
ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 202 رنز سے ہرا کر 34 سال بعد سیریز جیت لی
ویسٹ انڈیز نے ٹاروبا میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ایک روزہ میچ میں پاکستان کو 202 رنز کے بڑے فرق سے شکست دے کر نہ صرف سیریز اپنے نام کی بلکہ 34 سال بعد پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز جیتنے کا کارنامہ بھی انجام دے دیا۔
یہ نتیجہ پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک مایوس کن لمحہ ثابت ہوا، جس میں بیٹنگ لائن مکمل طور پر لڑکھڑا گئی اور ٹیم صرف 92 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
ویسٹ انڈیز نے ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے کپتان شے ہوپ کی شاندار اور ناقابل شکست 120 رنز کی اننگز کی بدولت مقررہ 50 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 294 رنز اسکور کیے۔
94 گیندوں پر کھیلی گئی اننگز میں شاندار اسٹروک پلے شامل تھا، جب کہ جسٹن گریوز نے 24 گیندوں پر جارحانہ 43 رنز بنا کر اسکور کو مزید تقویت دی۔ ایون لوئس نے 37، روسٹن چیز نے 36، اور کیسی کارٹی نے 17 رنز کا حصہ ڈالا۔
پاکستان کی جانب سے ابرار احمد اور نسیم شاہ نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ صائم ایوب اور محمد نواز کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا انتہائی مایوس تباہ کن رہا۔ ابتدائی بلے باز یکے بعد دیگرے پویلین لوٹتے گئے اور کوئی بھی شراکت ٹیم کو سنبھالا نہ دے سکی۔ نائب کپتان سلمان آغا 30 رنز بنا کر سب سے زیادہ اسکور کرنے والے کھلاڑی رہے، جب کہ محمد نواز 23 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
حسن نواز 13، بابر اعظم 9، نسیم شاہ 6 اور حسین طلعت صرف ایک رن بنا سکے۔ مزید مایوسی اس وقت ہوئی جب صائم ایوب، عبداللہ شفیق، کپتان محمد رضوان، حسن علی اور ابرار احمد کھاتہ کھولے بغیر ہی آؤٹ ہو گئے۔
ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر جیڈن سلز پاکستانی بلے بازوں پر قہر بن کر ٹوٹے اور 6 وکٹیں اپنے نام کیں، جب کہ گداکیش موتی نے 2 اور روسٹن چیز نے 1 وکٹ حاصل کی۔
پاکستانی بیٹنگ لائن اس قدر بے بس نظر آئی کہ پوری ٹیم 33.2 اوورز میں محض 92 رنز پر سمٹ گئی۔
پاکستان ٹیم : عبداللہ شفیق، صائم ایوب، بابر اعظم، محمد رضوان (کپتان، وکٹ کیپر)، سلمان آغا، حسن نواز، حسین طلعت، محمد نواز، حسن علی، نسیم شاہ، ابرار احمد۔
ویسٹ انڈیز ٹیم : برینڈن کنگ، ایون لیوس، کیسی کارٹی، شائی ہوپ (کپتان، وکٹ کیپر)، شیرفین ردر فورڈ، روسٹن چیز، روماریو شیفرڈ، جسٹن گریوز، گڈاکیش موتی، شمر جوزف، جےڈن سیلز



