انڈر 18 ہاکی چیمپئن شپ کا بہترین گول کیپر کھلاڑی کیمپ سے باہر، سلیکشن کمیٹی پر کڑی تنقید
پاکستان بھر سے انڈر 18 ہاکی ٹیم کے انتخاب پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں، جہاں سلیکشن کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹورنامنٹ کے بیسٹ گول کیپر قرار دیے جانے والے کھلاڑی حسیب مصطفیٰ کو تربیتی کیمپ میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ کھلاڑی کا تعلق آرمی سے ہے اور شاندار کارکردگی کے باوجود اسے نظر انداز کر دیا گیا، جس پر اس نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اپنا ایوارڈ بھی مسترد کر دیا۔
ہاکی لوورز نے واقعے کو کھلاڑی کی تذلیل قرار دیا ہے اور سلیکشن کمیٹی پر اقربا پروری اور میرٹ کے قتل عام کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
علاوہ ازیں میڈیا رپورٹ کے مطابق پہلے روز میچ کے دوران سلیکشن کمیٹی موجود ہی نہیں تھی، جس سے پورے عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
ہاکی لوورز کا کہنا ہے کہ ٹیمیں میرٹ کے بجائے "ڈرائنگ روم” میں تیار کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ قومی کھیل کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک رجحان ہے۔اس معاملے پر حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


