
پاکستانی خاتون مارشل آرٹسٹ صبا راشد کا عالمی ریکارڈ، بھارتی ریکارڈ توڑ دیا
کراچی سے تعلق رکھنے والی صبا راشد نے مارشل آرٹس کی دنیا میں پاکستان کا نام ایک بار پھر روشن کر دیا ہے اور نن چکو کیٹیگری میں عالمی ریکارڈ قائم کرنے والی ملک کی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔
گنیز ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے باضابطہ طور پر منظور کیے گئے اس نئے عالمی ریکارڈ میں صبا راشد نے ایک منٹ کے دوران نن چکو کو فگر آف ایتھ انداز میں 138 مرتبہ مہارت سے گھما کر دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
اس سے قبل یہی ریکارڈ 120 مرتبہ کا تھا جو بھارت کی کرن اونیال کے پاس موجود تھا، تاہم صبا راشد نے اپنی غیر معمولی مہارت، توازن اور رفتار کے ذریعے اس ریکارڈ کو واضح برتری سے اپنے نام کر لیا۔
گنیز ورلڈ ریکارڈ نے اس نئی اور منفرد کیٹیگری کو اپنی ویب سائٹ پر اوپن کیا تھا، جس کے بعد دنیا بھر سے کھلاڑیوں کو اس میں حصہ لینے کا موقع ملا۔
صبا راشد کی جانب سے کامیاب کوشش کے بعد گنیز انتظامیہ نے نہ صرف ویب سائٹ پر ان کے ریکارڈ کی مکمل تفصیلات جاری کیں بلکہ ای میل کے ذریعے اس عالمی اعزاز کی باقاعدہ منظوری بھی دے دی۔
اس کامیابی کے ساتھ صبا راشد کا شمار ان پاکستانی کھلاڑیوں میں ہو گیا ہے جنہوں نے عالمی سطح پر ملک کا پرچم بلند کیا ہے۔ یہ صبا راشد کا پہلا نہیں بلکہ مجموعی طور پر دوسرا عالمی ریکارڈ ہے۔
اس سے قبل وہ ایلبو اسٹرائیک کیٹیگری میں بھی پاکستان کے لیے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر چکی ہیں، جہاں انہوں نے تین منٹ میں 680 کہنیوں کے وار کر کے بھارت کی کرن اونیال کو شکست دی تھی۔
ان کی یہ مسلسل کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی خواتین بھی مارشل آرٹس جیسے سخت اور تکنیکی کھیل میں عالمی سطح پر خود کو منوا سکتی ہیں۔
صبا راشد کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس نے گنیز ورلڈ ریکارڈز کی دنیا میں پاکستان کو نمایاں مقام دلایا ہے۔ وہ معروف مارشل آرٹسٹ اور پاکستان کے لیے سب سے زیادہ عالمی ریکارڈ بنانے والے راشد نسیم کی اہلیہ ہیں۔
راشد نسیم کی صاحبزادی فاطمہ فیمیل کیٹیگری میں پاکستان کے لیے 8 عالمی ریکارڈز قائم کر چکی ہیں، جبکہ ان کے صاحبزادے نے محض 6 سال کی عمر میں عالمی اعزاز حاصل کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔
یہی نہیں بلکہ راشد نسیم کے والد بھی پاکستان کے لیے متعدد گنیز ورلڈ ریکارڈز بنا چکے ہیں، یوں یہ خاندان محنت، لگن اور عالمی کامیابیوں کی ایک زندہ مثال بن چکا ہے۔
اپنی کامیابی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے صبا راشد نے کہا کہ شوہر، بیٹے، بیٹی اور سسر کو عالمی ریکارڈ بناتے دیکھ کر ان کے اندر بھی عزم، حوصلہ اور محنت کا جذبہ بیدار ہوا۔ انہوں نے اپنی مسلسل جدوجہد اور لگن کے ذریعے یہ دوسری عالمی کامیابی حاصل کی، جو ان کے لیے ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تمام خواتین کے لیے باعثِ فخر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ راشد نسیم اکیڈمی کے متعدد شاگرد بھی عالمی ریکارڈ ہولڈر ہیں، جس سے انہیں مزید حوصلہ ملا کہ وہ خود بھی عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کریں۔
صبا راشد نے اس موقع پر اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ اب تک انہیں حکومتی سطح پر کسی قسم کی پذیرائی یا رابطہ نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی بھارت کا عالمی ریکارڈ توڑنے کے باوجود کوئی سرکاری اعزاز یا توجہ نہیں دی گئی، تاہم انہیں امید ہے کہ اربابِ اختیار اب توجہ دیں گے۔
صبا راشد کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری سرپرستی اور حوصلہ افزائی میسر آ جائے تو وہ مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید کئی عالمی ریکارڈز قائم کر سکتی ہیں، جو ملک کا نام عالمی سطح پر مزید بلند کریں گے۔



