کرکٹ

‏بابراعظم کی ٹیسٹ کپتانی میں واپسی — ایک نئی بحث شروع

‏بابراعظم کی ٹیسٹ کپتانی میں واپسی — ایک نئی بحث شروع

بابراعظم کو ایک بار پھر پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا ہے۔ شان مسعود کی مایوس کن کپتانی کے بعد یہ فیصلہ متوقع ضرور تھا، لیکن یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ کیا یہ بابراعظم کے لیے صحیح قدم ہے؟

گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی ٹیسٹ کارکردگی انتہائی غیر تسلی بخش رہی ہے، اور یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کپتانی کے ساتھ دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بابراعظم حالیہ پی ایس ایل میں اچھی فارم میں نظر آئے ہیں اور ان کی بیٹنگ دوبارہ بہتر ہو رہی تھی، لیکن کپتانی کا اضافی دباؤ کہیں ان کی فارم کو دوبارہ متاثر نہ کر دے۔

اگر بابراعظم کے پچھلے ٹیسٹ دورِ کپتانی پر نظر ڈالی جائے تو ان کی قیادت کو بہت حد تک غلط سمجھا گیا۔ ان کے دور میں پاکستان نے کئی شاندار سیریز بھی جیتیں:

جنوبی افریقہ کو 2-0 سے وائٹ واش بنگلہ دیش کو 2-0 سے وائٹ واش (بنگلہ دیش میں) سری لنکا کو 2-0 سے وائٹ واش (سری لنکا میں)

آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں شکست ضرور ہوئی، مگر کئی ماہرین کے مطابق وہ سیریز پاکستان کے ہاتھ سے نکل گئی تھی، خاص طور پر آخری ٹیسٹ میں بیٹنگ کولپس کی وجہ سے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز ڈرا رہی، جبکہ انگلینڈ کے خلاف ہوم وائٹ واش ان کے دور کا سب سے بڑا منفی پہلو سمجھا جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق بابراعظم نے بطور ٹیسٹ کپتان: 1,727 رنز 35 اننگز میں اوسط 50.79. 4 سنچریاں اور 11 نصف سنچریاں اب دیکھنا یہ ہے کہ بابراعظم کی یہ “ٹیسٹ کپتانی 2.0 پاکستان کرکٹ کے لیے بہتری لاتی ہے یا ایک نیا دباؤ ثابت ہوتی ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!