
ہاکی آلات کی خریداری کے ٹینڈرز سے متعلق وضاحت
اسلام آباد: یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہاکی سے متعلق آلات کی خریداری کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے الگ الگ اور آزادانہ ٹینڈرز باقاعدہ اشتہاری، بولی اور مقررہ خریداری کے طریقہ کار کے تحت جاری کیے گئے، جن کی اپنی الگ الگ تاریخیں اور مراحل ہیں۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق ٹینڈرز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF)
– ٹینڈر کا اشتہار 15 مئی 2026 کو جنگ لاہور اور ایکسپریس ٹریبیون راولپنڈی میں شائع ہوا۔
– بولیاں 1 جون 2026 کو کھولی گئیں۔
– ایوارڈ لیٹر 3 جولائی 2026 کو جاری کیا گیا۔
2۔ پاکستان سپورٹس بورڈ (PSB)
– ٹینڈر کا اشتہار 3 جون 2026 کو ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہوا۔
– بولیاں 19 جون 2026 کو کھولی گئیں۔
– ایوارڈ لیٹر 18 اگست 2026 کو جاری کیا گیا۔
3۔ وزارتِ بین الصوبائی رابطہ (MoIPC)
– ٹینڈر کا اشتہار 4 جون 2026 کو دی نیوز اور روزنامہ اوصاف میں شائع ہوا۔
– بولیاں 18 جون 2026 کو کھولی گئیں۔
– ایوارڈ لیٹر 7 ستمبر 2026 کو جاری کیا گیا۔
4۔ چوتھا ٹینڈر اس کے علاوہ متعلقہ ادارے کی جانب سے 2 ستمبر 2026 کو ایک مزید ٹینڈر کا عمل مکمل کیا گیا۔ اس ٹینڈر کا ایوارڈ مقررہ خریداری کے مراحل اور ضابطے کی تکمیل کے بعد آئندہ دو سے تین ہفتوں میں متوقع ہے۔
یہ امر خصوصی طور پر واضح کرنا ضروری ہے کہ 2 ستمبر کا ٹینڈر کوئی واحد یا پہلا ٹینڈر نہیں تھا بلکہ اس سے قبل مئی، جون اور اگست/ستمبر 2026 کے دوران تین الگ الگ ٹینڈرز پہلے ہی جاری، مکمل اور ایوارڈ کیے جا چکے تھے۔ لہٰذا 2 ستمبر کے ٹینڈر کو پورے procurement process کے طور پر پیش کرنا مکمل تصویر کی عکاسی نہیں کرتا۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ پروگرام پر عملی پیش رفت بھی پہلے ہی جاری ہے۔ 200 سے زائد ہاکی ٹیموں سے متعلق آلات موصول ہو چکے ہیں اور ان کی تقسیم راولپنڈی، مانسہرہ، سوات اور گوجرانوالہ سمیت مختلف علاقوں میں کی جا چکی ہے۔ یہ سرگرمیاں ہاکی کے فروغ اور نچلی سطح پر کھیلوں کے سامان کی فراہمی کے جاری پروگرام کے عین مطابق ہیں۔
لہٰذا دستیاب ریکارڈ سے واضح ہے کہ خریداری کا عمل مرحلہ وار، مسلسل اور مقررہ طریقہ کار کے تحت آگے بڑھایا گیا ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معاملے پر رپورٹ کرنے والے صحافی نے 2 ستمبر 2026 کے ٹینڈر کو واحد ٹینڈر تصور کیا اور اس سے قبل پاکستان ہاکی فیڈریشن، پاکستان سپورٹس بورڈ اور وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے جاری کیے گئے تین الگ الگ ٹینڈرز اور ان کی مکمل ٹائم لائن کو رپورٹ میں شامل نہیں کیا۔
ضروری ہے کہ معاملے پر کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے قبل تمام متعلقہ اشتہارات، بولیوں کی تاریخیں، ایوارڈ لیٹرز، موصول ہونے والے سامان اور اس کی تقسیم کا مکمل ریکارڈ سامنے رکھا جائے۔
متعلقہ ادارے شفافیت، میرٹ، مسابقت، مقررہ ضابطہ کار اور قابلِ اطلاق پبلک پروکیورمنٹ قوانین و قواعد کی مکمل پاسداری کے لیے پرعزم ہیں۔



