
کراچی ووشو مقابلے: افغان کھلاڑیوں کی شرکت اور پاکستان کے کھلاڑیوں کے حقوق پر سوالات
مسرت اللہ جان
کراچی میں حال ہی میں منعقد ہونے والے ووشو کے مقابلے ایک عام کھیل کا منظرنامہ بننے کے بجائے حیران کن اور سوالیہ صورتحال میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
ان مقابلوں میں افغان کھلاڑیوں کی شرکت کی تصدیق نہ صرف ہمارے کھیلوں کے نظام میں کمزوریوں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کے حقوق کی واضح خلاف ورزی کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہے۔
ووشو ایسوسی ایشن کے رحمت گل آفریدی نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم تب ہوا جب ہمارے دو کھلاڑی، صمد آفریدی اور آفتاب، افغان کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے۔ صمد، جو کہ ملک کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں،
تقریبا? یقینی گولڈ میڈل کے حقدار تھے، لیکن انہیں صرف برا?ن میڈل سے مطمئن ہونا پڑا، جبکہ آفتاب کسی میڈل کے بغیر واپس لوٹے۔ رحمت گل آفریدی کے مطابق، انہوں نے تمام ثبوت اور معاملے کی تفصیلات مقابلے کی نگرانی کرنے والے افراد کو دی، مگر افسوس کہ کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دونوں افغان کھلاڑی واقعی افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا پیجز بھی موجود ہیں، جہاں انہوں نے اپنے وطن کا جھنڈا بھی دکھایا۔
اس کے باوجود انہیں کراچی میں ووشو کے مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) نے موقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا کی معلومات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، مگر مقابلوں کی وڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ کھلاڑی افغانستان کے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت اور زیادہ سنگین ہو گیا جب حکومت ایک طرف افغان شہریوں کو ملک سے نکال رہی ہے، جبکہ نیشنل گیمز جیسے سرکاری مقابلوں میں انہی افراد کی شرکت کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف کھیلوں کے نظام کی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں بلکہ پاکستانی کھلاڑیوں کے اعتماد اور حوصلے پر بھی اثر پڑتا ہے۔
پاکستان کے کھیلوں کے ادارے جو قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں کھلاڑیوں کی تربیت اور مواقع کے لیے ذمہ دار ہیں، انہوں نے اس معاملے میں واضح ناکامی دکھائی۔ ہمارے کھلاڑی محنت اور جیت کے جذبے کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں، لیکن ایسے واقعات سے ان کی محنت کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ یہ نہ صرف کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ملک کے کھیلوں کے معیار اور شفافیت پر بھی دھبہ ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کھیلوں میں صرف مہارت اور محنت کی قدر نہیں ہونی چاہیے؟ یا پھر کھیلوں کے نظام میں سیاسی اور ذاتی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے؟ صمد اور آفتاب جیسے کھلاڑیوں نے اپنے ملک کے لیے میدان میں جان دی، مگر ان کے جائز حق کو چھین لیا گیا۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ مقابلوں کے دوران افغان کھلاڑیوں کے سوشل میڈیا پیجز اور ان کی شناخت عوامی طور پر دستیاب تھی، لیکن اس کے باوجود انہیں کھیلنے کی اجازت دی گئی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے کھیلوں کے نظام میں نگرانی اور شفافیت کی کمی ہے۔ ایسے میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اگر عام شہری یا نوجوان کھلاڑی ایسے واقعات کا سامنا کریں تو ان کا کھیل سے اعتماد کیسے بڑھ سکتا ہے۔
دوسری طرف کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ووشو کے بانی باز محمد نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ووشو کے کھلاڑیوں کے کوئٹہ میں کوئی ٹرائلز ہی نہیں ہوئے اور افغان کھلاڑیوں کو نیشنل گیمز کے لیے بلا کسی معیار کے لے جایا گیا تھا۔باز محمد نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ٹرائلز بھی نہیں کیے گئے اور صرف من پسند افراد کو موقع دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات پاکستان کے کھیلوں کے مستقبل اور نوجوان کھلاڑیوں کے اعتماد کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کھیلوں کے نظام میں شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے ہونا ضروری ہیں تاکہ محنتی کھلاڑی اپنی محنت کے مطابق موقع حاصل کر سکیں۔
یہ معاملہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمارے کھیلوں کے ادارے اور نیشنل گیمز کی انتظامیہ کیا کر رہی ہے؟ کیا واقعی یہ ادارے ملک کے کھلاڑیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے موجود ہیں یا پھر صرف ظاہری سطح پر قومی مقابلے منعقد کروا کر بین الاقوامی معیار کی نقل کر رہے ہیں؟
پاکستان کے کھیلوں کے اداروں کو فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہییں، افغان کھلاڑیوں کی شرکت کے پیچھے وجوہات معلوم کرنی چاہییں اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے سخت قوانین اور نگرانی کے نظام کو نافذ کرنا چاہیے۔ ہمارے کھلاڑیوں کی محنت اور حوصلے کو محفوظ رکھنا حکومت اور کھیلوں کے اداروں کی ذمہ داری ہے۔
یہ معاملہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ کھیل صرف جیت ہار کا معاملہ نہیں بلکہ شفافیت، انصاف اور قومی جذبے کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔ جب تک یہ اصول برقرار نہیں رہیں گے، ہمارے کھلاڑی محض ایک سیاسی یا انتظامی کھیل کا حصہ بن کر رہ جائیں گے اور کھیل کا اصل مقصد ضائع ہوتا رہے گا۔
یہ واقعہ ایک واضح انتباہ ہے کہ پاکستان کے کھیلوں کے نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، تاکہ محنتی کھلاڑیوں کو ان کے جائز حقوق مل سکیں اور کھیلوں کا معیار بلند ہو۔ ہمیں ایسے واقعات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور اس معاملے میں فوری اور سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔
آخری تجزیہ یہ ہے کہ اگر کھیلوں کے ادارے اپنی ذمہ داریوں کو درست طریقے سے ادا نہ کریں تو نہ صرف ہمارے کھلاڑی متاثر ہوں گے بلکہ ملک کا کھیلوں کے شعبے میں وقار بھی کم ہو جائے گا۔
نوجوان کھلاڑیوں کا حوصلہ بلند رکھنے اور میرٹ پر مبنی مقابلوں کے انعقاد کے لیے شفاف اور سخت قواعد و ضوابط کو نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہی واحد طریقہ ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کا مستقبل محفوظ اور کامیاب ہو سکے۔



