فٹ بال

محسن گیلانی کی قیادت میں پاکستانی خواتین فٹبال کو عالمی پہچان مل گئی

محسن گیلانی کی قیادت میں پاکستانی خواتین فٹبال کو عالمی پہچان مل گئی

رپورٹ ; نواز گوہر

عالمی فٹبال کے منظرنامے پر دہائیوں تک حاشیے پر رہنے کے بعد، پاکستان ویمنز نیشنل فٹبال ٹیم نے بالآخر فیفا کے زیرِ اہتمام ایک عالمی پلیٹ فارم پر اپنی جگہ بنا لی ہے، جو ملک کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن اور یادگار لمحہ ہے۔

فیفا سیریز میں پاکستان کی خواتین ٹیم کی پہلی شرکت محض ایک مسابقتی موقع نہیں بلکہ پاکستان فٹبال فیڈریشن میں حکمرانی، سوچ اور عالمی روابط میں آنے والی بنیادی تبدیلی کا عکاس ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ بامقصد قیادت اور مؤثر سفارتی حکمتِ عملی کس طرح دیرینہ خوابوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت میں بدل سکتی ہے۔

اس تاریخی لمحے کی سب سے نمایاں بات صرف فیفا سیریز میں شمولیت نہیں بلکہ وہ سفر ہے جس کے ذریعے یہ کامیابی حاصل ہوئی۔ جب محسن گیلانی نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی قیادت سنبھالی تو ادارہ عالمی تنہائی، انتظامی مسائل اور ساکھ کے بحران کا شکار تھا۔ بین الاقوامی اعتماد کی بحالی ایک مشکل اور طویل عمل تھا،

تاہم فیفا اور علاقائی فٹبال اداروں کے ساتھ مسلسل روابط اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کے ذریعے گیلانی نے عالمی فٹبال برادری میں پاکستان کا مقام دوبارہ مستحکم کیا۔ خواتین ٹیم کی فیفا سیریز میں شمولیت اسی سفارتی بحالی کا عملی نتیجہ ہے۔

پاکستانی خواتین فٹبالرز کے لیے یہ موقع صرف میچز یا نتائج تک محدود نہیں۔ فیفا سیریز انہیں بین الاقوامی معیار کی فٹبال، پیشہ ورانہ ماحول اور براعظمی مقابلوں کا تجربہ فراہم کرتی ہے،

جو ماضی میں ملکی خواتین فٹبال میں نایاب رہا ہے۔ فیفا ویمنز رینکنگ میں 154ویں نمبر پر موجود پاکستان شاید مقابلوں میں انڈر ڈاگ ہو، مگر اس سطح پر شرکت ہی مسابقتی فرق کم کرنے اور طویل المدتی اعتماد پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اس کامیابی کی ایک اور اہم جہت پاکستان فٹبال فیڈریشن میں سوچ کی تبدیلی ہے۔ محسن گیلانی کی قیادت میں خواتین فٹبال علامتی شمولیت سے نکل کر بامقصد سرمایہ کاری کی طرف بڑھ چکی ہے۔

پیغام واضح ہے کہ خواتین کا بااختیار ہونا محض بیانات سے نہیں بلکہ مواقع، رسائی اور اعلیٰ سطح پر نمائندگی سے ممکن ہوتا ہے۔

اسکولوں، گلیوں اور مقامی میدانوں میں کھیلنے والی بچیوں کے لیے فیفا ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی فٹبال کو ایک خواب سے قابلِ حصول راستہ بنا دیتی ہے۔

یہ پیش رفت خواتین کے کھیل سے متعلق معاشرتی تصورات کو بھی چیلنج کرتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کھلاڑیوں کو ثقافتی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے،

عالمی سطح پر نمائندگی خود ایک مضبوط تبدیلی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ فیفا پلیٹ فارم پر ہر موجودگی اس تصور کو مضبوط کرتی ہے کہ پاکستانی خواتین عالمی اسٹیج پر کسی رعایت کے تحت نہیں بلکہ بطور مسابقتی کھلاڑی جگہ رکھتی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اس سنگِ میل کو منزل نہیں بلکہ بنیاد سمجھا جائے۔ پائیدار ترقی کے لیے منصوبہ بندی، گراس روٹس ڈیولپمنٹ، مسلسل بین الاقوامی مواقع اور ادارہ جاتی تسلسل ناگزیر ہوں گے۔

تاہم برسوں بعد پہلی بار سمت واضح دکھائی دیتی ہے۔ محسن گیلانی کی قیادت میں پاکستانی فٹبال، بالخصوص خواتین فٹبال، اب شمولیت، ساکھ اور بلند حوصلے پر مبنی مستقبل کی جانب گامزن نظر آتی ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!