
پشاور کیلئے پی ایس ایل کا صرف ایک میچ: کرکٹ کے شائقین کیلئے خوشی بھی، سوال بھی
غنی الرحمن ; پاکستان میں کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذباتی وابستگی کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ملک کے سب سے بڑے فرنچائز ٹورنامنٹ پاکستان سپر لیگ ہے،
پاکستان سپر لیگ کے سیزن11 کے شیڈول میں پشاور کے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم کو صرف ایک میچ کی میزبانی دی گئی تو یہ خبر بیک وقت خوشی اور تشنگی دونوں کا احساس لیے سامنے آئی۔جوکہ کرکٹ شائقین میں زیر بحث ہے
ایک طرف یہ فیصلہ پشاور کے کرکٹ شائقین کیلئے امید کی نئی کرن ہے، تو دوسری طرف یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے شہر کو صرف ایک میچ تک کیوں محدود رکھا گیا۔
اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو یہی سٹیڈیم چند سال قبل ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کے نام سے جانا جاتا تھا اور ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب یہاں بین الاقوامی کرکٹ کی رونقیں سجتی تھیں۔
اس میدان میں کئی ایک روزہ بین الاقوامی اور ٹیسٹ میچز کھیلے گئے اور پشاور کے شائقین کو عالمی معیار کے کھلاڑیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
اس دور میں اگرچہ سٹیڈیم میں فلڈ لائٹس موجود نہیں تھیں، اس لیے تمام میچز دن کی روشنی میں کھیلے جاتے تھے، لیکن اس کے باوجود کرکٹ کا جوش و خروش کسی بھی بڑے شہر سے کم نہ تھا۔
وقت کے ساتھ جب دنیا بھر میں کرکٹ کے معیار اور سہولیات میں جدت آئی تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے جدید تقاضوں کے مطابق ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کی سہولیات کو ناکافی قرار دیا۔
فلڈ لائٹس، جدید میڈیا باکس، بہتر ڈریسنگ رومز اور دیگر ضروری سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث یہ میدان آہستہ آہستہ بین الاقوامی کرکٹ کے نقشے سے باہر ہوتا چلا گیا اور پشاور کے شہری ایک طویل عرصے تک عالمی معیار کی کرکٹ دیکھنے سے محروم ہو گئے۔
یہ محرومی صرف کھیل کی حد تک نہیں تھی بلکہ اس کا اثر نوجوان کھلاڑیوں کے حوصلوں اور شہر کے سپورٹس کلچر پر بھی پڑا۔ ایک ایسا شہر جس نے پاکستان کو کئی نامور کرکٹرز دیے، وہی شہر بڑی کرکٹ سرگرمیوں سے دور ہو گیا۔
تاہم وقت نے ایک بار پھر کروٹ لی اور اس سٹیڈیم کی ازسرنو تعمیر و مرمت کے بعد یہی میدان اب عمران خان کرکٹ سٹیڈیم کے نام سے نئی شناخت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ اور اب چونکہ یہاں منعقد ہونے والے نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کے میچز نے سٹیڈیم کی رونقوں کو دوبارہ زندہ کر دیایے،
سب سے نمایاں اور تاریخی لمحہ یہ ہے کہ پشاور کے کرکٹ شائقین پہلی بار اپنے ہوم گراؤنڈ میں فلڈ لائٹس کی مصنوعی روشنی میں کرکٹ کا نظارہ کر رہے ہیں۔
یہ منظر صرف ایک کھیل کا نہیں بلکہ برسوں کی محرومی کے خاتمے کا احساس بھی ہے۔ سٹیڈیم میں موجود شائقین کیلئے یہ لمحہ اس بات کی علامت ہے کہ پشاور دوبارہ قومی کرکٹ کے افق پر ابھر رہا ہے۔
اسی تناظر میں پی ایس ایل سیزن 11 کا ایک میچ یہاں منعقد ہونا ایک علامتی قدم ضرور ہے۔ اگرچہ شائقین کی خواہش تھی کہ پشاور کو مزید میچز دیے جائیں، لیکن یہ ایک آغاز بھی ہو سکتا ہے۔
اگر انتظامی معاملات، سیکیورٹی اور شائقین کا نظم و ضبط مثبت ثابت ہوتا ہے تو بعید نہیں کہ مستقبل میں یہی میدان پی ایس ایل کے مزید میچز اور شاید بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی بھی کرے۔
پشاور کے کرکٹ شائقین کیلئے اصل پیغام یہی ہے کہ ایک میچ کو محض ایک مقابلہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک موقع کے طور پر دیکھا جائے۔ ایک ایسا موقع جس کے ذریعے یہ شہر ثابت کر سکتا ہے کہ یہاں کرکٹ کیلئے جذبہ بھی موجود ہے اور صلاحیت بھی۔
اگر یہ موقع درست انداز میں استعمال ہوا تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں عمران خان کرکٹ سٹیڈیم ایک بار پھر پاکستان کے بڑے کرکٹ مراکز میں شامل ہو جائے اور پشاور کے شائقین کو بار بار اپنے شہر میں کرکٹ کے بڑے مقابلے دیکھنے کا موقع ملے۔



