Tag: pcb challengers

  • تاریخی نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد…  نا قدری کا شکار کیوں… ؟ تحریر ؛ خالد نیازی

    تاریخی نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد… نا قدری کا شکار کیوں… ؟ تحریر ؛ خالد نیازی

    تاریخی نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد… نا قدری کا شکار کیوں… ؟ تحریر ؛ خالد نیازی

    ” ٹھنڈی سڑک اینڈ سے باؤلر آۓ ” یہ جملہ ھم ریڈیو اور ٹی وی کمینٹری میں اکٹر سنتے تھے… جب پاکستان کے اس تاریخی اسٹیڈیم میں میچ ھو رھا ھوتا تھا…. بہت وسیع وعریض نیاز اسٹیڈیم ماضی میں بہت اھم انٹرنیشنل سنٹر ھوا کرتا تھا …..

    جہاں پر 1973 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلی دفعہ ٹیسٹ اور 1982 میں پہلا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کھیلا گیا…پاکستان کے جلال الدین نے ون ڈے انٹرنیشنل کی پہلی ” ھیٹرک” بھی اسی گراؤنڈ پر کی… پھر ٹیسٹ میں جاوید میانداد اور مدٹر نذر نے بھی یہاں ایک یادگار پارٹنر شپ انڈیا کے خلاف لگائی….

    ایک اچھا ھوٹل ھوا کرتا تھا… جہاں ٹیموں کو ٹھرایا جاتا تھا ….حیدرآباد ایئرپورٹ پر جہازوں کی آمد و رفت رواں دواں تھی ….اس کے علاوہ ان دنوں تاریخی مقامات, چوڑیوں کی صنعت … سندھی بریانی, بیف حلیم, ربڑی اور ” بمبے بیکری” کے” کیکس” کی شہرت بھی آسمان کو چھو رھی تھی… ایسے ماحول میں کرکٹ کا لطف اور بھی دوبالا ھو جاتا تھا ….

    ورلڈ کپ کے مقابلے بھی منعقد ھوۓ …لیکن پھر نجانے کیوں شہر کی ترقی کا سلسلہ رک گیا… ائرپورٹ بند ھوگیا ….اسٹیڈیم کو انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کے مطابق اپ گریڈ نہیں کیا گیا …. فائیو اسٹار ھوٹل بھی نہ بن سکا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں انٹرنیشنل میچوں کا انعقاد معطل ھو گیا….

    آخری انٹرنیشنل میچ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان آج سے پندرہ سال پہلے 2008 میں کھیلا گیا… اس کے بعد اندرون سندھ کے شائقین انٹرنیشنل کرکٹ دیکھنے سےمحروم ھیں…کبھی کبھار ڈومیسٹک کے میچوں میں جب اسٹار کھلاڑی یہاں آتے ھیں تو شائقین کرکٹ کی بڑی تعداد ان کو دیکھنے کے لئے آتی ھے….

    میں نے 1980 میں پاکستان ریلویز کی جانب سے ایک فرسٹ کلاس میچ کھیلا تھا تب یہ شہر بہت صاف ستھرا تھا …پھر 2003 کے بعد میں بطور ریفری وھاں گیا تو آبادی اور بے ھنگم ٹریفک بہت بڑھ چکی تھی….بازاروں میں بہت رش اور آلودگی میں بے پناہ اضافہ ھو چکا تھا..

    ائرپورٹ غیر فعال اور فائیو اسٹار ھوٹل نہ ھونے کی وجہ سے ڈومیسٹک ٹیمیں بھی یہاں آنے سے گھبراتی ھیں… حالانک یہاّں کے لوگ بہت محبت کرنے والے ھیں… جن لوگوں سے ھمارا واسطہ رھا …ان کی خوشگوار یادیں آج بھی ھمارے دلوں میں محفوظ ھیں… ان میں سر فہرست نام مرحوم امپائر اکبر خان کا ھے….

    جو اپنی زات میں ایک انجمن تھے… پھر ملک خرم اعوان, حفیظ الرحمن, استاد نٹار کیوریٹر, یار محمد سولنگی صاحب, آفتاب مرحوم, اقبال شیخ, عارف مجید عارف., عبدالحسین شاہ اور راحت صاحب کی مہمان نوازیاں بھلا کون بھول سکتا ھے ؟ فیصل اطہر, رضوان احمد ,شرجیل خان اور محمد حسنین نے یہاں سے پاکستان کی نمائندگی کی…

    آخر میں ھماری پاکستان کر کٹ بورڈ سے گزارش ھے کہ نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد پر بین لاقوامی معیار کے مطابق کام کیا جآۓ…. جدید ترین سہولیات فراھم کی جائیں …. تاکہ اس علاقے اور اندرون سندھ میں کرکٹ کی رونقیں بحال ھو سکیں …. خدارا کھیل سے والہانہ عشق کرنے والوں کو ان کے حق سےمحروم نہ رکھا جائے….

  • چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کا راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کا دورہ

    چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کا راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کا دورہ

    چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کا علی الصبح راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کا دورہ

    محسن نقوی نے سٹیڈیم میں شائقین کرکٹ کے لئے سہولتوں کا جائزہ لیا.

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے علی الصبح پنڈی کرکٹ سٹیڈیم کا دورہ کیا، جہاں چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر نے انہیں بریفنگ دی، قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر وہاب ریاض بھی چیئرمین پی سی بی کے ہمراہ تھے۔

    محسن نقوی نے سٹیڈیم میں شائقین کرکٹ کے لیے سہولتوں کا جائزہ لیا اور کرکٹ سٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کا پلان طلب کرلیا۔

    راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کو عالمی معیار کا سٹیڈیم بنانے کے لیے پلان جلد تیار کرنے کی ہدایت کی اور گراونڈ کی حالت کو بھی جلد بہتر بنایا جائے۔

    چیئرمین پی سی بی نے سٹیڈیم کے انکلوژر میں سہولیات بہتر بنانے سمیت عارضی نشستوں کی بجائے مستقل نشستیں لگانے کی ہدایت کی اورگراؤنڈ کی حالت کو بھی بہتر بنانے کے احکامات جاری کیے۔

  • اچھے کھلاڑیوں کو ٹیم میں آنے کے لیے انتظار نہیں کرنا پڑے گا ؛ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی

    اچھے کھلاڑیوں کو ٹیم میں آنے کے لیے انتظار نہیں کرنا پڑے گا ؛ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ٹیم سلیکشن میرٹ پر ہوگی،

    اب سفارش نہیں چلے گی، کنٹریکٹ کو مزید بہتر کیا جاسکتا ہے۔

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے اسلام ابادکے مقامی ہوٹل میں ایچ بی ایل پی ایس ایل میں شریک پاکستانی کھلاڑیوں کی ملاقات ، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی فردا فردا ہر کھلاڑی کی نشت پر گئے اور کھلاڑیوں سے مصافحہ کیا۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنقید نہیں کرنا چاہتا ، ہم سب کا مشن صرف جیتنا ہے، سیاست کو ختم اور گیارہ کھلاڑیوں کو اکٹھا کرنا ہے،

    فائٹ کریں میچ ہار بھی جائیں تو کوئی غم نہیں۔ ہم جیت سکتے ہیں اور جیت اس وقت ممکن ہے جب سب اکٹھے ہوں۔ اب فلاں کا بندہ یا فلاں کی مرضی نہیں چلے گی۔

    اچھے کھلاڑیوں کو ٹیم میں آنے کے لیے انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑی ہمارے سٹارز ہیں۔  پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    کھلاڑی پہلے پاکستان کو ترجیح دیں۔ آمدن دوسری ترجیح ہونی چاہیے ۔کرکٹ بورڈ کے پاس جتنے پیسے ہیں کھلاڑیوں پر لگائے جائیں گے۔ سیاست کو ختم کرنا ہے اور 11 کھلاڑیوں کو اکٹھا کرنا ہے ۔

    نیوزی لینڈ ٹیم پاکستان آرہی ہے، ہم نے انگلینڈ، آئر لینڈ اورامریکہ جانا ہے۔ ٹریننگ کے لئے وقت نکالنا مشکل تھا تاہم 25سے 8 تک کاکول میں کیمپ لگے گا۔

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم آئندہ ماہ پاکستان آ رہی ہے، پاکستان نے انگلینڈ اور امریکہ جانا ہے، کرکٹ اکیڈمیز کو بہتر اور سٹیڈیمز کو اپ گریڈ کیا جائے گا،

    بہترین دستیاب افراد کو کوچنگ میں تعینات کیا جائے گا، لاہور اور کراچی میں سٹیڈیمز کے قریب فائیو سٹار ہوٹل کے حوالے سے تیاری کی جاری ہے۔
    چیف سلیکٹر وہاب ریاض۔ چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر اور پی سی بی کے اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

     

  • پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ اتوار سے گال میں شروع ہوگا۔

    پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ اتوار سے گال میں شروع ہوگا۔

     

     

    شاہین شاہ آفریدی کو وکٹوں کی سنچری کے لیے ایک وکٹ درکار۔

    گال 15 جولائی، 2023:

    پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ اتوار سے گال میں شروع ہوگا اس کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم کا 24- 2023انٹرنیشنل سیزن بھی شروع ہوجائے گا جو خاصا مصروف اور چیلنجنگ ہے۔

     

    گال میں کھیلا جانے والا یہ ٹیسٹ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ25 ۔2023 میں پاکستانی ٹیم کا پہلا ٹیسٹ بھی ہے۔ اس سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ چوبیس جولائی سے کولمبو میں کھیلا جائے گا۔

     

    اس انٹرنیشنل سیزن میں پاکستانی ٹیم کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے میچوں کے علاوہ ایشیاکپ ۔ کرکٹ ورلڈ کپ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی حصہ لینا ہے۔ تینوں فارمیٹ میں مسلسل کرکٹ کے پیش نظر بابراعظم اور ان کی ٹیم گال ٹیسٹ میں ایک اچھے آغاز کی توقع رکھے ہوئے ہے۔

    گال نتیجے کے اعتبار سے پاکستان اور سری لنکا کے لیے ملا جلا رہا ہے۔یہاں کھیلے گئے سات ٹیسٹ میچوں میں سری لنکا نے چار ٹیسٹ جیتے ہیں جبکہ پاکستان نے تین کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس نے 2000میں اننگز اور 163رنز سے ۔2015 میں دس وکٹوں سے اور گزشتہ سال چار وکٹوں سے ٹیسٹ جیتا تھا۔

     

    گزشتہ سال پاکستانی ٹیم نے گال میں342 رنز کا ہدف عبور کرکے کامیابی حاصل کی تھی جس میں عبداللہ شفیق کے ناقابل شکست 160رنز کے علاوہ بابراعظم کے پہلی اننگز میں119 رنز اور دوسری اننگز میں55 رنز نمایاں رہے تھے جبکہ بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی نے پہلی اننگز میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں بدقسمتی سے وہ دوسری اننگز میں انجرڈ ہوگئے تھے البتہ محمد نواز نے88 رنز کے عوض پانچ وکٹوں کی کریئر بیسٹ بولنگ کی تھی ان کے علاوہ یاسر شاہ نے بھی دوسری اننگز میں 122رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔

     

    پاکستانی ٹیم کے موجودہ اسکواڈ میں تیرہ کھلاڑی وہ ہیں جنہوں نے گزشتہ سال سری لنکا کا دورہ کیا تھا۔ تین نئے کھلاڑی آل راؤنڈر عامرجمال۔ اسپنرابرار احمد اور بیٹسمین محمد حریرہ ہیں۔

     

    پاکستانی ٹیم کے کپتان بابراعظم کا کہنا ہے کہ ٹیم کی ریڈ بال فارمیٹ میں واپسی پر وہ بہت پرجوش ہیں ۔تمام نظریں گال ٹیسٹ پر ہیں اوروہ اس چیلنج کے لیے تیار ہیں۔ فی الحال وہ ایک وقت میں ایک چیز کے بارے میں سوچ رہے ہیں لیکن ہمیں تمام فارمیٹس میں مستقل مزاجی دکھانی ہوگی۔

     

    بابراعظم کا کہنا ہے کہ گال ٹیسٹ کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ہمارے تیرہ کھلاڑی گزشتہ سال یہاں آچکے ہیں ۔اسپنر ابرار احمد ہمارے کامبی نیشن میں ایک اچھے آپشن کے طور پر سامنے آئے ہیں اور یہ دورہ ان کے لیے سیکھنے کا بہترین موقع ہوگا۔ہمیں ان سے اس سیریز اور مستقبل میں بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔

    بابراعظم کا کہنا ہے کہ انہیں سب سے زیادہ خوشی شاہین شاہ آفریدی کی واپسی کی ہے۔ان کی وکٹ لینے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ان کی موجودگی ہی ٹیم کے حوصلے بلند کرتی ہے۔ مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ خود شاہین آفریدی ٹیسٹ کرکٹ کو کتنا یاد کررہے تھے اور اب وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

     

    یاد رہے کہ شاہین شاہ آفریدی کو ٹیسٹ میچوں میں وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے کے لیے صرف ایک وکٹ درکار ہے ۔اگر وہ گھٹنے کی انجری کا شکار نہ ہوتے تو وہ یہ سنگ میل گزشتہ سال ہی عبور کرلیتے۔

     

    پاکستانی ٹیم نے گال ٹیسٹ سے قبل ہمبنٹوٹا میں جو پریکٹس میچ کھیلا اس میں شان مسعود ۔ بابراعظم اور سعود شکیل نے نصف سنچریاں اسکور کیں جبکہ بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی۔ حسن علی۔ ابرار احمد اور عامرجمال وکٹیں لینے والے بولر تھے۔

    بابراعظم کا کہنا ہے کہ سری لنکا کسی بھی میزبان ملک کی طرح اپنی اسٹرینتھ کے ساتھ کھیلے گا جو اس کی اسپن بولنگ ہے۔ ہمیں سری لنکن ٹیم کے بارے میں اچھی معلومات اس کے سابق کوچ مکی آرتھر سے مل چکی ہیں اور پاکستانی ٹیم سری لنکا کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ٹیم بنیادی نکات پر قائم رہے گی کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں آپ کو صبر دکھانا ہوتا ہے جو آپ کی مہارت ۔ ٹمپرامنٹ اور اسٹیمنا کا امتحان ہوتا ہے۔

    بابراعظم کا کہنا ہے کہ پچھلے بارہ ماہ کے دوران ٹیسٹ میچوں کے نتائج ہمارے حق میں نہیں رہے لیکن ہم نے یقینی طور پر ٹیم کے لحاظ سے ترقی کی ہے اور آگے بڑھے ہیں۔

    بابراعظم نے گزشتہ سال آئی سی سی کے بہترین کرکٹر کی سرگارفیلڈ سوبرز ٹرافی حاصل کی تھی وہ 47 ٹیسٹ میچوں میں3696 رنز بناچکے ہیں جن میں 9 سنچریاں اور 26 نصف سنچریاں شامل ہیں۔وہ اس وقت واحد کرکٹر ہیں جو تینوں فارمیٹس میں ٹاپ تھری پوزیشن میں موجود ہیں۔ وہ ٹیسٹ میں تیسرے ۔ ون ڈے میں پہلے اور ٹی ٹوئنٹی میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

     

    گال ٹیسٹ کے لیے دونوں ٹیموں کے اسکواڈز یہ ہیں۔

    پاکستان ۔ بابراعظم ( کپتان ) محمد رضوان ۔عامرجمال۔ عبداللہ شفیق۔ ابرار احمد۔ حسن علی۔ امام الحق۔ محمد حریرہ ۔محمد نواز۔ نسیم شاہ۔ نعمان علی۔ سلمان علی آغا۔ سرفراز احمد۔ شاہین شاہ آفریدی۔ سعود شکیل اور شان مسعود۔

     

    سری لنکا۔ دیموتھ کرونا رتنے ( کپتان ) نشان مدوشکا۔ کوسال مینڈس۔ انجیلو میتھیوز۔ دنیش چندی مل۔ دھنن جایا ڈی سلوا۔ پاتھون نسانکا۔ سدیرا سمارا وکرما۔ کامندو مینڈس ۔رمیش مینڈس۔ پرابتھ جے سوریا۔ پراوین جے وکرما۔ کاسون راجیتھا۔ دلشن مدوشناکا۔ وشوا فرنینڈو اور لکشیتھا مانا سنگھے۔

     

    میچ آفیشلز۔ راڈ ٹکر اور الیکس واف ( فیلڈ امپائرز) کرس گیفینی ( تھرڈ امپائر) ڈیوڈ بون ( میچ ریفری)

  • قومی سہ فریقی ٹی ٹونٹی خواتین چیمپئن شپ 22 نومبر سے شروع ہو گی

    قومی سہ فریقی ٹی ٹونٹی خواتین چیمپئن شپ 22 نومبر سے شروع ہو گی

    لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)نیشنل ویمنز ٹرائنگولر ٹی ٹونٹی کرکٹ چیمپئ شپ 22 نومبر سے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں شروع ہوگی۔ ایونٹ کا فائنل یکم دسمبر کو کھیلا جائے گا۔ٹورنامنٹ میں کُل 42 خواتین کرکٹرز شرکت کریں گی۔ ایونٹ میں تقریباََ سترہ لاکھ روپے کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔

    دس روزہ ٹورنامنٹ میں پی سی بی بلاسٹرز،پی سی بی چیلنجرز اور پی سی بی ڈائنا مائٹس کی ٹیمیں شرکت کریں گی، ڈبل لیگ کی بنیاد پر کھیلے جانے والے ایونٹ میں 2 ٹاپ ٹیمیں یکم دسمبر کو پوائنٹس کی بنیاد پر فائنل میں مدمقابل آئیں گی۔

    یہ چمپئین شپ قومی خواتین کرکٹ کے معیار میں مزید بہتری لانے کے لئے معاون ثابت ہو گی۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے سات میچز پر مشتمل اس ٹورنامنٹ کو لائیواسٹریم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایونٹ کے تمام میچزپی سی بی کے آفیشل یو ٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیے جائیں گے، جہاں 9 کیمروں سے کوریج کی جائے گی۔

    خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور بہترین کارکردگی کی ترغیب کے لیے گزشتہ سال کی نسبت ایونٹ کی انعامی رقم میں دوگنا ہ اضافہ کردیا گیا ہے۔

    پی سی بی چیلنجرز کی ٹیم ایونٹ میں ٹائٹل کا دفاع کرے گی۔ گزشتہ ایڈیشن میں 292 رنز بناکر پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کرنے والی منیبہ علی اس ایونٹ میں دفاعی چیمپئن کی قیادت کریں گی۔

    ایونٹ کی فاتح ٹیم کودس لاکھ اور رنرزاپ کو پانچ لاکھ روپے کی انعامی رقم دی جائے گئی۔اس دوران ہر میچ کی بہترین کھلاڑیوں کو 20 ہزار روپے جبکہ پلیئر آف دی چیمپئن شپ کو 50 ہزار روپے کیش بطور انعام دیا جائے گا۔

    پی سی بی بلاسٹر کی قیادت عالیہ ریاض اور پی سی بی ڈائنمائٹس کی قیادت رامین شمیم کریں گی۔

    پی سی بی چیلنجرز اور پی سی بی ڈائنامائٹس کی کپتانی بالترتیب عالیہ ریاض اور رامین شمیم کریں گی۔ تمام ٹیموں کے اسکواڈ میں ایک ایک انڈر 19 ویمن کرکٹرکو شامل کیا گیاہے۔

    اس سے قبل پی سی بی کوویڈ 19 کی وباء کے باوجود کراچی میں نیشنل ہائی پرفارمنس کیمپ کا انعقاد کرچکا ہے۔بائیو سیکیور ماحول میں منعقدہ اس کیمپ میں خواتین کرکٹ ٹیم کی مستقل جاری اس دوڑ میں نمایاں 27 خواتین کرکٹرز نے شرکت کی۔

    شیڈول:

    بائیس نومبر: پی سی بی بلاسٹرز بمقابلہ پی سی بی ڈائنامائٹس بمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی
    تئیس نومبر پی سی بی بلاسٹرز بمقابلہ پی سی بی چیلنجرز بمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی
    پچیس نومبر: پی سی بی ڈائنامائٹس بمقابلہ پی سی بی چیلنجرز بمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی
    چھبیس نومبر: پی سی بی ڈائنامائٹس بمقابلہ پی سی بی بلاسٹرزبمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی
    اٹھائیس نومبر: پی سی بی چیلنجرز بمقابلہ پی سی بی بلاسٹرز بمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی
    انتیس نومبر: پی سی بی چیلنجرز بمقابلہ پی سی بی ڈائنامائٹس بمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی
    یکم دسمبر: فائنل بمقام پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی

    اسکواڈز:
    پی سی بی بلاسٹرز:
    منیبہ علی (کپتان)،عائشہ نسیم،بسمہ معروف، کائنات حفیظ، ندا ڈار، فاطمہ ثناء، سیدہ عروب شاہ، سعدیہ اقبال، صبا ء نذیر،ایمن انور، وحیدہ اختر، صدف شمس، صائمہ ملک ، عاصمہ امین (وکٹ کیپر)۔
    پی سی بی بلاسٹرز:
    عالیہ ریاض (کپتان)، جویریہ خان، سدرہ امین، جویریہ ودود، حرینہ سجاد، نتالیہ پرویز،طوبہٰ حسن، انعم امین، سدرہ نواز (وکٹ کیپر)، حفصہ امجد، ماہم طارق، نورین یعقوب، خدیجہ چشتی اور انوشہ ناصر۔
    پی سی بی ڈائنامائٹس:
    رامین شمیم (کپتان)، ناہیدہ خان، عائشہ ظفر، عمیمہ سہیل، حفصہ خالد، ارم جاوید، کائنات امتیاز، سبحانہ طارق، نجیہ علوی ( وکٹ کیپر)، نشرا سندھو،امِ ہانی، سیدہ زہرہ فاطمہ، اآئمہ سلیم۔

    میڈیا کے لیے گائیڈ لائنز:

    • پی سی بی میڈیا کے معز ز نمائندگان کے لیے چائے،کافی اور پانی کا بندوبست کرے گا۔ علاوہ ازیں، معززمیڈیا نمائندگان کو اپنا کھانا اپنے ہمراہ لانے کی اجازت ہو گی۔
    • اگر آپ میں کویڈ 19 کی علامات پائی جائیں تو براہ کرام میچ میں آنے سے گریز کریں۔
    • اسٹیڈیم آمد پر تھرمل گن سے آپ کا بخارچیک کیا جائے گا۔
    • براہ کرام سماجی فاصلے کو یقینی بناتے ہوئے چہرے پر ماسک کا استعمال لازم کریں۔
    • میڈیا نمائید گان وینیو پر ایک جگہ اکھٹے ہونے سے مکمل پرہیز کریں۔
    • میڈیا کے لیے مخصوص جگہوں پر ہینڈ سنٹائزر دستیاب ہونگے،علاوہ ازیں میڈیا نمائیدگان اپنے لیے ذاتی ہینڈ سنٹائزر لا سکتے۔
    • میچ کے دنوں میں آفیشلز کی جانب سے مختلف اوقات میں بخار چیک کرسکتا ہے۔
    • میڈیانمائندگان کو ہوٹل،ٹریننگ اور میچ وینیوز پر کھلاڑیوں کےون آن ون انٹرویوز کی اجازت نہیں ہوگی۔

error: Content is protected !!