
گلاسگو کامن ویلتھ گیمز، پاکستان کا 36 رکنی دستہ میڈلز کے حصول کے لیے پرعزم
گلاسگو میں منعقد ہونے والے آئندہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے 36 کھلاڑیوں پر مشتمل دستے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
یہ بین الاقوامی کھیلوں کا میلہ 23 جولائی سے شروع ہو کر 2 اگست تک جاری رہے گا، جس میں پاکستانی ایتھلیٹس شرکت کریں گے۔
پاکستان کے یہ کھلاڑی ایتھلیٹکس، باکسنگ، جمناسٹک، جوڈو، لان بال اور تیراکی سمیت کل 6 مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔
ایتھلیٹکس کے دستے میں فائقہ ریاض، آمنہ تبسم، نورین حسین، ارشد ندیم، محمد اختر، محمد اسماعیل اور یاسر سلطان شامل ہیں۔ ان کی رہنمائی کوچز فریال فاروق، اشرف علی اور سلمان بٹ کریں گے۔
باکسنگ کے شعبے میں ملک کا نام روشن کرنے کے لیے افضل خان، فاطمہ زہرا، مالیکہ زاہد، قدرت اللہ اور سومامہ رحمان کو منتخب کیا گیا ہے۔
ان کھیلوں کے علاوہ جمناسٹک کے مقابلوں میں شہزاد علی حصہ لیں گے، جن کے ہمراہ کوچ خالد محمود ٹیم کی نگرانی کے فرائض سرانجام دیں گے تاکہ کھلاڑی بہتر کارکردگی پیش کر سکیں۔
لان بال کے مقابلوں میں مقصود وسیم خان اور محمد ایوب قریشی پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
تیراکی کے ایونٹ میں حمزہ آصف، حریم ملک، جہاں آرا نبی اور احمد درانی میڈلز جیتنے کے لیے اپنی پوری توانائیاں صرف کریں گے۔ ٹیم میں شامل تمام کھلاڑی گزشتہ کچھ عرصے سے سخت محنت کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان کا یہ دستہ ملک کا نام عالمی سطح پر بلند کرنے کے عزم کے ساتھ روانہ ہوگا۔
ان کھیلوں میں شرکت سے جہاں کھلاڑیوں کو عالمی معیار کے حریفوں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملے گا، وہیں یہ تجربہ مستقبل میں ہونے والی دیگر بڑی اسپورٹس ایونٹس کے لیے بھی انتہائی سودمند ثابت ہوگا۔
واضح رہے کہ کامن ویلتھ گیمز کا شمار دنیا کے اہم ترین کھیلوں کے مقابلوں میں ہوتا ہے جہاں دولتِ مشترکہ کے ممالک کے ایتھلیٹس اکٹھے ہوتے ہیں۔
پاکستانی دستے کی روانگی سے قبل کھلاڑیوں کی تیاریوں پر خاص توجہ دی گئی ہے تاکہ وہ گلاسگو کے میدانوں میں قومی پرچم کی سربلندی کا باعث بن سکیں۔ قوم کو اپنے ان کھلاڑیوں سے شاندار کارکردگی کی توقعات ہیں۔



