لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ مصباح الحق کے پاس قومی ٹی کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کے عہدے تھے تاہم انہوں نے اب چیف سلیکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا عہدہ چھوڑنے کے حوالے سے مختلف باتیں کی جا رہی ہیں لیکن ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ عہدہ چھوڑنے کی وجہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی یا وزیراعظم عمران خان سے ملاقات نہیں ہے بلکہ یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے۔ان کا کہنا تھا آئندہ 10 سال میں 10 کمٹمنٹس ہیں اس لیے یہ عہدہ چھوڑ رہا ہوں، پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھے یہ آپشن دیا تھا کہ چاہیں تو ایک عہدہ چھوڑ دیں۔قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ چیف سلیکٹر کی ذمہ داری 30 نومبر تک نبھاؤں گا، آئندہ کوچنگ پر فوکس رکھوں گا۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ساتھ دو بڑے عہدے ہونے کی وجہ سے مصباح الحق پر دباؤ بھی تھا اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا بھی جا رہا تھا۔ذرائع کے مطابق مصباح الحق اس وجہ سے ناخوش بھی تھے کہ جو لوگ انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے انہیں سلیکشن کمیٹی کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔خیال رہے کہ مصباح الحق کو گزشتہ برس پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے ساتھ قومی ٹیم کا چیف سلیکٹر بھی بنایا گیا تھا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا اس حوالے سے کہنا تھا یہ ایک اچھا فیصلہ ہے کیونکہ اگر ایک ہی شخص کے پاس ذمہ داریاں ہوں گی تو خراب پرفارمنس پر ان ہی سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔
لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق اور عمر گل نے ملک میں ادارہ جاتی کرکٹ کو بحال کرنے کیلئے آواز بلند کی ہے، یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک سال قبل تمام ادارہ جاتی کرکٹ کی بساط لپیٹ دی تھی جس سے ہزاروں کرکٹرز بے روزگار ہو گئے تھے، جس کے بعد سے مختلف حلقوں کی جانب سے اس کی بحالی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے تاہم اب مصباح الحق اور عمر گل جو پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی کے ممبران ہیں نے بھی یہ مطالبہ کیا ہے کہ ادارہ جاتی کرکٹ کو بحال کیا جائے
اس حوالے سے عمر گل نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جب وہ ادارہ جاتی کرکٹ کھیلتے تھے تو انہیں ہر ماہ اتنی تنخواہ مل جاتی تھی جس سے وہ اپنے ماہنامہ اخراجات اٹھا لیتے تھے مگر اب سچ یہ ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ سے جو ہم کماتے ہیں اس میں گزارا کرنا بہت مشکل ہے۔
لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا ہے کہ طویل المدت منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کی بحالی کے لیے دورہ انگلینڈ انتہائی ضروری تھا اور جب ٹیم کی اچھی کارکردگی ہو گی تو اچھے نتائج بھی برآمد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم سے متعلق کچھ معاملات حوصلہ افزا ہیں تاہم مستقبل میں نوجوان کھلاڑیوں کو تسلسل کے ساتھ موقع دیں گے۔ اب ہم طویل المدت منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔ مصباح الحق نے کہا کہ کھلاڑی مستقبل میں اچھا کھیلنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہر کام میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے اس لیے ٹیم کو لمبے عرصے کے لیے تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے کوچز کے ناموں سے کبھی مسئلہ نہیں ہوا ہے کیونکہ ان کا کام ضروری ہے جب کہ بابراعظم پاور فل کپتان ہیں اور انہیں تمام فیصلوں کا اختیار ہے۔
مصباح الحق کا مزید کہنا تھا کہ ایک میچ کی کارکردگی پر کسی کرکٹر کو جانچنا انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا، سرفراز احمد نے پورے دورے پر سخت محنت کی۔ ہمارے پلانز میں اس وقت دو وکٹ کیپرز ہیں ، سرفراز احمد ابھی رضوان کے بعد سیکنڈ چوائس وکٹ کیپر ہیں لیکن سرفراز کو ایک میچ کے بعد ڈراپ کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔ وہ اب بھی ہمارے مستقبل کے پلانز کا حصہ ہیں ۔
لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن حسن خان کا کہنا ہے کہ دہری ذمہ داریوں کے بوجھ نے مصباح الحق کو دبا کا شکار کر دیا۔ایک انٹرویو میں سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کپتان محسن حسن خان نے بتایا کہ دہری ذمہ داریوں کے بوجھ نے مصباح الحق کو دبا کا شکار کر دیا، رائے عامہ بن رہی ہے کہ تینوں فارمیٹ کی کرکٹ میں ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر اپنے دونوں عہدوں سے انصاف نہیں کرپا رہے۔
محسن حسن خان نے کہا کہ 2011 میں چیف سلیکٹر تھا، ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھالنے کے لیے کہا گیا تو چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ کو فوری طور پر کہا کہ دہری ذمہ داریاں نہیں سنبھال سکتا، چیف سلیکٹر کا عہدہ واپس لے لیا جائے، آئندہ تینوں سال میں کوئی نہ کوئی آئی سی سی ورلڈکپ شیڈول ہے، ایسا نہ ہو کہ ہم کوئی سمت ہی متعین نہ کر سکیں۔واضح رہے کہ 2012 میں مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے انگلینڈ کو کلین سوئپ کیا تو محسن حسن خان ہی ہیڈکوچ تھے۔
چیف سلیکٹر ہیڈ کوچ مصباح الحق سمیت پوری ٹیم انتظامیہ سے معاہدوں کی تفصیلات طلب
لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)ایتھکس کوڈ کا نفاذ مفادات کا ٹکراروکنے کے لئے پی سی بی نے پالیسی بنالی بورڈ نے قومی ٹیم انتظامیہ سے تفصیلات طلب کرلیں۔ذرائع کے مطابق چیف سلیکٹر ہیڈ کوچ مصباح الحق سمیت پوری ٹیم انتظامیہ سے معاہدوں کی تفصیلات طلب کرلی گئیں، ٹیم انتظامیہ سے دوسری نوکری، مراعات اور معاہدوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کے نئے قانون کے تحت کوئی ملازم دو نوکریاں نہیں کرسکتا، بورڈ ملازمین کو آمدنی کے تمام ذرائع واضح کرنے ہوں گے، کوڈ آف ایتھکس بورڈ کے ملازمین اور دیگر متعلقہ سٹاف پر بھی لاگو ہے۔زرائع کے مطابق کوڈ آف ایتھکس جون میں گورننگ بورڈ کے اجلاس کے بعد نافذ العمل ہوا کوڈ آف ایتھیکس کے تحت مصباح الحق کو اپنی ایک نوکری چھوڑنی پڑ سکتی ہے۔ کوڈ ایتھیکس کے تحت سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کو بھی اپنے ڈیپارٹمنٹ چھوڑنا پڑسکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان سینئر، شاداب خان، محمد رضوان، وہاب ریاض کو بھی اداروں کی نوکریاں چھوڑنا ہوں گی۔ ٹیسٹ کپتان اظہر علی ، بابر اعظم، اسد شفیق، یاسرشاہ بھی نوکری چھوڑنا پڑے گی۔
نو عمر فاسٹ بائولر نسیم شاہ کو بھی سترہ رکنی سکواڈ میں شامل کرلیا گیا
لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)انگلینڈ کیخلاف ٹی ٹونٹی سیریز کیلئے قومی سلیکشن کمیٹی نے 17پلیئرز شارٹ لسٹ کر لئے جن میں نوعمر پیسر نسیم شاہ بھی شامل ہیں تاہم چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا ہے کہ یہ کم و بیش وہی ٹیم ہے جو کہ مختصر فارمیٹس میں پہلے بھی کھیلتی رہی ہے۔مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ گراؤنڈ میں 28اگست سے شروع ہونے والی تین میچوں کی سیریز کیلئے بابر اعظم کی زیرقیادت ٹیم میں فخر زمان،حیدر علی،حارث رؤف،افتخار احمد،عماد وسیم،خوشدل شاہ،محمد حفیظ،محمد حسنین،محمد رضوان،محمد عامر،نسیم شاہ،سرفراز احمد،شاداب خان،شاہین آفریدی ،شعیب ملک اور وہاب ریاض شامل ہیں۔
قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ تر ان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم ہے جو مختصر فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں البتہ ان میں پی ایس ایل،انڈر 19اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کے حامل بیٹسمین حیدر علی اور فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کو بھی شامل کیا گیا ہے کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے انہیں بڑے سکواڈ کی سہولت حاصل ہے
جبکہ ان کے آپشنز بھی بڑھ گئے ہیں۔ سکواڈ میں دو تجربہ کار پیسرز محمد عامر اور وہاب ریاض کے علاوہ سرفراز احمد اور فخر زمان کی واپسی کی نشاندہی کرتے ہوئے چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ عام طور پر ٹی ٹونٹی ٹیم کچھ عرصے کیلئے یکجا ہوتی ہے مگر موجودہ حالات میں پلیئرز ایک ماہ سے زائد عرصے سے ساتھ ہیں جس کی وجہ سے ٹیم کی تعمیر اور نوجوان پلیئرز پر کام کرنے کا موقع مل گیا۔مصباح الحق کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کیخلاف سیریز مقابلے سے بھرپور ہوگی جسے جیتنے کی کوشش کریں گے تاہم جن پلیئرز کو موقع نہیں مل سکا وہ بھی کافی کچھ سیکھ کر وطن واپس جائیں گے۔
سائوتھمٹن (سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی تعریف کی۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے لیے اپنے کالم میں مصباح الحق نے کہا کہ ‘مانچسٹر میں شکست کے بعد واپسی کرنا بہت مشکل تھا لیکن کھلاڑیوں کا عزم اور حوصلہ غیر معمولی تھا’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں یقین ہے کہ ہم آخری ٹیسٹ میں واپسی کرسکتے ہیں اور ہمارے لیے پاکستان اور دنیا بھر میں موجود مداحوں کے تعاون اور اعتماد کی بہت اہمیت ہے’۔خیال رہے کہ قومی ٹیم دوسرے ٹیسٹ میں 158 رنز پر 6 بلے بازوں کے آؤٹ ہونے کے بعد انتہائی مشکلات کا شکار ہوگئی تھی، تاہم محمد رضوان کی ذمہ دارانہ اننگز کی بدولت 236 کا معقول مجموعہ ترتیب دیا جاسکا۔
جب انگلینڈ نے اپنی اننگز شروع کی تو ان کے 4 بلے بازوں کو 110 رنز پر آؤٹ کرکے قومی ٹیم نے مشکل وکٹ کا بھرپور فائدہ اٹھایا تھا، لیکن بارش کے باعث انگلینڈ کی پہلی اننگز بھی مکمل نہ ہو پائی اور میچ برابری پر ختم ہوگیا۔مصباح الحق نے کہا کہ ‘دوسرے ٹیسٹ کی کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا جرات مندانہ فیصلہ تھا لیکن ہر کسی نے چیلنج کو قبول کیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہر کھلاڑی نے توجہ دی اور رنز بنائے’۔
ہیڈ کوچ نے کہا کہ ‘عابد علی، اظہر علی اور بابر اعظم نے شراکت داری کی جو ٹیسٹ کی ان کنڈیشنز میں خوشی اور حوصلہ افزا بات ہے’انہوں نے کہا کہ دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں باؤلرز کو کم وقت ملنے سے انہیں تیسرے میچ میں کارکردگی دکھانے کے لیے وقت ملے گا۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ 21 اگست سے ساؤتھمپٹن میں ہی کھیلا جائے گا۔مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں میچ کے اختتام تک پچ کے خطرناک ہونے کی توقع تھی اور ایسا ہی ہوا، میچ کے اختتامی لمحات میں کچھ دیر کے لیے دھوپ نکلی تھی تو یاسر انگلینڈ کے بلے بازوں کے لیے مشکل کھڑی کر رہے تھے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘فاسٹ باؤلرز نے بھی اچھی کارکردگی دکھائی اور انہوں نے جس طرح میچ کو ختم کیا ہے اس سے میں خوش ہوں، آخری سیشن نے ہمیں آخری ٹیسٹ کے لیے بہت اعتماد بخشا ہے گو کہ میچ برابر ہوا’۔مصباح الحق نے کہا کہ ‘یہ ایک بڑا میچ ہے اور ہم سیریز کو اچھے نوٹ پر ختم کرنا چاہتے ہیں’۔محمد رضوان کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘رضوان نے سخت محنت کی جس کی وجہ سے ہم نے معقول اسکور بنایا اور انگلینڈ پر کسی حد تک دباؤ ڈالا’۔وکٹ کیپر بلے باز نے انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں 72 رنز بنائے تھے جس میں 7 چوکے شامل تھے۔
کوچ نے کہا کہ ‘رضوان کی وکٹ کے پیچھے کارکردگی بھی شان دار تھی اور گزشتہ برس نومبر میں برسبین میں آسٹریلیا کے خلاف بھی ایسی ہی تھی’۔انہوں نے کہا کہ ‘رضوان کو گیم کی سمجھ ہے اور ہم اس کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں، دباؤ میں کھلاڑیوں خاص کر نئے کھلاڑیوں کو کارکردگی دکھانا ضروری ہوتا ہے اور ساؤتھمپٹن میں ان کی اننگز انہیں بڑا حوصلہ دے گی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘کھلاڑیوں نے فٹنس بہتر کرنے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس کے لیے انہیں سراہنا چاہیے، خاص کر کووڈ-19 کی وبا کے تین مہینوں کے بعد ان کی کارکردگی کی تعریف کرنی چاہیے’۔
مصباح کا کہنا تھا کہ ‘رضوان بہترین مثال ہے کیونکہ جس طرح انہوں نے وکٹ کے درمیان رنز بنائے ہیں، شان مسعود نے پہلے ٹیسٹ میں تقریباً 8 گھنٹے بلے بازی کرکے خود کو ثابت کردیا ہے اور اسی طرح شاداب خان نے بھی بہترین رننگ کی ہے’۔واضح رہے کہ تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں انگلینڈ نے 3 وکٹوں سے کامیابی حاصل کرکے سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کرلی تھی۔ساؤتھمپٹن میں دوسرا ٹیسٹ بارش کے باعث برابری پر ختم ہوا جہاں پاکستان نے پہلی اننگز میں 236 رنز بنائے تھے جبکہ انگلینڈ کی پہلی اننگز مکمل نہیں ہو پائی تھی۔
مانچسٹر(سپورٹس لنک رپورٹ)قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ہم دوسری اننگز میں بہتر بیٹنگ کرتے تو صورت حال مختلف ہوتی، اگر 300 پلس کی لیڈ ہوتی تو بہتر ہوتا۔
مصباح الحق کا کہنا تھا کہ انگلینڈ نے زبردست بیٹنگ کی اور ہمیں میچ سے باہر کردیا، ٹیم میں کم بیک کی صلاحیت ہے، ہم اس سے بہتر کھیل سکتے ہیں۔ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے مزید کیا کچھ کہا ویڈیو دیکھنے کیلئے کلک کریں۔۔
مانچسٹر (سپورٹس لنک رپورٹ)قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ مانچسٹر میں انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے ابتدائی دو دنوں میں پاکستان کے بیٹسمینوں اور بالروں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے روز بابر اعظم نے متاثر کیا تو دوسرے روز شان مسعود نے غیر معمولی اننگز کھیلی اور ایک بڑی سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے۔شان مسعود انگلینڈ کی سر زمین پر وہ 24 برسوں کے بعد سنچری بنانے والے پاکستانی اوپنر بنے، پھر دوسرے روز کھیل کے آخری سیشن میں جس طرح بالروں نے انگلش بیٹسمینوں کو تگنی کا ناچ نچایا وہ سب کے سامنے ہے۔
لیکن ان سب کے باوجود تذکرہ ہو رہا ہے کہ سابق کپتان سرفراز احمد کو گراونڈ میں پانی اور جوتے دیکر بجھوانے کا، سوشل میڈیا پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں اس کو بیان کر رہا ہے، کسی نے کھیل کا حصہ قرار دیا تو کسی نے کہا کہ سابق کپتان کی بے قدری کی گئی ہے اور سنئیر کھلاڑی ہونے کے ناطے انہیں عزت نہیں دی گئی۔دوسرے روز کھیل کے اختتام پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق سے بھی اس حوالے سے سوال ہوا۔
آن لائن پریس کانفرنس میں مسکراتے ہوئے مصباح الحق نے سوال سنا اور تحمل سے جواب دیا۔مصباح الحق نے کہا کہ اس حوالے سے بات پاکستان میں ہی ہو سکتی ہے، آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں، میں ٹیم کا کپتان تھا لیکن 12 ویں کھلاڑی کی حیثیت سے میں گراؤنڈ میں گیا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے، سرفراز احمد زبردست انسان، لڑکا اور کھلاڑی ہے۔ہیڈ کوچ نے کہا کہ تین چار کھلاڑیوں نے باری باری سیشن کے حساب سے ذمہ داری نبھانی تھی اور گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کی مدد کرنا تھی، اس میں کسی کی بے قدری کرنا اور کسی کو عزت نہ دینے کی کوئی بات نہیں ہے، یہ ٹیم گیم ہے اور اچھی ٹیم کی یہی نشانی ہوتی ہے۔
مصباح الحق نے کہا اب تک مانچسٹر ٹیسٹ میں ٹیم کی کارکردگی پر خوشی ہے، شان مسعود بہت محنتی کھلاڑی ہے، اسے اس کی محنت کا پھل ملا ہے، اس نے صرف سنچری ہی نہیں بنائی بلکہ ایک بڑی سنچری بنائی ہے، یہی اس کی اننگز کی خاص بات ہے جب کہ شاداب خان نے بھی شان مسعود کا اچھا ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بابرا عظم نے شاندار اننگز کھیلی، اگرچہ بابرا عظم اور شاداب خان اس وقت آؤٹ نہ ہوتے تو پاکستان مزید رنز بنانے میں کامیاب ہو جاتا لیکن اس کے بعد بولرز نے اپنا کام کیا ہے، بولرز نے شاندار بولنگ کی ہے، میں بہت خوش ہوں۔
مصباح الحق نے کہا کہ محمد عباس توقعات کے مطابق رہا، شاہین آفریدی بھی اچھی بولنگ کر رہا ہے، اس سے بھی بہت خوش ہوں۔ان کا کہنا تھا جہاں تک یاسر شاہ کا تعلق ہے یاسر شاہ نے وکٹ حاصل کی جو کہ اس کے لیے اچھا ہے، جب آپ لمبے عرصے کے بعد کھیل رہے ہوں تو پریشر ہوتا ہے، یاسر شاہ کا اس میچ میں بڑا اہم کردار ہے، اس نے ابھی بہت بولنگ کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک بڑے لمبے عرصے سے اچھا کمبی نیشن بنانے کی تلاش میں تھے کہ ہمیں ساتویں نمبر پر ایسا کھلاڑی ملے جو اچھے رنز بھی کرے اور بولنگ بھی، اسی وجہ سے شاداب خان کو موقع دیا گیا، حالانکہ ایک طرز کے بولرز کو شامل کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن کمبی نیشن بنانے کی وجہ سے ایسا کیا، شاداب خان ایک اچھا پیکیج ہے اور اس میچ میں اس نے بیٹنگ بھی اچھی کی ہے۔
ہیڈ کوچ نے کہا کہ کپتان اظہر علی دو اننگز پہلے ہی سری لنکا کے خلاف سنچری بنا کر یہاں آیا ہے، ابھی اس نے ایک اننگز کھیلی ہے، وہ یقینا اچھی فارم میں واپس آئے گا۔ مصباح الحق نے کہا کہ پچ پہلے روز سے ٹرن لے رہی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پچ پر بیٹنگ کرنا مشکل ہو گا۔
مانچسٹر(سپورٹس لنک رپورٹ)انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے ڈبل سپن اٹیک آزمانے پر غور شروع کردیا،ان کا کہنا ہے کہ مانچسٹر میں پہلے معرکے سے قبل تمام تر تیاریاں اطمینان بخش طور پر مکمل کرلی گئی ہیں،دو روز تک موسم اور وکٹ کا جائزہ لے کر دو سپنرز کھلانے کا فیصلہ کریں گے، جیت کیلئے طے شدہ منصوبے پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے گی،کورونا وائرس کے باعث تین ماہ تک کھیل سے دوری کے بعد صفر سے آغاز کرنا پڑا ۔تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق 5 اگست سے مانچسٹر میں شروع ہونے والے انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کی تیاریوں سے پوری طرح مطمئن ہیں جن کا ویڈیو لنک پر پاکستانی میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ تین میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے دوران ٹیم انتظامیہ دو سپن باؤلرز کو کھلانے کے امکان پر غور کر رہی ہے کیونکہ ابتدائی طور پر اعلان کردہ20رکنی سکواڈ میں 3سپن باؤلرز یاسر شاہ،شاداب خان اور کاشف بھٹی شامل ہیں ۔
ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ وہ ٹیسٹ میچ کے آغاز سے قبل دو دن تک موسم اور وکٹ کا جائزہ لیتے رہیں گے اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ دو سپنرز کھلائے جا سکتے ہیں یا نہیں ۔ مصباح الحق کا کہنا تھا کہ فی الوقت موسمی حالات اور وکٹ پاکستانی ٹیم کیلئے سازگار محسوس ہو رہی ہے تاہم اہمیت کی حامل بات یہ ہوگی کہ جیت کیلئے طے شدہ منصوبے پر مناسب انداز سے عمل کیا جائے۔کورونا وائرس کے باوجود قومی ٹیم کی ٹیسٹ سیریز کیلئے تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرنے والے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر وہ تمام تر تیاریوں سے مطمئن ہیں اگرچہ کورونا وائرس کی وجہ سے تین ماہ تک کھیل سے دوری کے باعث صفر سے اپنی محنت کا آغاز کرنا پڑا لیکن ٹیم مسلسل مشقوں اور ٹریننگ کے بعد بہترین شکل میں واپس آچکی ہے اور امید ہے کہ وہ ٹیسٹ سیریز کے دوران عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اگرچہ کھلاڑی تھوڑی سی گھبراہٹ کے باوجود میدان سنبھالنے کیلئے بے چین ہیں۔
https://youtu.be/sAqTXh3O5A4
انٹرا سکواڈ میچوں میں دو مرتبہ5وکٹوں کا کارنامہ انجام دینے والے فاسٹ باؤلر سہیل خان کی حتمی الیون میں شمولیت پر مصباح الحق کا کہنا تھا کہ سہیل خان نے کسی شک کے بغیر انٹر اسکواڈ میچوں میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن حتمی الیون کا انتخاب مانچسٹر کی کنڈیشنز اور حریف ٹیم کے کمبی نیشن کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا کیونکہ شاہین آفریدی اور نسیم شاہ بھی عمدہ صلاحیتوں کے مالک پیسرز ہیں ۔
قومی ہیڈ کوچ کا مزید کہنا تھا کہ انگلینڈ کیخلاف سیریز میں کوئی بھی فیورٹ نہیں کیونکہ جیت اسی ٹیم کی ہوگی جو بہترین کرکٹ کھیلے گی اور انہوں نے انگلینڈ میں کھیلنے کا تجربہ رکھنے والے کپتان اظہرعلی اور اسد شفیق سمیت دیگر تمام بیٹسمینوں کو ہدایت کردی ہے کہ وہ غیر ضروری دباؤ سے نجات پا کر اپنی کرکٹ کھیلیں کیونکہ اچھا آغاز ہی کامیابی کی ضمانت ثابت ہوگا جبکہ بابر اعظم،عابد علی اور شان مسعود بھی بہترین کھیل کیلئے پرعزم ہیں۔