
ایسٹ زون کرکٹ ایسوسی ایشن میں مبینہ بے ضابطگیوں پر آرگنائزرز کے سنگین تحفظات
لاہور: ایسٹ زون کرکٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ مختلف آرگنائزرز کی ایک بڑی تعداد نے ایسوسی ایشن کے معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں، بدانتظامیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں ایسے اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں جو نہ صرف کرکٹ کے شفاف نظام کے منافی ہیں بلکہ مقامی کھلاڑیوں کے حقوق کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
آرگنائزرز کے مطابق بعض عناصر مرحوم جاوید علی کا نام استعمال کرتے ہوئے کرکٹ حلقوں میں غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جاوید علی کی کرکٹ کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں،
تاہم موجودہ عہدیداران میں سے کچھ افراد ان کے نام کو بطور ڈھال استعمال کر کے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہی عناصر ماضی میں جاوید علی گروپ کے اندر اختلافات پیدا کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں۔
آرگنائزرز نے الزام عائد کیا کہ چند عہدیداران نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے چیلنج کپ میں ایک سو چالیس سے زائد کھلاڑیوں کو غیر شفاف طریقے سے شامل کیا،
جن میں ایسے افراد بھی شامل تھے جو باقاعدہ سلیکشن کے عمل سے نہیں گزرے تھے۔ اس عمل نے میرٹ کی پامالی کو واضح طور پر اجاگر کیا۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھی ایسٹ زون کو سخت پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقع پر لاہور ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر خواجہ ندیم نے معاملے کو سنبھالتے ہوئے متعلقہ عہدیداران کو ممکنہ تادیبی کارروائی سے بچایا، تاہم افسوسناک طور پر اب انہی افراد کی جانب سے اپنے محسن کے خلاف منفی مہم چلائی جا رہی ہے۔
آرگنائزرز کے مطابق یہی گروہ ماضی میں بھی کرکٹ کے مثبت ماحول کو نقصان پہنچانے میں سرگرم رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایسٹ زون کے خازن نے اپنے محسن سرفراز احمد (سابق صدر، پرنس کرکٹ کلب) کے خلاف سازشیں کیں، جس سے بیشتر آرگنائزرز بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں یہی عناصر ذاتی مفادات کے حصول کے لیے بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔
مزید برآں، آرگنائزرز نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ایسٹ زون کے خازن نے مبینہ طور پر لاہور سے باہر، خصوصاً فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو غیر معمولی ترجیح دی، جس کے باعث مقامی کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور ان کے مواقع محدود ہو گئے۔
مالی معاملات پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
آرگنائزرز نے اس بات پر زور دیا کہ لاہور ریجن کی سطح پر ہمیشہ میرٹ کو ترجیح دی گئی ہے، جس کا واضح ثبوت مختلف عمر کے گروپس میں حاصل کی گئی کامیابیاں ہیں۔ انڈر 15، انڈر 17، انڈر 19 اور قومی ٹی ٹوئنٹی چیمپئن شپ میں نمایاں کارکردگی شفاف نظام کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ایسٹ زون کرکٹ ایسوسی ایشن میں ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے رہے، جہاں مخصوص افراد کو بار بار ٹیموں میں شامل کیا گیا، انہیں کپتانی سونپی گئی اور اپنی ہی کلبوں سے کوچز و مینیجرز تعینات کیے گئے۔
آرگنائزرز نے نشاندہی کی کہ حالیہ چیلنج کپ میں شامل چھ ٹیموں میں سے تین ٹیموں کے کپتان ایسٹ زون کے خازن کی کلب سے تعلق رکھتے ہیں، جو زون میں جاری مبینہ جانبداری اور من مانیوں کا واضح ثبوت ہے۔



