
پی ایم ایم اے ایف کا ملک میں ایم ایم اے کے فروغ اور نئے ٹیلنٹ کے لیے ‘پاکستان اوپن 2026’ کا انعقاد
لاہور:پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن نے کھلاڑیوں کی روزافزوں تربیت، قومی سطح کے مقابلوں کے انعقاد اور میڈیا کی جامع کوریج کے ذریعے رزمیہ کھیلوں کے معیار کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔
‘پاکستان اوپن 2026’ محض ایک ایم ایم اے چیمپئن شپ نہیں، بلکہ یہ پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن کی ان سالہا سال کی محنت اور کاوشوں کا مظہر ہے جو اس نے بین الاقوامی سطح کے چیمپئنز پیدا کرنے والا ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے کی ہیں۔
فیڈریشن کے صدر عمر احمد کی قیادت میں ادارے نے کھلاڑیوں کی نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ ترین سطح تک کی تمام تر ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
ان میں علاقائی ٹرائلز کے انعقاد اور ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی نشاندہی سے لے کر ملک بھر کے فائٹرز کو قومی اسٹیج پر لانے تک کے تمام مراحل شامل ہیں۔ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کے لیے سفری اخراجات، رہائش اور خوراک کا بندوبست ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
فیڈریشن نے ان تمام سہولیات کے اخراجات خود برداشت کر کے اس رکاوٹ کو دور کیا ہے تاکہ مالی تنگ دستی کسی بھی باصلاحیت کھلاڑی کے راستے کی دیوار نہ بنے۔
فیڈریشن کی ذمہ داری صرف کھلاڑیوں کو رنگ یا ‘کیج’ تک لانے پر ختم نہیں ہوتی۔ اس پیمانے پر چیمپئن شپ کا انعقاد پیشے ورانہ ایونٹ پروڈکشن، ٹیکنیکل آفیشلز، طبی سہولیات، رہائش، اسپانسرشپ اور ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشریات کا متقاضی ہوتا ہے، جسے بخوبی نبھایا جا رہا ہے۔
‘پاکستان اوپن 2026’ کا بنیادی مقصد ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو وہ تجربہ اور پذیرائی فراہم کرنا ہے جو انہیں بین الاقوامی مقابلوں اور پیشہ ورانہ کیریئر میں آگے بڑھنے کے لیے درکار ہے۔
ترقی کی ضامن باہم شراکت داریاس پیش رفت میں ‘ایکٹیوٹ’ (ACTIVIT) برانڈ اور آر ڈی رضوان آفتاب کا مسلسل تعاون نمایاں رہا ہے، جن کے ایم ایم اے کے ساتھ پختہ عزم نے فیڈریشن کے بلند نظر منصوبوں کو حقیقت کا روپ دھارنے میں مدد دی۔ ان کی یہ شراکت داری روایتی اسپانسرشپ سے کہیں بالاتر ہے۔
مقابلوں کے انعقاد اور کھلاڑیوں کی تربیت میں تعاون فراہم کر کے ‘ایکٹیوٹ’ نے اس کھیل کی نمو اور پاکستانی فائٹرز کے لیے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ایک ایسا نظام جو چیمپئنز پیدا کرتا ہےصدر پی ایم ایم اے ایف عمر احمد کے مطابق، ان کا مقصد صرف مقابلوں کا انعقاد کرنا نہیں تھا،
بلکہ ایک ایسا ماحول اور بنیادی نظام تیار کرنا تھا جہاں نئے کھلاڑیوں کی تلاش، ان کی تربیت، ان کی پروموشن اور بالآخر انہیں دنیا کے بہترین فائٹرز کے مدِ مقابل لانے کے تمام مراحل ایک ترتیب سے طے پا سکیں۔
پی ایم ایم اے ایف، ‘بریو جِم’، بین الاقوامی مقابلوں تک رسائی کے راستوں اور پرعزم شرکاء کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں اب یہ وژن بارآور ثابت ہو رہا ہے۔
انگوولا میں منعقدہ ‘IMMAF ورلڈ کپ 2026’ میں پاکستان کی حال ہی میں حاصل کردہ طلائی اور چاندی کے تمغوں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب باصلاحیت کھلاڑیوں کو درست کوچنگ، مقابلے کی فضا اور ادارہ جاتی سرپرستی ملے تو وہ کیا معجزے دکھا سکتے ہیں۔
اصل کامیابی صرف ایک کامیاب ایونٹ یا کوئی ایک عالمی تمغہ جیتنا نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جو سال بہ سال نئے چیمپئن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
‘پاکستان اوپن 2026’ اسی منزل کی طرف ایک اور اہم قدم ہے، جہاں فیڈریشن، اس کی قیادت اور تمام شرکاء پاکستانی ایم ایم اے کے روشن مستقبل میں مسلسل سرمائے اور محنت کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
ایک ایسے کھیل کے لیے جو روایتی اور قائم شدہ کھیلوں کی طرح زیادہ مالی معاونت کا حامل نہیں رہا، یہ پیش رفت بے حد اہمیت کی حامل ہے۔
پاکستان میں رزمیہ صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں؛ اسے ضرورت ہے تو بس ایک مضبوط ساخت، درست سرمایہ کاری اور ان مواقع کی جو اس خام ٹیلنٹ کو عالمی سطح کے ایٹلیٹس میں ڈھال سکیں۔ پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن بالکل یہی کام سرانجام دے رہی ہے۔



