اتھلیٹکس

امریکا میں پاکستانی نژاد نوجوان ایتھلیٹ حمزہ کی شاندار کامیابی

، اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیت لیا

امریکا میں پاکستانی نژاد نوجوان ایتھلیٹ حمزہ کی شاندار کامیابی،

اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیت لیا

نیوجرسی: امریکا میں ہونے والی یو ایس اے ٹی ایف نیشنل جونیئر اولمپکس ٹریک اینڈ فیلڈ چیمپئن شپ میں پاکستانی نژاد 13 سالہ نوجوان ایتھلیٹ حمزہ نے ایک اور شاندار کامیابی اپنے نام کرتے ہوئے 3000 میٹر کی دوڑ میں تیسری پوزیشن حاصل کر کے کانسی کا تمغہ جیت لیا،

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا 13واں ’’آل امریکن‘‘ ٹائٹل بھی حاصل کر لیا جو امریکا کے اعلیٰ سطح کے یوتھ ایتھلیٹس کے لیے ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

یہ چیمپئن شپ امریکا میں بچوں کے لیے سب سے اعلیٰ اور سخت مقابلے والا ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹ تصور کی جاتی ہے، جہاں 13 سے 14 سال کے عمر کے زمرے میں ملک بھر سے بہترین ایتھلیٹس شرکت کرتے ہیں۔

حمزہ نے 3000 میٹر کے علاوہ 1500 میٹر کی دوڑ میں بھی حصہ لیا، جہاں وہ 11ویں نمبر پر رہے، جو اگرچہ تمغے کی حد سے باہر تھا، لیکن سخت مقابلے کے ماحول میں ایک قابل فخر کارکردگی تھی۔

حمزہ کی کامیابی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے زمرے کے دیگر ایتھلیٹس سے ایک سال کم عمر ہیں اور اس سال اپنی عمر سے بڑے گروپ میں ہائی اسکول میں داخل ہو رہے ہیں، اس کے باوجود وہ نہ صرف بڑی عمر کے کھلاڑیوں سے مقابلہ کرتے ہیں بلکہ اکثر ان پر سبقت لے جاتے ہیں۔

حمزہ امریکا کے معروف گارڈن اسٹیٹ ٹریک کلب کی نمائندگی کرتے ہیں جو ملک کے ممتاز یوتھ رننگ پروگرامز میں شامل ہے۔ قومی سطح پر وہ فاصلے کی دوڑ میں اپنے عمر کے گروپ میں امریکہ کے ٹاپ 10 ایتھلیٹس میں شمار کیے جاتے ہیں۔

ان کے حالیہ ریس کے اوقات بھی ان کی محنت، فٹنس اور تکنیکی مہارت کو ظاہر کرتے ہیں،3000 میٹر: 9 منٹ 33 سیکنڈ،1500 میٹر: 4 منٹ 21 سیکنڈ،ایک میل: 4 منٹ 40 سیکنڈ دوڑ سکتے ہیں۔

صرف کھیل ہی نہیں، حمزہ تعلیم میں بھی اپنے ہم عمر طلبہ پر سبقت رکھتے ہیں، وہ ہمہ وقت آنر رول کے طالب علم رہے ہیں اور اپنا سخت ٹریننگ شیڈول تعلیمی میدان کی کامیابیوں کے ساتھ بخوبی ہم آہنگ رکھتے ہیں۔

گارڈن اسٹیٹ ٹریک کلب کے کوچ نے حمزہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ حمزہ ان نایاب بچوں میں سے ایک ہے جو محنت، یکسوئی اور انکساری کے ساتھ ہر کام کو انجام دیتا ہے۔ وہ ایک دن بہت آگے جائے گا۔

حمزہ کی کامیابیوں کے پیچھے ان کے والد منصور صلاح الدین کا کردار بھی نہایت اہم ہے، جو خود بھی ایک ایتھلیٹ رہ چکے ہیں اور اپنے بیٹے کی تربیت میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!