Tag: pcb blasters

  • مینز ایمرجنگ ایشیا کپ : پاکستان شاہینز کی سری لنکا روانگی ; ٹورنامنٹ 13 سے23 جولائی تک کولمبو میں کھیلا جائے گا۔

    مینز ایمرجنگ ایشیا کپ : پاکستان شاہینز کی سری لنکا روانگی ; ٹورنامنٹ 13 سے23 جولائی تک کولمبو میں کھیلا جائے گا۔

     

     

    مینز ایمرجنگ ایشیا کپ : پاکستان شاہینز کی سری لنکا روانگی

    لاہور 10 جولائی۔ پاکستان شاہینز کرکٹ ٹیم منگل کی علی الصبح لاہور سے براستہ دبئی سری لنکا روانہ ہورہی ہے جہاں وہ اے سی سی مینز ایمرجنگ ایشیا کپ میں حصہ لے گی۔ وکٹ کیپر بیٹر محمد حارث ٹیم کی قیادت کررہے ہیں۔

     

    یہ ٹورنامنٹ 13 سے23 جولائی تک کولمبو میں کھیلا جائے گا۔

    پچاس اوورز فارمیٹ کے اس ٹورنامنٹ میں آٹھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور اس میں مجموعی طور پر پندرہ میچز کھیلے جائیں گے۔

     

    پاکستان شاہینز کو گروپ بی میں انڈیا اے ۔ نیپال اور متحدہ عرب امارات اے کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
    پاکستان شاہینز اپنا پہلا میچ 14 جولائی کونیپال کے خلاف کھیلے گی17 جولائی کو اس کا دوسرا میچ متحدہ عرب امارات اے کے خلاف ہوگا جبکہ 19جولائی کو وہ انڈیا اے کے خلاف مدمقابل ہوگی۔
    ہر گروپ سے دو ٹاپ ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی۔سیمی فائنلز 21 جولائی کو کھیلے جائیں گے جبکہ فائنل 23 جولائی کو ہوگا۔

     

    ٹیم کے پندرہ کھلاڑیوں اور چار ریزرو کھلاڑیوں نے ٹیم کی سری لنکا روانگی سے قبل نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں چھ روزہ کیمپ میں حصہ لیا جس کی نگرانی ہیڈ کوچ محمد مسرور کی سربراہی میں کوچنگ اسٹاف نے کی۔

    کیمپ میں کھلاڑیوں نے پچاس اوورز کی کرکٹ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر کام کیا۔

     

    پاکستان شاہینز ٹورنامنٹ کی دفاعی چیمپئن ہے جسے محمد حارث ( پانچ ون ڈے انٹرنیشنل ، نو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ) کے علاوہ دیگر سات ایسے کھلاڑیوں کی خدمات حاصل ہیں جو اس سے قبل پاکستان کی انٹرنیشنل کرکٹ میں نمائندگی کرچکے ہیں۔ان میں ارشد اقبال ( ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ) کامران غلام ( ایک ون ڈے انٹرنیشنل ) محمد وسیم جونیئر ( دو ٹیسٹ۔ چودہ ون ڈے انٹرنیشنل اور ستائیس ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ) ۔صاحبزادہ فرحان ( تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ) صائم ایوب ( آٹھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل) شاہنواز دھانی ( دو ون ڈے انٹرنیشنل ، گیارہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ) اور طیب طاہر ( تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ) شامل ہیں۔

     

    کپتان محمد حارث کا کہنا ہے کہ ہم ٹورنامنٹ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ دفاعی چیمپئن ہونے کا پریشر ہمیں متاثر نہیں کرے گا کیونکہ ہم تمام چیزوں کو سادہ رکھیں گے اور مستقل مزاجی سے پرفارمنس کی کوشش کریں گے۔

    محمد حارث کا کہنا ہے کہ کیمپ کے دوران کھلاڑیوں نے بھرپور جذبے اور محنت کے ساتھ ٹریننگ کی ہے اور یہ ٹریننگ سری لنکا کی کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔چونکہ ہم اس سے قبل بھی سری لنکا میں کھیل چکے ہیں ہم اس چیلنج سے آشنا ہیں جس کا سامنا ہمیں کرنا ہے۔

     

    محمد حارث کا کہنا ہے کہ ٹیم کا کامبی نیشن عمدہ ہے اور ٹیم باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور انہیں ہر کھلاڑی کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے۔ یہ ٹورنامنٹ کھلاڑیوں کو بہترین موقع فراہم کرے گا کہ وہ اپنی بہترین کارکردگی سے مستقبل میں قومی ٹیم میں جگہ بنائیں۔ مستقبل قریب میں پاکستانی ٹیم کے کئی وائٹ بال میچز شیڈول ہیں لہذا ان کھلاڑیوں کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ اپنی عمدہ کارکردگی سے ٹیم میں جگہ بناسکیں۔

     

    ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد مسرور کا کہنا ہے کہ کیمپ میں تمام کھلاڑیوں نے سخت محنت کی ہے جو قابل تعریف ہے۔انہیں یقین ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ان کھلاڑیوں کو بہترین موقع فراہم کرے گا کہ وہ اپنی صلاحیتیں اور مہارت دکھائیں۔

     

    محمد مسرور کا کہنا ہے کہ اسکواڈ میں شامل متعدد کھلاڑیوں نے نوجوان کرکٹرز کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کیے ہیں ۔ یہ ٹیم کے نقطہ نظر سے بڑی اہمیت کی بات ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ ہم آہنگی میدان میں اچھے نتائج کی صورت میں سامنے آئے گی اور ٹورنامنٹ میں ایک بھرپور تاثر چھوڑے گی۔

     

    پاکستان شاہینز ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔

    محمد حارث ِ( کپتان وکٹ کیپر ) ( پشاور ) ۔ عمیر بن یوسف ( نائب کپتان ) ( کراچی ) ۔ عماد بٹ ( سیالکوٹ ) ۔ارشد اقبال( صوابی ) حسیب اللہ ( کوئٹہ ) کامران غلام ( پشاور ) مہران ممتاز ( راولپنڈی ) مبصر خان ( اسلام آْباد) محمد وسیم جونیئر ( شمالی وزیرستان ) قاسم اکرم ( لاہور ) صاحبزادہ فرحان ( چارسدہ ) صائم ایوب ( کراچی) شاہنواز دھانی ( لاڑکانہ ) سفیان مقیم ( آزاد جموں کشمیر) اور طیب طاہر ( گجرات )

    ریزرو کھلاڑیوں میں عبدالواحد بنگلزئی۔ محمدعباس آفریدی۔ محمد جنید اور روحیل نذیر شامل ہیں۔
    پلیئرز سپورٹ اسٹاف میں شاہد اسلم ( منیجر ) محمد مسرور ( ہیڈ کوچ ) حنیف ملک ( بیٹنگ اور فیلڈ نگ کوچ ) عمر رشید ( بولنگ کوچ ) اور امتیاز احمد ( فزیوتھراپسٹ ) شامل ہیں۔

     

    پاکستان شاہینز کا شیڈول اس طرح ہے۔

    14جولائی ۔ بمقابلہ نیپال۔
    17 جولائی۔ بمقابلہ متحدہ عرب امارت اے ۔
    19جولائی ۔ بمقابلہ انڈیا اے۔

     

     

  • قومی سہ فریقی ٹی ٹونٹی خواتین چیمپئن شپ 22 نومبر سے شروع ہو گی

    قومی سہ فریقی ٹی ٹونٹی خواتین چیمپئن شپ 22 نومبر سے شروع ہو گی

    لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)نیشنل ویمنز ٹرائنگولر ٹی ٹونٹی کرکٹ چیمپئ شپ 22 نومبر سے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں شروع ہوگی۔ ایونٹ کا فائنل یکم دسمبر کو کھیلا جائے گا۔ٹورنامنٹ میں کُل 42 خواتین کرکٹرز شرکت کریں گی۔ ایونٹ میں تقریباََ سترہ لاکھ روپے کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔

    دس روزہ ٹورنامنٹ میں پی سی بی بلاسٹرز،پی سی بی چیلنجرز اور پی سی بی ڈائنا مائٹس کی ٹیمیں شرکت کریں گی، ڈبل لیگ کی بنیاد پر کھیلے جانے والے ایونٹ میں 2 ٹاپ ٹیمیں یکم دسمبر کو پوائنٹس کی بنیاد پر فائنل میں مدمقابل آئیں گی۔

    یہ چمپئین شپ قومی خواتین کرکٹ کے معیار میں مزید بہتری لانے کے لئے معاون ثابت ہو گی۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے سات میچز پر مشتمل اس ٹورنامنٹ کو لائیواسٹریم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایونٹ کے تمام میچزپی سی بی کے آفیشل یو ٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیے جائیں گے، جہاں 9 کیمروں سے کوریج کی جائے گی۔

    خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور بہترین کارکردگی کی ترغیب کے لیے گزشتہ سال کی نسبت ایونٹ کی انعامی رقم میں دوگنا ہ اضافہ کردیا گیا ہے۔

    پی سی بی چیلنجرز کی ٹیم ایونٹ میں ٹائٹل کا دفاع کرے گی۔ گزشتہ ایڈیشن میں 292 رنز بناکر پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کرنے والی منیبہ علی اس ایونٹ میں دفاعی چیمپئن کی قیادت کریں گی۔

    ایونٹ کی فاتح ٹیم کودس لاکھ اور رنرزاپ کو پانچ لاکھ روپے کی انعامی رقم دی جائے گئی۔اس دوران ہر میچ کی بہترین کھلاڑیوں کو 20 ہزار روپے جبکہ پلیئر آف دی چیمپئن شپ کو 50 ہزار روپے کیش بطور انعام دیا جائے گا۔

    پی سی بی بلاسٹر کی قیادت عالیہ ریاض اور پی سی بی ڈائنمائٹس کی قیادت رامین شمیم کریں گی۔

    پی سی بی چیلنجرز اور پی سی بی ڈائنامائٹس کی کپتانی بالترتیب عالیہ ریاض اور رامین شمیم کریں گی۔ تمام ٹیموں کے اسکواڈ میں ایک ایک انڈر 19 ویمن کرکٹرکو شامل کیا گیاہے۔

    اس سے قبل پی سی بی کوویڈ 19 کی وباء کے باوجود کراچی میں نیشنل ہائی پرفارمنس کیمپ کا انعقاد کرچکا ہے۔بائیو سیکیور ماحول میں منعقدہ اس کیمپ میں خواتین کرکٹ ٹیم کی مستقل جاری اس دوڑ میں نمایاں 27 خواتین کرکٹرز نے شرکت کی۔

    شیڈول:

    بائیس نومبر: پی سی بی بلاسٹرز بمقابلہ پی سی بی ڈائنامائٹس بمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی
    تئیس نومبر پی سی بی بلاسٹرز بمقابلہ پی سی بی چیلنجرز بمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی
    پچیس نومبر: پی سی بی ڈائنامائٹس بمقابلہ پی سی بی چیلنجرز بمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی
    چھبیس نومبر: پی سی بی ڈائنامائٹس بمقابلہ پی سی بی بلاسٹرزبمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی
    اٹھائیس نومبر: پی سی بی چیلنجرز بمقابلہ پی سی بی بلاسٹرز بمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی
    انتیس نومبر: پی سی بی چیلنجرز بمقابلہ پی سی بی ڈائنامائٹس بمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی
    یکم دسمبر: فائنل بمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی

    اسکواڈز:
    پی سی بی بلاسٹرز:
    منیبہ علی (کپتان)،عائشہ نسیم،بسمہ معروف، کائنات حفیظ، ندا ڈار، فاطمہ ثناء، سیدہ عروب شاہ، سعدیہ اقبال، صبا ء نذیر،ایمن انور، وحیدہ اختر، صدف شمس، صائمہ ملک ، عاصمہ امین (وکٹ کیپر)۔
    پی سی بی بلاسٹرز:
    عالیہ ریاض (کپتان)، جویریہ خان، سدرہ امین، جویریہ ودود، حرینہ سجاد، نتالیہ پرویز،طوبہٰ حسن، انعم امین، سدرہ نواز (وکٹ کیپر)، حفصہ امجد، ماہم طارق، نورین یعقوب، خدیجہ چشتی اور انوشہ ناصر۔
    پی سی بی ڈائنامائٹس:
    رامین شمیم (کپتان)، ناہیدہ خان، عائشہ ظفر، عمیمہ سہیل، حفصہ خالد، ارم جاوید، کائنات امتیاز، سبحانہ طارق، نجیہ علوی ( وکٹ کیپر)، نشرا سندھو،امِ ہانی، سیدہ زہرہ فاطمہ، اآئمہ سلیم۔

    میڈیا کے لیے گائیڈ لائنز:

    • پی سی بی میڈیا کے معز ز نمائندگان کے لیے چائے،کافی اور پانی کا بندوبست کرے گا۔ علاوہ ازیں، معززمیڈیا نمائندگان کو اپنا کھانا اپنے ہمراہ لانے کی اجازت ہو گی۔
    • اگر آپ میں کویڈ 19 کی علامات پائی جائیں تو براہ کرام میچ میں آنے سے گریز کریں۔
    • اسٹیڈیم آمد پر تھرمل گن سے آپ کا بخارچیک کیا جائے گا۔
    • براہ کرام سماجی فاصلے کو یقینی بناتے ہوئے چہرے پر ماسک کا استعمال لازم کریں۔
    • میڈیا نمائید گان وینیو پر ایک جگہ اکھٹے ہونے سے مکمل پرہیز کریں۔
    • میڈیا کے لیے مخصوص جگہوں پر ہینڈ سنٹائزر دستیاب ہونگے،علاوہ ازیں میڈیا نمائیدگان اپنے لیے ذاتی ہینڈ سنٹائزر لا سکتے۔
    • میچ کے دنوں میں آفیشلز کی جانب سے مختلف اوقات میں بخار چیک کرسکتا ہے۔
    • میڈیانمائندگان کو ہوٹل،ٹریننگ اور میچ وینیوز پر کھلاڑیوں کےون آن ون انٹرویوز کی اجازت نہیں ہوگی۔

error: Content is protected !!