دیگر سپورٹس

خیبرپختونخوا میں پیڈل کی بازگشت، ایک نئے سپورٹس کلچر کی بنیاد رکھ دیاگیاہے

خیبرپختونخوا میں پیڈل کی بازگشت، ایک نئے سپورٹس کلچر کی بنیاد رکھ دیاگیاہے،

دیواروں کے اندر کھیلا جانے والا دنیاکامقبول کھیل پیڈل جو پاکستان کے نوجوانوں کیلئےنئی شناخت کا ذریعہ بن رہاہے

رپورٹ: غنی الرحمن

کھیل صرف میدانوں میں دوڑنے، گیند اچھالنے یا پوائنٹس بنانے کا نام نہیں ہوتا، بلکہ یہ معاشروں کی سوچ، ترجیحات اور مستقبل کے خوابوں کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ جب کوئی نیا کھیل کسی خطے میں جڑ پکڑتا ہے تو وہ صرف ایک کھیل نہیں رہتا بلکہ نوجوانوں کیلئے نئی راہیں، صحت مند سرگرمیاں اور عالمی دنیا سے جڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

آج دنیا میں تیزی سے مقبول ہونے والا کھیل پیڈل (Padel) بھی ایسا ہی ایک جدید کھیل ہے جو مختصر وقت میں عالمی سطح پر پہچان حاصل کر چکا ہے، اور اب پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں بھی اپنی جگہ بنانے کی جانب گامزن ہے۔

پیڈل کا شمار دنیا کے تیزی سے پھیلنے والے کھیلوں میں ہوتا ہے۔ یہ کھیل بنیادی طور پر میکسیکو میں 1969ء میں متعارف ہوا، جہاں اینریکے کورکیورا نامی شخصیت نے محدود جگہ کے باعث ٹینس اور اسکوائش کے امتزاج سے ایک نیا کھیل تشکیل دیا۔ بعد ازاں یہ کھیل اسپین پہنچا جہاں اسے غیر معمولی مقبولیت ملی، اور یہی وہ ملک ہے جس نے پیڈل کو عالمی سطح پر شناخت دلائی۔

پیڈل عام طور پر چار کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے، بند دیواروں والے کورٹ میں کھیلا جاتا ہے، اور اس میں طاقت کے بجائے حکمتِ عملی، توازن اور ردِعمل کو زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کھیل ہر عمر کے افراد میں مقبول ہو رہا ہے۔ عالمی اور بین الاقوامی مقابلے پیڈل کی عالمی نگرانی انٹرنیشنل پیڈل فیڈریشن (FIP) کے تحت کی جاتی ہے۔

دنیا بھر میں ورلڈ پیڈل چیمپئن شپ مختلف ممالک میں منعقد ہوتی رہی ہے، جن میں اسپین، اٹلی، قطر اور یورپی ممالک نمایاں ہیں۔ ان مقابلوں میں اب تک اسپین مردوں اور خواتین دونوں کیٹیگریز میں سب سے کامیاب اور غالب ٹیم کے طور پر ابھرا ہے، جبکہ ارجنٹائن بھی عالمی سطح پر ایک مضبوط حریف کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

ایشیا میں پیڈل کا فروغ نسبتاً نیا ہے، تاہم قطر، متحدہ عرب امارات، جاپان اور سعودی عرب میں ایشیائی اور انٹرنیشنل سطح کے مقابلے منعقد ہو چکے ہیں۔ قطر نے خاص طور پر پیڈل کو فروغ دینے میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور کئی عالمی ایونٹس کی میزبانی بھی کی ہے۔

پاکستان میں پیڈل کا آغاز ;

پاکستان میں پیڈل ایک نیا مگر تیزی سے متعارف ہونے والا کھیل ہے۔ ابتدا میں یہ کھیل اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے چند نجی اسپورٹس کلبز تک محدود رہا، تاہم عالمی رجحانات اور نوجوانوں کی دلچسپی نے اسے مزید وسعت دی۔پیڈل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نسبتاً کم وقت میں سیکھا جا سکتا ہے، اور شہری علاقوں میں محدود جگہ کے باوجود آسانی سے کھیلا جا سکتا ہے، جو پاکستان جیسے ملک کیلئے ایک مثبت پہلو ہے۔

خیبرپختونخوا اور سرفراز خان کی جدوجہد ;

خیبرپختونخوا میں اگر پیڈل کے فروغ کی بات کی جائے تو سرفراز خان کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ نہ صرف اس جدید کھیل کی افادیت اور عالمی اہمیت سے آگاہ ہیں بلکہ عملی طور پر اسے فروغ دینے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔

سرفراز خان پشاور میں پیڈل کے باقاعدہ کورٹس کی تعمیر کیلئے مختلف مقامات اور سائٹس کا جائزہ لے چکے ہیں، تاکہ نوجوانوں کو ایک معیاری اور جدید سہولت فراہم کی جا سکے۔

ان کی کوششوں کا مقصد صرف ایک کھیل متعارف کروانا نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو عالمی اسپورٹس کلچر سے جوڑنا، صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اور مستقبل میں قومی و بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

پیڈل آج دنیا کے ترقی یافتہ کھیلوں میں شامل ہو چکا ہے، اور اگر پاکستان میں اس کی منصوبہ بندی کے ساتھ ترویج کی جائے تو یہ کھیل بھی مستقبل میں ہماری شناخت بن سکتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں سرفراز خان جیسے افراد کی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت اور وژن واضح ہو تو نئے کھیل بھی نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔

یہ وقت ہے کہ سرکاری و نجی سطح پر ان کوششوں کو سراہا جائے، تاکہ پیڈل جیسے جدید کھیل پاکستان کے نوجوانوں کیلئے ایک روشن مستقبل کی بنیاد بن سکیں۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!