کرکٹ

نمیبیا نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کر لیا.

نمیبیا نے تنزانیہ کو شکست دے کر ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔

جے جے اسمتھ کی شاندار کارکردگی نے نمیبیا کو تنزانیہ کے خلاف کامیابی دلوائی جس کے بعد ٹیم نے بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرلیا۔

نمیبیا اس سے قبل 2021، 2022 اور 2024 میں ورلڈ کپ کھیل چکی ہے۔

نمیبیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 174 رنز بنائے، 41 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد کپتان گیرہارڈ ایراسمس اور جے جے اسمتھ نے 88 رنز کی شاندار شراکت قائم کی اور ٹیم میں مشکل سے نکالا۔

گیرہارڈ نے 41 گیندوں پر 6 چوکوں کی مدد سے 55 رنز بنائے جبکہ جے جے اسمتھ نے 43 گیندوں پر 4 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 61 رنز کی اننگ کھیلی۔

تنزانیہ کی جانب سے ایلی کیموٹے اور خالدی جمعہ نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

تنزانیہ کی ٹیم 175 رنز کے تعاقب میں 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 111 رنز بناسکی، ابھیک پٹوا 31 گیندوں پر 31 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے۔

جے جے اسمتھ نے بیٹنگ کے بعد بولنگ میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی اور تنزانیہ کی تین اہم وکٹیں حاصل کیں۔

دوسرے اینڈ سے بین شیکونگو نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

افریقا ریجن کوالیفائنگ راؤنڈ میں زمبابوے نے فائنل میں جگہ بنائی جبکہ نمیبیا بھی ایونٹ میں رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس طرح افریقی ریجن سے یہ دونوں ٹیمیں میگا ایونٹ کا حصہ بن گئیں۔

اس سے قبل یورپی کوالیفائرز میں تاریخ رقم کرتے ہوئے اٹلی نے پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں جگہ بنائی، جبکہ نیدرلینڈز بھی یورپ سے کوالیفائی کرنے والی ٹیموں میں شامل ہو چکا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق آئندہ سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کل 20 ٹیمیں میدان میں اتریں گی۔

ان میں میزبان بھارت اور سری لنکا کے ساتھ ساتھ افغانستان، آسٹریلیا، بنگلادیش، انگلینڈ، جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز، امریکا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں جو گزشتہ ورلڈکپ کے سپر ایٹ مرحلے میں پہنچنے کے باعث براہِ راست کوالیفائی کرچکے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ نے اپنی آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ کی بنیاد پر ایونٹ میں جگہ بنائی ہے۔ اب باقی تین ٹیموں کا فیصلہ امریکا کے ایک اور ایشیا/ایسٹ ایشیا پیسیفک ریجن سے ہوگا، جس کے بعد مکمل لائن اپ سامنے آجائے گی۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں شامل ہونے والی ٹیموں کی بڑی تعداد اور نئے ممالک کی شمولیت نے شائقین کے جوش و خروش میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!