
کراچی (سپورٹس لنک رپورٹ)ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی کی مشترکہ چیمپئن پاکستان ٹیم وطن پہنچ گئی۔کراچی ()پاکستان کے کپتان رضوان سینئر ٹیم کے ساتھ کراچی نہیں آئے، ٹیم کے تمام کھلاڑی کراچی سے لاہور روانہ ہوگئے۔ایشین چیمپئنز ٹرافی کا فائنل مسقط میں گزشتہ رات بارش کے باعث منسوخ ہوگیا تھا جس کے بعد فائنل میں پہنچنے والی پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کو مشترکہ چیمپئن قرار دیا گیا ہے۔ایونٹ کا فائنل مسقط کے سلطان قابو س اسٹیڈیم میں کھیلا جانا تھا مگر میچ سے قبل میدان کو تیز بارش نے آلیا جس نے رُکنے کا نام نہیں لیا۔

موسم کی خرابی اور بارش کے سبب دونوں ٹیموں نے طویل انتظار کیا جس کے بعد ٹورنامنٹ ڈائریکٹر نے دونوں ٹیموں کے کوچز کی مشاورت کے بعد فائنل کو منسوخ کرکے پاکستان اور بھارت کو مشترکہ طور پر چیمپئن قرار دے دیا۔فیصلے کے مطابق پہلے 6ماہ ٹرافی بھارت کے پاس رہے گی۔پاکستان ہاکی ٹیم کے مینیجر حسن سردار کا کہنا ہے کہ بھارت سے فائنل ہوتا تو پاکستان جیت جاتا، بارش کے باوجود پاکستان ہاکی ٹیم بھارت سے میچ کے لیے تیار تھی، تاہم بھارتی کوچز اور پلیئرز میچ کھیلنے کے لیے راضی نہ ہوئے۔







ن لڑنے کیلئے متعلقہ زون/ڈسٹرکٹ کے کسی بھی فعال کلب کا ممبر ہونا لازمی شرط ہے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے نصرت محبوب نے الیکشن کا اندراج فارم میںاپنا نام نیو یونائیٹڈ جیم خانہ کا بحیثیت ممبرتحریرکیا ۔ نصرت محبوب نیو یونائیٹڈجیم خانہ کے کھلاڑی کی حیثیت سے منسلک ہیں ۔ یہ تمام باتیں پی سی بی کے ڈپٹی الیکشن کمشنر نے میرے تحریر کردہ مراسلے کے جواب میں کہی ۔ جاوید احمد خان نے کہا کہ ہمارے پاس شواہد موجود ہیں کہ نصرت محبوب ابھی تک لاثانی کرکٹ کلب کے صدر ہیں انہوں نے کہا کہ کے سی سی اے کے رجسٹریشن کے مطابق نصرت محبوب بیک وقت دو کلبوں سے وابستہ رہے ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ کے سی سی اے کا کلب رجسٹریشن فارم جسکا دورانیہ دو سال کیلئے مختص ہوتا ہے جویکم جولائی 2016تا 30جون 2018تھا اس رجسٹریشن فارم کیمطابق بھی نصرت محبوب بیک وقت دونوں کلبوںسے وابستہ پائے گئے۔ جاوید احمد خان کے مطابق نصرت محبوب ہنوز نیو یونائیٹڈ جیم خانہ کے ممبر اور لاثانی کرکٹ کلب کے صدر ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص کسی دو کلب سے منسلک رہے۔ یہ پی سی بی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پی سی بی کے جاری کردہ کلب کرکٹ کے مثالی آئن کے آرٹیکل 5(G)کے مطابق وہ ایک سے زائد کلب کا عہدیدار نہیں ہوسکتا۔ جاوید احمد خان کا کہنا تھا کہ پی سی بی بہت جلد فضل محمود انٹر کلب کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کررہا ہے ۔ اس سلسلے میںپی سی بی نے ڈسٹرکٹ/زون2 کے ان 35کلبز کی فہرست طلب کی جو 2013کی اسکروٹنی کے مطابق مرتب کی گئی تھی۔ اس میں 23کلبز فعال اور 12کلبز غیر فعال تھے جنہیں پی سی بی نے کھیلنے کے حقوق دئے ہوئے ہیں۔ ان 35فعال اور غیر فعال کلبوں میں نیو یونائیٹڈ جیم خانہ اور لاثانی کرکٹ کلب دونوںشامل ہیں۔ حقائق یہ ہیں کہ کے سی سی اے زونIIکے صدر نصرت محبوب نے جو فہرست مرتب کی ہے اس میں بھی نصرت محبوب لاثانی کرکٹ کلب کے صدر ہیں جبکہ زون IIکے صدرکا الیکشن انہوں نے نیو یونائیٹڈ جیم خانہ کے پلیٹ فارم سے لڑا ۔جسکی تصدیق خود ڈپٹی الیکشن کمشنر پی سی بی نے کردی ہے۔ واضح رہے کہ پی سی بی نے فضل محمود کرکٹ ٹورنامنٹ کے سلسلے میں ایک فارم جاری کیا تھا جس میںکلب کا نام، کلب کے صدر کا نام، رابطہ نمبر اور پتہ مانگا گیا تھا۔ اس میں نصرت محبوب نے خود کو لاثانی کرکٹ کلب کا صدر تحریر کیا ہے اس کے علاوہ پی سی بی کے ماڈل آئن کیمطابق ہر کلب کا الیکشن اور کلب ہذٰا کی جنرل باڈی کا اجلاس ہونا لازمی ہے۔جاوید خان کا کہنا ہے کہ اگر دونوں کلبوں کا اجلاس طلب کیا جاتا ہے تو نصرت محبوب کس کلب کی جنرل باڈی اجلاس میں شرکت کریں گے اور کس کلب کے الیکشن میں حصہ لیں گے۔یہی وجہ ہے کہ پی سی بی کے آئن میں کسی بھی شخص کو بیک وقت دو کلبوں کا عہدیدار ہونے کا اختیار حاصل نہیں۔ اگر پی سی بی کی جانب سے منعقدہ فضل محمود انٹر کلب ٹورنامنٹ میںنیو یونائیٹڈ جیم خانہ اور لاثانی کرکٹ کلب مدمقابل آجاتی ہیں تونصرت محبوب کی ہمدردیاں کس کلب کے ساتھ ہونگی۔ جاوید احمد خان نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے تحفظات کا اظہار ڈپٹی الیکشن کمشنر ، پی سی بی سے کردیا تھا مگر ہم مزید حقائق کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ان سے رجوع کریں گے۔ اگر مجھے پی سی بی کی جانب سے انصاف نہ ملا تو پھرانصاف کے حصول کیلئے میںاپنا قانونی حق محفوظ رکھتا ہوں۔








