
ٹرمپ کی مداخلت، فیفا کا متنازع فیصلہ اور امریکہ کی ورلڈ کپ سے رخصتی
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے میں امریکہ نے راؤنڈ آف 32 کے میچ میں بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کو 2-0 سے شکست دی۔ اس میچ کے دوران امریکی اسٹرائیکر Folarin Balogun کو ایک سخت ٹیکل کے باعث ریفری نے سیدھا ریڈ کارڈ دکھایا۔
ورلڈ کپ کے قوانین کے مطابق، سیدھا ریڈ کارڈ ملنے کی صورت میں کھلاڑی کو خودکار طور پر اگلے میچ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد یہ واضح تھا کہ بالوگن امریکہ کا اگلا ناک آؤٹ میچ نہیں کھیل سکیں گے۔
اس دوران امریکی صدر Donald Trump نے تصدیق کی کہ انہوں نے فیفا کے صدر Gianni Infantino سے بات کی اور معاملے پر نظرِ ثانی کی درخواست کی۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد دنیا بھر میں یہ بحث شروع ہوگئی کہ کیا سیاست کھیل کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
چند ہی گھنٹوں بعد فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی نے غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے بالوگن کی ایک میچ کی معطلی کو مؤخر کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف راؤنڈ آف 16 کے اہم میچ میں شرکت کے اہل ہو گئے۔ فیفا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ کمیٹی نے اپنے قواعد کے مطابق آزادانہ طور پر کیا ہے، تاہم ناقدین نے اس وضاحت کو قبول نہیں کیا۔
اس فیصلے پر یورپی فٹبال حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ UEFA نے اسے "غیر معمولی، ناقابلِ فہم اور ناقابلِ جواز” قرار دیا، جبکہ بیلجیئم فٹبال فیڈریشن نے بھی سخت احتجاج کیا۔
کئی سابق فٹبال عہدیداروں اور ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی شخصیات کی مداخلت کے بعد ایسے فیصلے ہونے لگیں تو کھیل کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔
بالآخر امریکہ نے بیلجیئم کے خلاف راؤنڈ آف 16 کا میچ کھیلا، جس میں بالوگن بھی ٹیم کا حصہ تھے۔ تاہم اس کے باوجود امریکہ کو 4-1 سے شکست ہوئی اور وہ ورلڈ کپ 2026 سے باہر ہو گیا، جبکہ بیلجیئم کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا۔
یہ معاملہ صرف ایک ریڈ کارڈ تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا بھر میں اس پر بحث جاری ہے کہ آیا فیفا کے فیصلے مکمل طور پر آزاد تھے یا سیاسی دباؤ نے کسی نہ کسی حد تک اپنا اثر دکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کو ورلڈ کپ 2026 کے سب سے متنازع واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔



