Tag: پاکستان

  • پی ایس ایل 3، کچھ مثبت اور کچھ منفی پہلوؤں پر ایک نظر

    پی ایس ایل 3، کچھ مثبت اور کچھ منفی پہلوؤں پر ایک نظر

    فہد کیہر

    پاکستان سپر لیگ کا شارجہ مرحلہ شروع ہوچکا ہے اور تمام ٹیموں کے 3، 3 مقابلے بھی مکمل ہوئے۔ حیران کن طور پر اس اہم مرحلے پر جو ٹیم سب سے آگے نظر آتی ہے وہ کراچی کنگز کی ہے جس نے اپنے تمام ہی مقابلے جیتے ہیں جبکہ لاہور قلندرز حسبِ روایت، حسبِ توقع یا جو بھی آپ کہہ لیں، آخری نمبر پر ہے۔

    درمیان میں تمام ٹیموں کے درمیان مقابلہ سخت ہے۔ کراچی کے بعد کوئٹہ اور ملتان ہیں جو 4، 4 پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ اس سے نیچے پہلے اور دوسرے سیزن کے چیمپیئنز اسلام آباد اور پشاور ہیں جو اب تک صرف ایک، ایک کامیابی ہی حاصل کر پائے ہیں، اور یہ کارکردگی دونوں کے لیے ہی لمحۂ فکریہ ہے۔

    لیکن، اتنی جلدی کسی بھی ٹیم کو پریشان یا بہت خوش ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ تمام ٹیموں نے 10، 10 میچز کھیلنے ہیں یعنی اب بھی بہت کچھ تبدیل ہوسکتا ہے، یہاں تک کہ لاہور بھی کوالیفائرز میں باآسانی پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ہم آگے اندازوں کے بجائے پاکستان سپر لیگ سیزن 3 کے کچھ ایسے پہلوؤں پر بات کر لیتے ہیں جن پر شاید بہت کم غور کیا گیا ہے۔ ان میں سے چند پہلو تو مثبت ہیں اور کچھ منفی بھی۔ بہتر یہی ہے کہ ہم پہلے کچھ مثبت پہلوؤں پر بات کرلیں۔

    مثبت پہلو

    جاندار کمنٹری

    پی ایس ایل 3 میں تازہ ہوا کا جو پہلا جھونکا محسوس ہوا وہ کمنٹری ہے۔ ایلن ولکنز اور ڈینی موریسن نے تو پچھلے سیزن میں بھی پاکستانی تبصرہ کاروں کے ساتھ مل کر اپنی صلاحیتوں کے خوب جوہر دکھائے تھے لیکن جس نے بھی اس سال مائیکل سلیٹر اور ڈیمین فلیمنگ کو شامل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اس کو ہمارا خصوصی سلام ہے۔ ان دونوں سابق آسٹریلوی کھلاڑیوں نے تو مقابلوں میں جان ڈال دی ہے۔

    اس کی ایک جھلک تو آپ نے خود بھی دیکھی ہوگی جب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف میچ میں کراچی کنگز کے شاہد آفریدی نے باؤنڈری لائن پر ایک خوبصورت کیچ لیا تو مائیکل سلیٹر نے کہا کہ’شاہد آفریدی 37 سال کے ہیں، 38 کے ہونے والے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اصل میں 45 سال کے ہیں لیکن یہ دیکھ کر تو میں کہوں گا کہ ان کی عمر 32 سال ہے۔‘

     

    یہی نہیں آسٹریلوی جوڑی نے اور بھی کئی چٹکلے چھوڑے ہیں اور ڈینی موریسن کی تنہائی کا خاتمہ کردیا ہے۔ یہ آسٹریلیا کے کمنٹیٹرز کی خاص بات ہوتی ہے کہ وہ میچ میں پوری طرح شامل ہوجاتے ہیں۔ بہرحال، سلیٹر اور فلیمنگ کی آمد سے خاتون تبصرہ کار میل جونز کی کمی بھی پوری ہوگئی ہے، جو اس سال پی ایس ایل میں کمنٹری نہیں کر رہیں۔ دوسری جانب ایلن ولکنز تو سدا بہار ہیں، اُن کی گلابی اردو میں ’چھکا‘ کی آواز بہت بھلی لگتی ہے۔ ابھی تو میدان اور گرم ہوگا، اس لیے کمنٹری میں مزید شاہکاروں کے لیے تیار رہیں۔

    شاندار فیلڈنگ اور زوردار مقابلے

    دوسرے مثبت پہلو کا تعلق میدان سے ہے۔ اب تک ہونے والے 9 مقابلوں میں ہم نے کئی ایسے کیچز دیکھے ہیں جو مدتوں یاد رکھے جائیں گے۔ کوئٹہ کے خلاف شاہد آفریدی کے کیچ کے علاوہ لاہور قلندرز کے شاہین آفریدی اور عمر اکمل کا ’ریلے کیچ‘، جو ڈینلی کا ’جونٹی رہوڈز‘ کی یاد دلا دینا اور محمد حفیظ اور احمد شہزاد کے عمدہ فیلڈ کیچز، یہی نہیں بلکہ فری-ہٹ پر کوئٹہ کے خلاف چیڈوِک والٹن کا کیچ بھی کسی سے پیچھے نہیں تھا، یعنی ہر لحاظ سے یہ سیزن فیلڈنگ کے معاملے میں آگے نظر آ رہا ہے۔

    کیچز چھوٹنے کی شرح بھی اب تک بہت ہی کم ہے ورنہ پاکستانی فیلڈرز ہوں تو اتنے میچز میں چھوٹنے والے کیچز کی تعداد درجن بھر ہوجانی چاہیے تھی۔ زیادہ خوشی کی، بلکہ حیران کن، بات یہ ہے کہ نوجوان پاکستانی فیلڈر بھی اپنا بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں جیسا کہ پشاور کے نوعمر ابتسام شیخ نے دو بہت عمدہ کیچز پکڑے اور تجربہ کار کھلاڑی بھی پیش پیش رہے ہیں۔

    خوبصورت کٹس

    تیسرا مثبت پہلو ٹیموں کی کٹس کا ہے۔ ہم لاہور اور کراچی کی کٹ کی ہرگز بات نہیں کریں گے کیونکہ وہ بجائے جدت اختیار کرنے کے مزید پیچھے جارہے ہیں لیکن پشاور، کوئٹہ اور ملتان کی کٹس واقعی لاجواب ہیں۔ پشاور زلمی کی کٹ تو بین الاقوامی سطح کی کسی بھی ٹیم کا مقابلہ کرسکتی ہے، خاص طور پر اس میں جو تفصیلات ہیں، جیسا کہ ٹراؤزر پر پیلی پٹی میں ZALMI لکھا ہونا اور پشت پر بھی برانڈنگ اسے بہت عرق ریزی سے تیار کیا ہوا لباس بناتی ہے۔ ملتان سلطانز کی کٹ میں رنگوں کا انتخاب بہت عمدہ ہے اور ٹیم لوگو کا بھی بہت خوبی سے استعمال کیا گیا ہے۔ کوئٹہ نے سنہرے رنگ کااستعمال کرکے اپنی جامنی رنگ کی کٹ کو چار چاند لگا دیے ہیں۔

    منفی پہلو

    تماشائیوں کی کمی

    اگر پی ایس ایل 3 کے منفی اور مایوس کن پہلوؤں کی بات کریں تو سب سے نمایاں ہے میدان میں تماشائیوں کی کمی۔ ویسے تو نہ اس پر گِلہ کرنا بنتا ہے اور نہ ہی کسی کو مؤرد الزام ٹھہرانا مقصود ہے کیونکہ لیگ پاکستان میں نہیں کھیلی جا رہی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ابتدائی مقابلے دبئی کے 30 ہزار تماشائیوں کی گنجائش والے اسٹیڈیم میں ہوئے جسے بھرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پھر بھی خالی کرسیوں کو دیکھنا آنکھوں پر بہت گراں گزر رہا ہے خاص طور پر جب اتنے اچھے مقابلے کھیلے جا رہے ہوں۔

    تشہیر کی کمی

    ہم جیسے پاکستانی تماشائی تو دیکھ کر آہیں بھرتے رہتے ہیں کہ کاش یہ مقابلے یہاں منعقد ہوں۔ یقین جانیں کہ کسی ایک میچ کے ٹکٹ ملنا بھی مشکل ہوجائیں لیکن جہاں یہ ہو رہے ہیں، وہاں دیکھنے والے بہت کم ہیں۔ یہ پہلو نہ صرف پی ایس ایل کی جلد از جلد اور زیادہ سے زیادہ پاکستان منتقلی کی اہمیت ظاہر کرتا ہے، وہیں پر پی ایس ایل انتظامیہ کی توجہ بھی مبذول کرواتا ہے کہ وہ ٹورنامنٹ کے دوران امارات میں جامع تشہیری مہم پر توجہ دے۔

    اب تک کسی بھی سیزن میں انتظامیہ کی جانب سے دبئی اور شارجہ میں مقابلوں کی تشہیر پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔ شاید اس کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی ہو لیکن جہاں اتنے شاندار میچز ہوں، وہاں ماحول بنانا ضروری ہوتا ہے۔ عالم تو یہ ہے کہ دبئی کی ایک بڑی آبادی کے علم میں ہی نہیں ہوتا کہ اسٹیڈیم میں ایک عالمی معیار کی کرکٹ لیگ کھیلی جا رہی ہے۔ اس لیے اگر اس پہلو پر جلد توجہ نہ دی گئی تو دبئی کی نیلی کرسیاں پی ایس ایل کی برانڈ ساکھ کو بُری طرح متاثر کریں گی۔

    امتحانات کے دوران ایونٹ کا انعقاد

    ایک بہت اہم پہلو، جسے شاید نظر انداز کیا گیا ہے، وہ ہے پی ایس ایل کا ان ایام میں منعقد ہونا جب پاکستان بھر میں اسکولوں کے طلبہ کے سالانہ امتحان شروع ہو رہے ہیں۔ آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ کی کامیابی کی 2 بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ اس کا انعقاد ان دنوں ہوتا ہے جب تعلیمی اداروں میں تعطیلات ہوتی ہیں، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر آپ اہل خانہ کے ساتھ میچ دیکھنا چاہتے ہیں ٹکٹوں میں خاص رعایت ملتی ہے۔

    بگ بیش پاکستان کے لیے بھی ایک متاثر کن لیگ کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے کم از کم اگلے سال پی ایس ایل کو کوشش کرکے فروری کے وسط تک مکمل کرنا چاہیے کیونکہ کرکٹ کے پرستاروں کی بہت بڑی تعداد اسکول طالب علم ہے۔ اگر انہیں پی ایس ایل دیکھنے کا موقع ہی نہ ملا یا وہ امتحانات کی وجہ سے مجبوراً دیکھ نہ پائے تو اس سے لیگ کی ریٹنگ پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور فی الحال پی ایس ایل اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

     

    بشکریہ ڈان

  • فیصل صالح حیات نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کا کنٹرول سنبھال لیا

    فیصل صالح حیات نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کا کنٹرول سنبھال لیا

    لاہور: (سپورٹس لنک رپورٹ) فیصل صالح حیات گروپ نے تین سال بعد پاکستان فٹ بال فیڈریشن کا کنٹرول سنبھال لیا۔ فیفا کی جانب سےعائد پابندی بھی ایک ماہ میں اٹھا لی جائے گی۔

    لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد فیصل صالح حیات گروپ نے فیفا ہاؤس میں کام شروع کردیا ہے۔ نائب صدر سردار نوید حیدر کا کہنا تھا کہ تین سالوں کا نقصان مہینوں میں پورا کرینگے۔ سیکرٹری پی ایف ایف احمد یار لودھی کا کہنا تھا کہ ابھی دفتر کے معاملات سنبھالے ہیں، جیسے ہی اکاؤنٹس فیڈریشن کو مل گئے فیفا کی جانب سے عائد پابندی بھی ختم ہو جائےگی۔

    یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے فٹبال فیڈریشن کے 2015 میں ہونے والے انتخابات کو درست قرار دیتے ہوئے، سید فیصل صالح حیات کو بطور صدرعہدے پر بحال کیا تھا۔ عبوری ذمہ داریاں سنبھالنے والے ایڈمنسٹریٹر کو چارج فوری طور پرفیصل صالح حیات کے سپرد کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ خیال رہے کہ 3 سال پہلے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے معاملات جب خراب ہوئے تو قومی ٹیم کی رینکنگ 167نمبر پر تھی۔

     

  • علیم ڈار بھی پاکستان سپر لیگ تھری میں پہنچ گئے

    علیم ڈار بھی پاکستان سپر لیگ تھری میں پہنچ گئے

    شارجہ (سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ امپائر علیم ڈار بھی پاکستان سپر لیگ تھری کا حصہ بننے شارجہ پہنچ گئے ہیں۔

    لگاتار دو مرتبہ آئی سی سی کے سال کے بہترین امپائر کا ایوارڈ جیتنے والے علیم ڈار آج شارجہ میں ہونے والے پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے میچ میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیں گے۔

    علیم ڈار آئی سی سی کی مصروفیات کی وجہ سے تاخیر سے پاکستان سپر لیگ کا حصہ بن رہے ہیں، وہ بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان ہونے والی سیریز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

    پاکستان سپر لیگ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے علیم ڈار کے پی ایس ایل کا حصہ بننے کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 22 فروری سے شروع ہونے والی پاکستان سپر لیگ کے ابتدائی میچز دبئی میں کھیلے گئےجس کے بعد اب شارجہ کے گراؤنڈ میں میچز کھیلے جا رہے ہیں جبکہ ٹورنامنٹ کے دو سیمی فائنل لاہور اور فائنل کراچی میں کھیلا جائے گا۔

  • سوشل میڈیا پر ننھے وسیم اکرم کے چرچے

    سوشل میڈیا پر ننھے وسیم اکرم کے چرچے

    اسلام آباد (سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستان کرکٹ نے دنیائے کرکٹ کو کئی نامور فاسٹ بولرز فراہم کیے ہیں۔ فضل محمود سے لیکر محمد عامر تک یہ فہرست بہت طویل ہے تاہم اس فہرست میں ایک نام ایسا بھی ہے جن کو نہ صرف پاکستان بلکہ کرکٹ کے عظیم ترین گیند بازوں میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ ہے وسیم اکرم۔

    ان دنوں ایک بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس کا بولنگ ایکشن وسیم اکرم سے بے انتہا ملتا جلتا ہے۔

    ویڈیو میں بچے کو گیند بازی کرتے دیکھا جاسکتا ہے جو بظاہر اپنے گھر کے پچھلے حصے میں موجود ہے۔

    ویڈیو میں دوسرے اینڈ پر ایک اسٹمپ بھی دیکھی جاسکتی ہے جسے یہ بچہ کئی مرتبہ ہٹ کرتا ہے جس سے اس کی مہارت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

    ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ ’یہ بچہ کہاں ہے؟ ہماری قوم کی رگوں میں بہترین قسم کا ٹیلنٹ دوڑ رہا ہے تاہم ایسا کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں جہاں ان بچوں کو شناخت مل سکے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس بارے میں کچھ کریں۔‘

    سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے بچے کی بولنگ کی زبردست انداز میں تعریف کی جو اس کم عمر میں اس مہارت سے بال کو سوئنگ اور اسٹمپس کو ہٹ کررہا ہے کہ کئی بین الاقوامی کرکٹرز بھی ایسا نہ کرپائیں۔

    ویڈیو پر وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے کہا کہ شاید ایک اور وسیم اکرم مل گیا۔وسیم اکرم پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز ملتان سلطانز کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز ہیں۔اس سے قبل وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے مینٹور بھی رہ چکے ہیں۔

  • ہاکی کے متوالوں کیلئے بڑی خبر۔۔۔ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کب کس سے ٹکرائے گی تفصیلات آگئیں

    ہاکی کے متوالوں کیلئے بڑی خبر۔۔۔ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کب کس سے ٹکرائے گی تفصیلات آگئیں

    لاہور( سپورٹس لنک رپورٹ) ایف آئی ایچ نے ہاکی ورلڈ کپ 2018 کے شیڈول کا اعلان کردیا جب کہ پاکستان کا پہلا مقابلہ یکم دسمبر کو جرمنی سے ہوگا۔ایف آئی ایچ نے ہاکی ورلڈ کپ 2018 کے شیڈول کا اعلان کردیا، ایونٹ میں 16 ٹیمیں شرکت کریں گی جنھیں 4 پولز میں تقسیم کیا گیا ہے، پول اے میں ریو اولمپکس 2016 کی چیمپئن اور ورلڈ نمبر 2 ارجنٹائن، نمبر 9 نیوزی لینڈ، نمبر 8 اسپین اور نمبر 18فرانس کی ٹیمیں شامل ہیں۔پول بی میں عالمی نمبر ون آسٹریلیا، نمبر 7 انگلینڈ، نمبر 10آئرلینڈ اور نمبر 17چین، پول سی میں ورلڈ نمبر 3 بیلجیم کے ساتھ نمبر 6 بھارت، نمبر 11 کینیڈا اور نمبر 15جنوبی افریقہ کو رکھا گیا ہے جبکہ پول ڈی میں عالمی نمبر 4 نیدرلینڈ کے ساتھ پانچویں نمبر پر موجود دو مرتبہ کی ورلڈ چیمپئن جرمنی، نمبر 12ملائیشیا اور ایف آئی ایچ رینکنگ میں 13 ویں نمبر پر موجود ریکارڈ 4 عالمی ٹائٹلز کی فاتح پاکستان کی ٹیمیں شریک ہوں گی۔ ورلڈ کپ میں پول مرحلے میں 28 سے 9 نومبر تک ہر روز دو میچز کھیلے جائیں گے۔ایونٹ کے افتتاحی روز پول سی میں شین میکلوڈ کی قیادت میں بیلجیم اور کینیڈا کے مابین ہوگا، دوسرے میچ میں میزبان بھارت کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے شیڈول ہے۔ گرین شرٹس کا پہلا مقابلہ یکم دسمبر کو جرمنی سے ہوگا، 5 دسمبر کو ملائیشیا سے جوڑ پڑے گا جبکہ 9 دسمبر کو قومی ٹیم نیدر لینڈز کے خلاف میدان میں اترے گی۔ 2 دسمبر کو بھارت اور بیلجیم کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی، انگلینڈ اور آسٹریلیا 4 دسمبر کو آمنے سامنے ہوں گی۔ہر پول میں ٹاپ پوزیشن پر آنے والی ٹیمیں کوارٹر فائنل میں یقینی رسائی حاصل کرلیں گی جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ٹیموں کو 10 اور 11 دسمبر کو ایک ایک میچ مزید کھیلنا ہوگا۔کوارٹر فائنلز 12 اور 13 دسمبر کو کھیلے جائیں گے، 14 دسمبر کو آرام کا دن ہوگا جبکہ 15 دسمبر کو سیمی فائنلز شیڈول ہیں، فیصلہ کن معرکہ 16 دسمبر کو ہوگا۔جبکہ اسی روز سیمی فائنلز میں ہارنے والی ٹیموں کے مابین برانز میڈل کیلیے میچ بھی ہوگا۔میگا ایونٹ رواں سال 28 نومبر سے 16 دسمبر تک کالنگا اسٹیڈیم بھونیشور میں ہوگا، میزبان وینیو میں تزئین و آرائش کا کام جاری ہے، ورلڈ کپ میں میزبان بھارت کے علاوہ گزشتہ سال لندن اور جوہانسبرگ میں کھیلے گئے ہاکی ورلڈ لیگ سیمی فائنلز کے ذریعے کوالیفائی کرنے والی اور براعظمی چیمپئنز ٹیمیں شامل ہیں۔

     

  • پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے دیوانے ہو جائیں تیار،آج ہوگا بڑا ٹاکرا

    پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے دیوانے ہو جائیں تیار،آج ہوگا بڑا ٹاکرا

    شارجہ(سپورٹس لنک رپورٹ): پاکستان سپر لیگ کے سنسنی سے بھرپور مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے اور آج ایونٹ کا دسواں میچ کھیلا جائے گا۔

    شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 بجے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے درمیان مقابلہ ہوگا، دونوں ٹیمیں اب تک ایونٹ میں اپنے 3،3 میچز کھیل چکی ہیں۔

    پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کو تمیم اقبال، کامران اکمل، محمد حفیظ اور حارث سہیل جیسے بلے بازوں کا ساتھ حاصل ہے جب کہ پیس بیٹری میں ان کے پاس حسن علی، کرس جورڈن اور وہاب ریاض جیسے بولر موجود ہیں۔

    دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد کے پاس بھی کئی بڑے نام موجود ہیں، کیون پیٹرسن، جیسن رائے، محمد اللہ، شین واٹسن اور اسد شفیق سرفراز الیون کی بیٹنگ کی جان ہیں جب کہ بولنگ کے شعبے میں راحت علی، محمد نواز اور انور علی ہتھیار ہیں۔

    پوائنٹس ٹیبل پر کراچی کنگز تین میچز میں 6 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ لاہور قلندرز اپنے تینوں میچز میں ناکامی کے بعد سب سے آخر میں ہے۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز دوسرے، ملتان سلطانز تیسرے، پشاور زلمی چوتھے اور اسلام آباد یونائیٹڈ پانچویں پوزیشن پر براجمان ہے۔

  • پاکستان ہاکی ٹیم کو نیا غیر ملکی کوچ مل گیا

    پاکستان ہاکی ٹیم کو نیا غیر ملکی کوچ مل گیا

    لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستان ہاکی فیڈیرشن(پی ایچ ایف) نے پاکستانی ہاکی ٹیم کو فتوحات کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے ورلڈ کپ کے فاتح ٹرینر رولینٹ اولٹمینز کو قومی ٹیم کا نیا ہیڈ کوچ مقرر کردیا ہے۔

    63 سالہ اولٹمینز سے پی ایچ ایف کا دو سالہ معاہدہ ہوا ہے اور وہ سات مارچ کو کراچی میں قومی اسکواڈ کو جوائن کر لیں گے۔

    پی ایچ ایف سیکریٹری شہباز احمد نے تصدیق کرتے ہوئے کہ ہمارا اولٹمینز کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے اور ہم نے بیش بہا تجربے کی بنیاد پر ان سے معاہدہ کیا ہے اور وہ ہاکی اکیڈمیز کے اسٹرکچر کے قیام میں بھی ہماری مدد کریں گے۔

    ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور وہ اپنی کے آبائی ملک کی کوچنگ کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی ٹیم کی کوچنگ بھی کر چکے ہیں۔

    وہ اس ہاکی ٹیم کے بھی رکن تھے جس نے 1990 میں لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے مینز ہاکی ورلڈ کپ کے فائنل میں پاکستان کو 3-1 سے شکست دی تھی۔

    اولٹمینز نے 2004 میں بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا اور وہ گزشتہ آٹھ سال میں پاکستانی ٹیم کے پہلے غیر ملکی کوچ ہوں گے جہاں اس سے قبل 2010 میں آخری مرتبہ کسی غیر ملکی کوچ نے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کے نگرانی انجام دیے تھے اور اس وقت بھی ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ کی زیر نگرانی پاکستان نے ایشین گیمز میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

    رواں سال ہاکی کے کھیل کیلئے کافی اہم ہے جہاں 2018 میں کامن ویلتھ گیمز، چیمپیئنز ٹرافی، ایشین گیمز، ایشین چیمپیئنز ٹرافی اور ورلڈ کپ جیسے اہم ایونٹس منعقد ہوں گے۔

  • پاکستان سکواش فیڈریشن ناانصافی کا شکار،جان شیر خان

    پاکستان سکواش فیڈریشن ناانصافی کا شکار،جان شیر خان

    راولپنڈی(سپورٹس لنک رپورٹ)سکواش کے سابق عالمی چیمپئن جان شیر خان نے پاکستان سکواش فیڈریشن کو سکواش کی تباہی سے بچانے کے پیش نظر مزید ٹھوس اقدامات اُٹھانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سکواش کو ترقی کی جانب گامزن کرنے کیلئے سینئر پلیئرز کے ساتھ ساتھ جونیئر پلیزر اکیڈمی پر سخت محنت کرنی ہو گی اور یہ ہی اس کا واحد حل ہے ۔ جان شیر خان نے زور دیا کہ پاکستان سکواش فیڈریشن کو عالمی عدالت میں آواز اُٹھانی چاہئے کیونکہ انڈین لابی کی وجہ سے پاکستان سکواش کے ساتھ جو ناانصافی ہو رہی ہے اسکی مثال کہیں نہیں ملتی۔ پروفیشنل سکواش ایسوسی ایشن میں انڈین لابی پاکستان کو مینز 50 سے 70 ہزارامریکی ڈالرز اورویمن 30ہزار امریکی ڈالرز سے بڑے ٹورنامنٹ دینے پر مجبور کر رہی ہے۔ ان بڑے ٹورنامنٹس کرانے کا فائدہ صرف انٹر نیشنل پلیئرز کو ہی ہے ہمارے پلیئرز کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ ہمارے پلیئرز ان ٹورنامنٹس میں کوئی پوائنٹ نہیں بنا سکتے جسکی وجہ سے انٹر نیشنل پلیئرز پاکستان سے بڑے نقدانعامات لے جاتے ہیں، پی ایس اے میں انڈین لابی اپنے ملک کیلئے انڈین اوپن جیسا ٹورنامنٹ مینز 35 ہزارامریکی ڈالرز لینے میں کامیاب ہو رہی ہے جو سراسر ناانصافی و زیادتی ہے ۔

  • شین واٹسن نے پاکستان سپر لیگ معیارکو بہترین قرار دیدیا

    شین واٹسن نے پاکستان سپر لیگ معیارکو بہترین قرار دیدیا

    شارجہ (سپورٹس لنک رپورٹ)آسٹریلین کرکٹر شین واٹسن کا کہنا ہے کہ اس سال ٹیم تبدیل ہوئی ہے لیکن ایکسائٹمنٹ کم نہیں ہوئی، پی ایس ایل کا معیار بہترین ہے، کھیلنے میں مزہ آرہا ہے۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے آل راؤنڈر آسٹریلین پلئیر شین واٹسن نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں کہا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ میں کوچ ڈین جونز کے ساتھ کام کرکے مزہ آیا لیکن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ بھی خوب انجوائے کررہا ہوں۔

    شین واٹسن کا کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ کسی بھی طرح غیر ملکی لیگ سے کم نہیں ہے، پاکستان کے پاس بہترین کھلاڑی ہیں جو کہ مستقبل میں فائدہ مند ہوسکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل دنیا بھر میں کھیلی جانے والی لیگز کی طرح ہے جس میں نامور کھلاڑی شامل ہیں جن کے خلاف اور ان کے ساتھ کھیل کر پاکستان کے نوجوان ٹیلنٹ کو مزید نکھرنے کا موقع ملے گا۔

    شین واٹسن نے کہا کہ ایونٹ میں شامل کوئی ٹیم کمزور نہیں اور خاص بات یہ ہے کہ فاسٹ اور اسپن بولنگ کے ساتھ اچھی بیٹنگ کا امتزاج بھی اس ایونٹ کا حسن ہے اور یہ خوش آئند ہے کہ پاکستان سے فاسٹ بولر، کوالٹی اسپنرز اور زبردست بیٹسمین اس میں شامل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں زبردست کھلاڑی ہیں اور کوشش ہے کہ کوئٹہ اس بار پی ایس ایل کا ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔

    آسٹریلوی کرکٹر کا کہنا تھا کہ پاکستانی فینز کیلئے ہوم گراونڈ سے دور رہنا کافی مشکل ہے اور پاکستان میں آہستہ آہستہ عالمی کرکٹ واپس آرہی ہے۔

    پاکستان میں کھیلنے کے حوالے سے شین واٹسن کا کہنا تھا کہ ابھی پاکستان آنے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا، میرا فیصلہ اکیلے کا نہیں ہوگا بلکہ اس میں پوری فیملی کی رائے شامل ہوگی۔

  • ڈیرین سیمی نے ثناءبچہ کیساتھ ایسی تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی کہ ہنگامہ برپا ہو گیا

    ڈیرین سیمی نے ثناءبچہ کیساتھ ایسی تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی کہ ہنگامہ برپا ہو گیا

    اسلام آباد (سپورٹس لنک رپورٹ)پاکستان سپر لیگ کی ٹیم پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی پاکستان میں نہ صرف ہر دلعزیز شخصیت ہیں بلکہ پاکستانی انہیں پاکستان کا محسن بھی تصور کرتے ہیں کیونکہ پی ایس ایل کے سیکنڈ ایڈیشن کے دوران جب غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان آکر فائنل کھیلنے سے انکار کر دیا تھا تو یہ ڈیرن سیمی ہی تھے جنہوں نے نہ صرف غیر ملکی کھلاڑیوں کوپاکستان آنے کیلئے منایا بلکہ وہ خود بھی پوری آب و تاب کے ساتھ پاکستان آئے اور سیکنڈ ایڈیشن کے فائنل میں پشاور زلمی کو جتوا کر پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں امر ہو گئے۔ پشاور زلمی نے اپنی گڈ ول برینڈ ایمبیسڈر کے طور پر جیو نیوز کی سابقہ معروف خاتون اینکر ثنا بچہ کو مقرر کیا ہوا ہے ، ثنا بچہ شوبز سے وابستہ ہو چکی ہیں اور اب خبر یہ ہے کہ ڈیرن سیمی اور ثنا بچہ کے درمیان ملاقات کی ایک تصویر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ثنا بچہ نہایت بولڈ لباس میں ڈیرن سیمی کے ساتھ تقریباََ چپکی ہوئی کھڑی ہیں جسے دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین شدید برہم ہو گئے ہیں اور انہوں نے ثنا بچہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تصویر پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ سوشل میڈیا صارف فہد قریشی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں ڈیرن سیمی اور ثنا بچہ کی تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خاتون بھول گئی ہے کہ یہ مسلمان ہے۔ دیکھو یہ کیسے ایک غیر مسلم کیساتھ کھڑی ہے، تمہیں شرم آنی چاہئے ثناءبچہ“۔ ندا امتنان کا کہنا تھا کہ ”یہ حالات رہے تو انشاءاللہ بہت جلد عذاب ہمارا منتظر ہو گا“۔ فیضان احمد عباسی نے لکھا ”معاف کرنا پاکستان۔۔۔!! میں یہ تصویر دیکھ کر بہت شرمسار ہوں۔۔۔ یہ ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان۔۔۔ معاف کرنا میرے پاس کوئی الفاظ نہیں ہیں۔محمد جنید نے لکھا ”ثناءبچہ درمیانمیں فاصلہ رکھو کیونکہ تم ایک پاکستانی اور مسلمان ہو، اپنی ثقافت مت بھولو“۔ 

error: Content is protected !!