ڈھاکہ (سپورٹس لنک رپورٹ)ویسٹ انڈین کرکٹر کرس گیل کو ڈھاکا میں ہونے کے باوجود بنگلا دیش پریمیئر لیگ کھیلنے کی اجازت نہ مل سکی۔سابق ویسٹ انڈین کرکٹر کرس گیل بی پی ایل میں رنگ پور رائیڈرز کی ٹیم میں شامل ہیں ، وہ 3 روز سے ڈھاکا میں موجود ہیں لیکن ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کی جانب سے این او سی نہ ملنے کے سبب انہیں بی پی ایل میں کھیلنے کی اجازت نہیں مل سکی ہے۔بی پی ایل کی ٹیکنیکل کمیٹی کےچیئرمین جلال یونس کا کہنا ہے کہ ہر کھلاڑی کے پاس متعلقہ بورڈ کا این او سی ہونا ضروری ہوتا ہے، جبکہ کرس گیل کے پاس بورڈ کا این او سی نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جونہی کرس گیل ویسٹ انڈیز بورڈ کا این او سی حاصل کر لیں گے وہ بی پی ایل کھیلنے کے اہل ہوں گے۔
نیویارک (سہیل چیمہ)آج پاکستان ساوتھ افریقہ سے ٹیسٹ سیریز ھار گیا۔۔۔ویسے تو پاکستان جب وسیم، وقار، میانداد، انضمام، یونس ، یوسف اور شعیب اختر جیسے پلیرز کے ھوتے ھوے بھی آج تک ساوتھ افریقہ کو کبھی بھی ساوتھ افریقہ میں ٹیسٹ سیریز نہی ھرا سکا، مگر اب پاکستان کی کرکٹ پچھلے کئی سالوں سے پاکستان کی ھاکی اور اسکواش بنتی جارہی ھی۔۔۔۔اس Downfall کی وجہ ھمیشہ لوگوں نے اندرونی سیاست کو ذمہ دار ٹہرایا مگر یہ تنزلی اندرونی سیاست کم اور ھماری مجموعی سیاست اور سماجی downfall کا نتیجہ ھے، جس پر نہ کوئ بات کرتا ھے اور نہ کوئ سمجھنے کو تیار ھے۔۔ ایک زمانہ تھا صرف کراچی کے شہر ناظم آباد سے ورلڈ الیون کی ٹیم بنتی تھی۔۔۔ صرف اس چھوٹے سے شہر سے حنیف محمد، وزیر محمد، مشتاق محمد، صادق محمد، آصف اقبال، ظہیر عباس جیسے کھلاڑیوں نے پاکستان کی ٹیم کی نمائندگی کی ھے۔۔۔اگر آپ باقی شہر کی بات کرو تو جاوید میانداد، وسیم باری، ھارون رشید، معین خان، راشد لطیف،… کئی مایہ ناز کھلاڑیوں نے گرین کیپ پہن کر ملک کا نام روشن کیا۔۔۔ایک زمانے میں میرے اپنے محلے میں بیک وقت دس مختلف ٹیمیں ، مختلف جگہ پر ایک ساتھ سڑک پر کرکٹ کھیل رھی ھوتی تھی۔۔۔۔کراچی کے ھزاروں کرکٹ گراونڈز اتوار اور جمعہ کو سفید کپڑے پہن کر میلہ سجایا کرتے تھے۔۔۔آج ان کرکٹ گراونڈز پر چائنا کٹنگ کرکے اپارٹمنٹس اور پلازہ تعمیر ھوچکے ھیں۔۔۔سڑکوں پر مختلف ٹیموں کی بجاے وحشت اور خوف کے آپس میں میچ کھیلتے ھیں۔۔۔۔اور وہ بچے جو شہر میں کرکٹ کھیلتے تھے، اکثر سوشل میڈیا کے ان باکس میں انڈور کھیلوں میں اپنا ٹیلنٹ دکھاتے ھیں. ۔۔ایک زمانہ تھا پاکستان کی کرکٹ ٹیم آدھی کراچی اور آدھی لاھور سے بنتی تھی۔۔۔اکثریت لڑکے پڑھے لکھے گھرانوں کے ھوتے تھے۔۔۔ایک زمانے میں پاکستان کی ٹیم میں بیک وقت، ماجد خان، صادق خان، ظہیر عباس، جاوید میانداد، آصف اقبال، وسیم باری، عمران خان، سرفراز نواز، کھیلتے تھے جو سب کے سب ٹیم کے کپتان بنے۔۔۔آج ھمارے یہ حالات ھیں، ایک بھی کھلاڑی ٹیم کا کپتان بننے کے لائق نہی۔۔۔ٹیم میں ٹیلنٹ کا فقدان ھے۔۔۔اس سارے downfall یا تنزلی کی وجہ کراچی اور لاھور سے پڑھے لکھے لکھے نوجوانوں کی کھیل سے عدم دلچسپی ۔۔۔آج ٹیم میں زیادہ تر لڑکے پاکستان کے گاوں دیہاتوں سے تعلق رکھتے ھیں، سونے پر سہاگہ ھم نے کرکٹ میں بھی تبلیغی جماعت گھسا دی ھے ۔۔۔ ھمارے کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ تو ھے مگر گیم اب سائنٹفک ھوچکا ھے۔۔۔اب گیم میں کمپیوٹرز آگیے ھیں۔۔۔جو آپ کے کھیل کی خامیاں ایک سیکنڈ میں نکال کر آپ کو فارغ کردیتے ھیں۔۔۔اگر پاکستان کی کرکٹ کو سہی کرنا ھے تو ھمیں اس کے گراس روٹ لیول پر کام کرنا پڑیگا ۔۔۔اب تک ھم مرھم پٹیوں سے گزارہ کررھے ھیں ۔۔ھم ھمیشہ کینسر کا علاج ڈسپرین یا دم دوا سے کرنے کے عادی ھیں۔۔۔اچھی خبر یہ ھے کہ موجودہ کرکٹ بورڈ نے وسیم خان جو یارکشائر کاونٹی کے CEO تھے، ان کو کرکٹ بورڈ کا مینجنگ ڈاریکٹر بنایا ھے جو کرکٹ کے انفرا اسٹکچر پر توجہ دیں گے اور اس کی خامیاں دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
آکلینڈ ۔ (سپورٹس لنک رپورٹ) جرمن کھلاڑی جولیا جارجز نے آکلینڈ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ ویمنز سنگل ٹائٹل اپنے نام کر لیا، انہوں نے فیصلہ کن معرکے میں کینیڈین کھلاڑی بیانکا اینڈریسکو کو شکست دے کر کیریئر کا ساتواں ڈبلیو ٹی اے ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔نیوزی لینڈ میں منعقدہ ایونٹ میں گزشتہ روز کھیلے گئے ویمنز سنگل فائنل میں جولیا جارجز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیانکا اینڈریسکو کو زبردست مقابلے کے بعد 2-6، 7-5 اور 6-1 سے ہرا کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔
شینزن ۔ (سپورٹس لنک رپورٹ) روس کی گولڈن گرل ماریا شرا پووا کی فٹنس مسائل کے باعث رواں ماہ شیڈول سال کے پہلے گرینڈ سلام ٹینس ٹورنامنٹ آسٹریلین اوپن میں شرکت مشکوک ہو گئی، وہ چین میں منعقدہ شینزن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ سیمی فائنل کے دوران انجری کا شکار ہوئی تھیں جس کی وجہ سے انہیں میچ سے دستبرداری اختیار کرنا پڑی تھی۔شرا پووا نے اپنے بیان میں کہا کہ آسٹریلین اوپن سے قبل سو فیصد فٹنس حاصل کرنے کیلئے سرتوڑ کوشش کروں گی تاہم اس وقت حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتی۔ واضح رہے کہ آسٹریلین اوپن 14 جنوری سے شروع ہو گا۔
لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ) پاکستان سپر لیگ کی چھٹی ٹیم نے حتمی نام’’ملتان سلطانز‘‘ رکھ لیا۔ ٹیم کے مالک ملتان فرنچائزعلی ترین نے کہا کہ عوام کی خواہش پرٹیم کا نام ملتان سلطانز رکھنے کا فیصلہ کیا، جنوبی پنجاب صوبہ بنے گا اورہماری ٹیم جنوبی پنجاب کی پہچان ہوگی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان سپر لیگ کی چھٹی ٹیم یعنی ہماری ٹیم کا نام ملتان سلطانز ہی ہوگا۔مالک ملتان فرنچائزعلی ترین نے کہا کہ عوام کی خواہش پرٹیم کا نام ملتان سلطانز رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذاتی طورپرملتان بہادرز پسند تھا لیکن عوام کی خواہش کے مطابق نام چنا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنے گا اورہماری ٹیم جنوبی پنجاب کی پہچان ہوگی۔علی نے کہا کہ ہم نے جب یہ ٹیم خریدی تھی تو ہماری خواہش تھی کہ یہ ٹیم صرف ملتان کی نہ ہو بلکہ پورے جنوبی پنجاب کی ٹیم ہو۔علی ترین نے کہا کہ ہم پورے جنوبی پنجاب سے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہونا چاہیے۔ ملتان پہلا نام تھا،اس کاٹائٹل نام کیا ہونا چاہیے۔
لوگوں نے لاکھوں کی تعداد میں تجاویز بھیجیں۔ بہادرز، کسی نے کہا ملنگ، لیکن ہمیں یہ نام اچھے لگے۔ ہم نے سڑکوں پر جاکر لوگوں سے پوچھا۔ہم خانیوال، لودھراں گئے۔ لوگوں نے ہمیں کہا کہ ملتان سلطان اچھا نام ہے کیوں تبدیل کررہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے ملتان بہادر زیادہ پسند تھا۔لیکن ہم نے لوگوں کی رائے کواہمیت دی۔ہمارا جنوبی پنجاب صوبہ بنے گا ۔ ہم آج اعلان کرتے ہیں کہ ہماری ٹیم کا نام ملتان سلطان ہی رہے گا۔ اور جنوبی پنجاب پاکستان کا چھٹا صوبہ بھی بنے گا۔ واضح رہے تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین نے پاکستان سپر لیگ کی چھٹی ٹیم خریدی تھی۔ پی ایس ایل کی چھٹی ٹیم فرنچائز کی فروخت کے لیے بڈنگ لاہور میں ہوئی تھی۔ جس میں علی ترین نے ٹیم کے باقاعدہ مالکانہ حقوق حاصل کرلیے۔ بتایا گیا ہے کہ پی ایس ایل کی چھٹی ٹیم تقریباً 73 کروڑ روپے میں فروخت ہوئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کی چھٹی ٹیم ملتان کنسروشیم کے مالک علی ترین نے خرید لی ہے اور اس کے حقوق 7 سال کے لیے حاصل کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد ۔ (سپورٹس لنک رپورٹ) پانچ رکنی قومی جونیئر ٹیم انڈر14-آئی ٹی ایف ڈویلپمنٹ ٹینس چیمپئن شپ ڈویژن ٹو میں شرکت کے لئے تھائی لینڈ پہنچ گئی۔پاکستان ٹینس فیڈریشن کے حکام کے مطابق چیمپئن شپ تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں شروع ہوگئی جو 18جنوری تک جاری رہے گی۔ایونٹ میں چار کھلاڑی اور ایک آفیشل پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ کھلاڑیوں میں تین مرد ،ایک خواتین اور ایک آفیشل شامل ہے۔ کھلاڑیوں میں حسن علی ، حامد اسرار،حذیفہ خان اور شیزہ ساجد شامل ہیں جبکہ محمد نمیرشمس بطور کوچ ٹیم کے ہمراہ ہوں گے۔ایونٹ میں 18 ممالک کی شرکت متوقع ہے۔حکام نے بتایا کہ ایونٹ کے لئے کھلاڑیوں نے بھرپور تربیت حاصل کی ہے اور ان سے ایونٹ میں عمدہ کارکردگی کی امید ہے۔
ایڈیلیڈ۔ (سپورٹس لنک رپورٹ) آٹھویں بگ بیش لیگ میں سڈنی سکسرز نے ایڈیلیڈ سٹرائیکرز کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر چوتھی کامیابی حاصل کر لی، اس فتح کے ساتھ ہی سڈنی سکسرز نے پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن پوزیشن سنبھال لی، فاتح ٹیم نے 151 رنز کا ہدف 19ویں اوور میں 4 وکٹوں پر پورا کیا، جوئے ڈینلی نے 76 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر ٹیم کو فتح دلائی اور ناٹ آئوٹ رہے، انہیں شاندار بیٹنگ کرنے پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔اتوار کو کھیلے گئے لیگ کے 22ویں میچ میں ایڈیلیڈ سٹرائیکرز نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں پر 150 رنز بنائے، جیک ویتھرلڈ 50 رنز بنا کر نمایاں رہے، جوناتھن ویلز 42 رنز بنا کر ناٹ آئوٹ رہے، سٹیو اوکیفی نے 2 وکٹیں لیں، جواب میں سڈنی سکسرز نے مطلوبہ ہدف 18.2 اوورز میں 4 وکٹوں پر حاصل کیا، جوئے ڈینلی 76 اور فلپ 30 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے، راشد خان نے 2 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔
ڈھاکہ۔ (سپورٹس لنک رپورٹ) بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں کومیلا وکٹورینز نے سلہٹ سکسرز کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی، فاتح ٹیم نے 128 رنز کا ہدف آخری اوور کی پانچویں گیند پر 6 وکٹوں پر پورا کیا، شاہد آفریدی نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 25 گیندوں پر 2 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 39 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر ٹیم کو فتح دلائی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔اتوار کو کھیلے گئے بی پی ایل کے تیسرے میچ میں سلہٹ سکسرز نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں پر 127 رنز بنائے، پوران 41 رنز بنا کر نمایاں رہے، کپتان ڈیوڈ وارنر 14 رنز بنا سکے، مہدی حسن، محمد شاہد اور محمد سیف الدین نے 2، 2 اور شاہد آفریدی نے ایک وکٹ لی، جواب میں کومیلا وکٹورینز نے مطلوبہ ہدف 19.5 اوورز میں 6 وکٹوں پر حاصل کیا، شاہد آفریدی نے مشکل وقت میں عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 39 ناقابل شکست رنز بنا کر ٹیم کو فتح دلائی، کپتان سٹیون سمتھ 16، تمیم اقبال 35 اور شعیب ملک 13 رنز بنا کر آئوٹ ہوئے، العمین حسین اور سندیپ لیمی چن نے دو، دو کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔اسی روز کھیلے گئے ایک اور میچ میں رنگپور رائیڈرز نے کھلنا ٹائٹنز کو 8 رنز سے ہرا دیا، رنگپور رائیڈرز نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 3 وکٹوں پر 169 رنز بنائے، ریلی روسو نے 76 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کی پوزیشن مستحکم کی، روی بوپارا 40 رنز بنا کر ناٹ آئوٹ رہے، علی خان، ظاہر خان اور بریتھویٹ نے ایک، ایک وکٹ لی، جواب میں کھلنا ٹائٹنز کی ٹیم ہدف کے تعاقب میں مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں پر 161 رنز بنا سکی، پال سٹرلنگ کی 61 رنز کی اننگز بھی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی، شفیع الاسلام نے دو وکٹیں لیں۔
کیپ ٹائون (سپورٹس لنک رپورٹ)آئی سی سی نے سلو اوور ریٹ پر جنوبی افریقا کے کپتان فاف ڈوپلیسی کو ایک میچ کے لیے معطل کر کے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔آئی سی سی نے ایک سال میں دوسری مرتبہ ٹیسٹ میچ میں سلو اوور ریٹ پر جنوبی افریقی کپتان فاف ڈوپلیسی کو ایک میچ کے لیے معطل کر دیا۔پاکستان کے خلاف کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں سلو اوور ریٹ پر فاف ڈوپلیسی پر میچ فیس کا 20 فیصد اور دیگر کھلاڑیوں پر 10 فیصد جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔فاف ڈو پلیسی پاکستان کے خلاف جوہانسبرگ میں تیسرا ٹیسٹ میچ نہیں کھیل پائیں گے۔کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو 9 وکٹوں سے شکست دیکر تین میچوں کی سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے۔
کنگسٹن(سپورٹس لنک رپورٹ) ویسٹ انڈین آف اسپنر شین شلنگفورڈ پر غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کے باعث ڈومیسٹک کرکٹ میں باؤلنگ کرانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔کرکٹ ویسٹ انڈیز نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ باؤلنگ ایکشن ٹیسٹ کے دوران شلنگفورڈ کی تمام گیندیں غیر قانونی پائی گئیں جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر ڈومیسٹک کرکٹ میں باؤلنگ کرانے کے لیے معطل کردیا گیا ہے۔گزشتہ ماہ ویسٹ انڈیز ڈومیسٹک چار روزہ ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچ کے دوران امپائرز نے آف اسپنر کے ایکشن کو رپورٹ کیا تھا۔کرکٹ ویسٹ انڈیز حکام کے مطابق ایکشن کی درستگی تک شلنگفورڈ پر ڈومیسٹک کرکٹ میں باؤلنگ کرانے پر پابندی ہو گی جبکہ وہ اسی سبب ایکشن درست کرانے تک ویسٹ انڈین ٹیم کے لیے بھی منتخب نہیں ہو سکیں گے۔واضح رہے کہ یہ تیسرا موقع ہے کہ شلنگفورڈ کے ایکشن کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہو۔2014 کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور اس کے رکن ممالک کی جانب سے غیرقانونی ایکشن کے حامل باؤلرز کے خلاف کارروائی میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کھلاڑیوں کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران پاکستان کے سعید اجمل، محمد حفیظ، ویسٹ انڈیز کے سنیل نارائن اور مارلن سیمیولز سمیت متعدد انٹرنیشنل کرکٹرز کو غیرقانونی ایکشن کے سبب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے معطل کیا جا چکا ہے اور ان تمام کھلاڑیوں نے اپنے ایکشن درست کرنے کے بعد عالمی کرکٹ میں دوبارہ قدم رکھا۔