

سائم طاہر نے 11ویں وائس ایڈمرل ایچ ایم ایس چوہدری امیچر گالف کپ جیت لیا
لاہور: ابھرتے ہوئے نوجوان گالفر محمد سائم طاہر نے شاندار مستقل مزاجی اور بھرپور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 11واں وائس ایڈمرل ایچ ایم ایس چوہدری امیچر گالف کپ 2025 اپنے نام کر لیا۔ یہ قومی چیمپئن شپ ڈیفنس رایا گالف اینڈ کنٹری کلب میں اختتام پذیر ہوئی۔
یہ چار روزہ قومی مقابلے 20 سے 23 نومبر تک جاری رہے، جن میں ملک بھر سے 185 سے زائد نامور گالفرز نے امیچر، سینئر امیچر اور لیڈیز کیٹیگریز میں شرکت کی۔
یہ ایونٹ پاکستان کے نمایاں ترین امیچر گالف ٹورنامنٹس میں شمار ہوتا ہے۔
سائم طاہر نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار فارم برقرار رکھتے ہوئے 214 نیٹ اسکور کے ساتھ امیچر کیٹیگری کا ٹائٹل جیتا، جو ایونٹ کا بہترین اسکور بھی تھا۔
ان کی تینوں راؤنڈز میں خود اعتمادی اور مستقل کارکردگی نے انہیں سبقت دلوائی۔ غلام قادر نے 221 نیٹ کے ساتھ دوسرا جبکہ حسین حمید نے 222 نیٹ اسکور کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
گراس کیٹیگری میں ڈیفنس رایا کے سلمان گلزار نمایاں رہے، جنہوں نے 218 گراس کے ساتھ مجموعی ٹائٹل جیت لیا۔ ان کی پرسکون بیٹنگ اور درست اسٹروک پلے ان کی کامیابی کا سبب بنے۔
رایا ہی کے سید حسن عسکری نے 217 گراس کے ساتھ دوسری جبکہ لاہور گیریژن کے احمد کیانی نے 228 گراس کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
سینئر امیچر کیٹیگری میں عبدالرؤف علی نے بہترین اور نظم و ضبط پر مبنی کارکردگی دکھا کر ٹائٹل جیت لیا۔ لیڈیز کیٹیگری میں مسز شہناز معین نے عمدہ مہارت، یکسوئی اور کنٹرول کے ساتھ تینوں راؤنڈز میں سبقت برقرار رکھتے ہوئے لیڈیز ٹائٹل اپنے نام کیا۔
اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی چیف آف اسٹاف پاکستان نیوی وائس ایڈمرل راجا رعب نواز تھے۔ انہوں نے فاتحین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مقابلے میں ملکی کھلاڑیوں نے شاندار گالف کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے اسپانسرز، میڈیا، ٹورنامنٹ آفیشلز اور رایا کلب کی انتظامیہ کی بہترین ایونٹ آرگنائزیشن پر تعریف بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نیوی ملک میں صحت مند کھیلوں کے فروغ کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
وائس ایڈمرل ایچ ایم ایس چوہدری امیچر گالف کپ اب قومی گالف کیلنڈر کا ایک نمایاں ایونٹ بن چکا ہے، جو پاکستان نیوی کی کھیلوں کے فروغ کے لیے دیرینہ کوششوں کا مظہر ہے۔
اختتامی تقریب میں سینیئر نیول آفیسرز، کلب ممبرز، اسپانسرز، مہمانوں اور خاندانوں کی بڑی تعداد شریک تھی، جس نے چار روزہ مقابلوں کے بہترین اور یادگار اختتام کو مزید رنگین بنا دیا۔



