
بنگلہ دیش کے خلاف متنازع رن آؤٹ پر سلمان علی آغا کا مؤقف سامنے آگیا
پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز سلمان علی آغا نے بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں پیش آنے والے متنازع رن آؤٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کے مطابق اگرچہ یہ فیصلہ درست تھا،
تاہم ان کے نزدیک اس موقع پر کھیل کی روح کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی، اگر وہ خود ایسی صورتحال میں ہوتے تو شاید مختلف فیصلہ کرتے۔
ڈھاکا کے شیر بنگلا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران ایک لمحہ ایسا آیا جس نے مقابلے کو گرما دیا۔ پاکستان کی اننگز کے 39ویں اوور میں بنگلہ دیش کے کپتان مہدی حسن میراز نے نان اسٹرائیکر اینڈ پر موجود سلمان علی آغا کو رن آؤٹ کر دیا،
جس کے بعد پاکستانی بیٹر نے میدان سے واپسی کے دوران اپنی ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ اس واقعے نے نہ صرف میدان میں ماحول کو کشیدہ بنا دیا بلکہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔
تفصیلات کے مطابق اس اوور میں پاکستانی کپتان محمد رضوان نے گیند کو دفاعی انداز میں کھیلتے ہوئے سیدھا بولر کی سمت دھکیل دیا۔ گیند قریب ہی موجود سلمان علی آغا کے پیڈ اور بیٹ سے ہلکی سی ٹکرا گئی جبکہ اسی دوران بولر مہدی حسن میراز بھی ان کے قریب آ گئے
اور معمولی ٹکراؤ بھی ہوا۔ اس لمحے سلمان علی آغا اپنی کریز سے باہر تھے اور جھک کر گیند اٹھا کر بولر کو واپس دینے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم اس سے پہلے مہدی حسن میراز نے گیند پر قبضہ کر کے وکٹوں پر دے ماری جس کے نتیجے میں وہ رن آؤٹ قرار پائے۔
اس واقعے کے فوراً بعد میدان میں خاصی گرما گرمی دیکھنے میں آئی اور متعدد مبصرین و شائقین کرکٹ نے بنگلہ دیشی کپتان کے اقدام کو کھیل کے روایتی اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث چھڑ گئی اور مہدی حسن میراز کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجا اور سابق آل راؤنڈر محمد حفیظ نے بھی اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ قوانین کے مطابق رن آؤٹ درست تھا، لیکن ایسے مواقع پر کھلاڑیوں کو کھیل کے جذبے کو مدنظر رکھنا چاہیے، اس نوعیت کے فیصلے میچ کے ماحول کو غیر ضروری طور پر کشیدہ بنا دیتے ہیں۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے وضاحت کی کہ انہیں محسوس ہوا تھا کہ گیند بیٹ اور پیڈ سے لگنے کے بعد مردہ ہو چکی ہے، اسی لیے وہ اسے اٹھا کر بولر کو واپس دینے کی کوشش کر رہے تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی کریز سے باہر نکل آئے، تاہم مخالف کپتان نے موقع دیکھ کر وکٹیں گرا دیں۔
میچ کی مجموعی صورتحال کی بات کی جائے تو بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ قومی ٹیم نے 47 اعشاریہ 3 اوورز میں 274 رنز بنا کر میزبان ٹیم کو معقول ہدف دیا۔ بعد ازاں جب بنگلہ دیش ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ کر رہا تھا تو بارش کے باعث کھیل کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔
بارش کے وقفے کے بعد ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت بنگلہ دیش کو 32 اوورز میں 243 رنز کا نیا ہدف دیا گیا، تاہم میزبان ٹیم دباؤ کا سامنا نہ کر سکی اور پوری ٹیم 23 اعشاریہ 3 اوورز میں صرف 114 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ اس طرح پاکستان نے میچ 128 رنز کے بڑے مارجن سے اپنے نام کر لیا۔
اس کامیابی کے ساتھ تین ایک روزہ میچوں کی سیریز ایک، ایک سے برابر ہو گئی ہے جبکہ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا فیصلہ کن مقابلہ اتوار کو کھیلا جائے گا، جس میں دونوں ٹیمیں برتری حاصل کرنے کے لیے میدان میں اتریں گی۔



