پی ایس ایل 11 میں سیکیورٹی پروٹوکولز کی سنگین خلاف ورزی
شاہین آفریدی اور سکندر رضا کے خلاف تحقیقات کا آغاز: ذرائع

پی ایس ایل 11 میں سیکیورٹی پروٹوکولز کی سنگین خلاف ورزی:
شاہین آفریدی اور سکندر رضا کے خلاف تحقیقات کا آغاز: ذرائع
لاہور:(ویب ڈیسک) ذرائع کے مطابق حکام نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں ایڈیشن کے دوران سیکیورٹی پروٹوکولز کی سنگین خلاف ورزی پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس میں ذمہ داروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع اور ڈی آئی جی آپریشنز کی جانب سے ارسال کردہ ایک تحریری مراسلے کے مطابق، 28 مارچ کی شب ایک مقامی ہوٹل میں قیام پذیر کئی کھلاڑیوں نے مبینہ طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے وضع کردہ سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کی۔
واقعے کا پس منظر
رپورٹ کے مطابق واقعے کا آغاز رات تقریباً 10:35 بجے ہوا، جب لاہور قلندرز کے لائزن آفیسر نے پی سی بی کے مینیجر سیکیورٹی اینڈ اینٹی کرپشن، لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) اختر حسین سے رابطہ کیا۔ لائزن آفیسر نے آل راؤنڈر سکندر رضا کے چار مبینہ رشتہ داروں کو ان کے نجی کمرے میں ملاقات کی اجازت دینے کی درخواست کی۔
ٹورنامنٹ کے سخت سیکیورٹی اور اینٹی کرپشن پروٹوکولز کے پیش نظر پی سی بی نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ بعد ازاں لاہور قلندرز کے مالک ثمین رانا نے یہ معاملہ پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر کے سامنے اٹھایا، تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اسے دوبارہ مسترد کر دیا گیا۔

ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی
انکاری احکامات کے باوجود، جائے وقوعہ پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ رات تقریباً 11:05 بجے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور سکندر رضا نے سرکاری ہدایات کو نظر انداز کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق کھلاڑیوں نے سیکیورٹی چیکس کو بائی پاس کیا اور چار غیر متعلقہ افراد کو آٹھویں منزل پر واقع کمرہ نمبر 865 تک لے گئے، جو سکندر رضا کے لیے مخصوص تھا۔
ان افراد کی شناخت شاہزیب مجاہد، عادل ندیم، عثمان احمد ڈار اور بلال احمد کے نام سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر رات 1:25 بجے تک کمرے میں موجود رہے۔
حکام کا ردِعمل
ایس پی آپریشنز (سول لائنز ڈویژن) نے اس واقعے کو قائم شدہ سیکیورٹی اقدامات کی "سنگین خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، ڈی آئی جی آپریشنز نے پی ایس ایل کے سی ای او اور پی سی بی کو ایک باضابطہ مراسلہ جاری کیا ہے، جس میں سیکیورٹی پروٹوکولز کو نظر انداز کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
مراسلے میں واقعے کی حساسیت پر زور دیتے ہوئے پی سی بی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے کو مناسب تادیبی ذرائع سے حل کیا جائے۔ مزید برآں، یہ واضح کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور ٹورنامنٹ کے سیکیورٹی فریم ورک کے تحفظ کے لیے سخت کارروائی ناگزیر ہے۔



