
پی ایس بی کی جانب سے شفاف پی ایچ ایف انتخابات کے لیے ہاکی کلبوں کی سکروٹنی کا عمل جاری
اسلام آباد: پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے آئندہ انتخابات کو شفاف، معتبر اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے ملک بھر کے ہاکی کلبوں کی سکروٹنی کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
یہ عمل پی ایس بی-پی ایچ ایف آئین، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کی سفارشات اور پی ایس بی و پی ایچ ایف کے درمیان طے شدہ انتخابی فریم ورک کے عین مطابق کیا جا رہا ہے۔
پی ایس بی کے ترجمان نے بعض میڈیا تاثر اور رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ سکروٹنی کے اس عمل میں پی ایس بی کسی گروہ، فرد یا دھڑے کی حمایت نہیں کر رہا۔
ترجمان کے مطابق سکروٹنی مکمل طور پر میرٹ، دستاویزی شواہد اور تصدیقی معیار کی بنیاد پر کی جا رہی ہے اور اس کے برعکس پھیلایا جانے والا تاثر غلط اور گمراہ کن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہاکی کی انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ کلبوں کی اس نوعیت کی منظم، قابلِ تصدیق اور شفاف سکروٹنی کی جا رہی ہے، جو ایک غیر معمولی اقدام ہے۔
یہ عمل موجودہ ڈائریکٹر جنرل پی ایس بی، یاسر پیرزادہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی ادارہ جاتی اصلاحات اور شفاف گورننس کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پی ایس بی نے سکروٹنی کا آغاز ان کلبوں کے ریکارڈ اور ڈیٹا کی بنیاد پر کیا ہے جو پہلے ہی قائمہ کمیٹی کو جمع کرائے جا چکے تھے۔
سکروٹنی کا عمل ایک کمیٹی کے ذریعے کیا جا رہا ہے جس میں ایک پی ایس بی نامزد رکن (ضلع کی سطح پر نامزد کیا جائے گا) اور ایک پی ایچ ایف نامزد رکن (شہباز سینئر) شامل ہیں۔
اس عمل میں ڈیٹا جمع کرانے، جانچ پڑتال، خامیوں کی درستی اور حتمی منظوری کا باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ پی ایچ ایف کی ویب سائٹ پر کل 1,156 کلب رجسٹرڈ تھے،
جن میں سے بادی النظر میں 883 کلب جسمانی تصدیق سے مشروط طور پر اہل پائے گئے ہیں، کیونکہ ان میں کم از کم 14 کھلاڑی موجود ہیں جن کی عمریں مقررہ حد یعنی 14 سے 30 سال کے درمیان ہیں۔
جبکہ باقی 273 کلب بادی النظر میں نااہل قرار پائے ہیں کیونکہ ان میں یا تو 14 سے کم کھلاڑی ہیں یا کھلاڑی مقررہ عمر کی حد سے باہر ہیں۔
اس کے علاوہ، پی ایچ ایف نے قائمہ کمیٹی کو 85 اضلاع کی فہرست فراہم کی تھی جو آئینِ پی ایچ ایف کے مطابق کم از کم پانچ کلبوں کی موجودگی کی بنیاد پر کانگریس میں ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔
تاہم آن لائن کلب رجسٹریشن پورٹل پر دستیاب ڈیٹا سے موازنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ان 85 اضلاع میں سے 19 اضلاع میں پانچ سے کم رجسٹرڈ کلب موجود ہیں،
جس کے باعث بادی النظر میں یہ 19 اضلاع کانگریس میں ووٹ دینے کے اہل نہیں بنتے۔ ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت خود اس بات کا ثبوت ہے کہ سکروٹنی کا عمل سنجیدہ، غیر جانبدار اور شفاف انداز میں جاری ہے۔
عمل کے اگلے مرحلے میں پی ایس بی ہفتہ، 17 جنوری 2026 سے اسلام آباد/راولپنڈی سے جسمانی تصدیق کا آغاز کرے گا، جو نصیر بندہ ہاکی اسٹیڈیم، اسلام آباد میں کی جائے گی۔
سکروٹنی کے بعد جن کلبوں میں خامیاں یا تضادات پائے جائیں گے، انہیں اعتراض یا اپیل دائر کرنے کا موقع دیا جائے گا تاکہ بدنیتی یا سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی شکایات سے بچا جا سکے اور عمل منصفانہ اور منظم رہے۔
کسی بھی غیر حل شدہ اعتراض یا اپیل کا فیصلہ پی ایس بی کی جانب سے پہلے ہی نوٹیفائی کیے گئے پینل آف ایڈجوڈی کیٹرز کرے گا۔



