لیہ کے کرکٹ کلب میں ہارڈ بال کرکٹ سے پریکٹس شروع کی۔

    لیہ کےکلب میں صرف سردیوں میں چار پانچ مہینے کرکٹ ہوتی تھی،لیہ سے اسلام آباد آکر کلب سے کھیلنا شروع کیا،ایک سال انڈر 19 کرکٹ کھیلی، پھر ناردرن اور پی ایس ایل ٹیم کی نمائندگی کی۔

    خیبرپختونخوا کیخلاف ڈبیو میچ میں 45رنز کی اننگز کھیلی،کے پی ایل میں پہلی مرتبہ انٹرنیشنل ا سٹارز کیساتھ کھیل کر بہت اچھا لگا تھا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ شاداب خان نے میری کافی مدد کی اور حوصلہ بڑھایا،شعیب ملک کو فالو کرتا تھا ان کی فٹنس اور کرکٹ بہت اچھی لگتی تھی،محمد عامر میرے ہمیشہ سے فیورٹ بالر رہے ہیں ان کیخلاف کھیلنے کا تجربہ حاصل ہوا۔

    ٹیم میں شاہین آفریدی، حارث رؤف اور محمد علی کافی اچھے بالر ہیں،میری فیملی میں کرکٹ کوئی نہیں دیکھتا تھا،جب میرے میچز ٹی وی پر آنا شروع ہوئے توسب نے دیکھنا شروع کیا۔

    میرا بھائی مجھے کہا کرتا تھا کہ پڑھائی کیلئے جا نا ہے،کرکٹ کھیلنا شروع کی تو پڑھائی بیچ میں رہ گئی۔

error: Content is protected !!