
نیا عہد، نئی سمت: پاکستان کھیلوں کی ہم آہنگی کی جانب
تحریر: کھیل دوست، شاہدالحق
پاکستان کے کھیلوں میں برسوں سے یہ شکایت بار بار سنائی دیتی تھی کہ پالیسیاں تو بنتی ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یہ گلہ کھلاڑیوں کا بھی تھا اور کوچز کا بھی، اور ناظرین کی آنکھوں میں بھی یہ سوال جھلملاتا رہا کہ آخر ہماری صلاحیتیں ضائع کیوں ہو جاتی ہیں۔
مگر اس برس منظرنامہ کچھ بدلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے جو نئی پالیسی متعارف کرائی ہے، اس نے ایک نئی امید کو جنم دیا ہے۔ اب فنڈز محض دوستی یا سفارشی خط کے بل بوتے پر نہیں ملیں گے
بلکہ کارکردگی اور شفاف منصوبہ بندی سے مشروط ہوں گے۔ یہ فیصلہ ایک نئے عہد کی طرف قدم ہے، جہاں کھلاڑیوں کی محنت اور کوچز کی قربانیاں ہی اصل بنیاد سمجھی جائیں گی۔
اسی تناظر میں ایک اور اہم اقدام یہ سامنے آیا کہ فیڈریشنز کو اپنی مدتِ قیادت اور عمر کی حد 70 سال کے اندر رہ کر ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔ برسوں سے یہ سوال اٹھتا رہا تھا کہ قیادت کب اور کیسے بدلے گی،
اور میرٹ کا راستہ کب کھلے گا۔ اب یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ غیر معینہ عرصے تک کسی ایک فرد کے ہاتھ میں کھیلوں کی تقدیر نہیں رہ سکتی۔ اس فیصلے سے نوجوانوں کے لیے راہیں کھلیں گی اور نئے خیالات کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔
جونیئر سطح پر عمر کی جعلسازی ایک ناسور کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ یہ ایک ایسا زخم تھا جو اصل ٹیلنٹ کو دبائے رکھتا تھا اور ناتجربہ کار مگر بڑے کاغذوں پر کم عمر کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچاتا رہا۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اسے براہِ راست ضابطے کی خلاف ورزی قرار دے کر سخت کارروائی کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف کھیلوں کی فضا کو شفاف بنائے گا بلکہ اصل محنتی بچوں اور نوجوانوں کو سامنے لے آئے گا۔
اسی دوران ایک اور خوش آئند خبر یہ ہے کہ قومی کھیلوں کے ساتھ ساتھ اب ستمبر میں نیشنل یوتھ گیمز کا انعقاد بھی زیرِ عمل ہے۔ یہ محض ایک ایونٹ نہیں بلکہ ایک نئے خواب کی تکمیل ہے۔
یہ وہ پلیٹ فارم ہوگا جہاں اسکول اور کالج کے بچے اپنی صلاحیتیں دکھا سکیں گے اور قومی سطح تک پہنچنے کا دروازہ ان کے لیے کھل جائے گا۔ اس سلسلے میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کی باہمی ہم آہنگی نہایت اہم ہے۔
گزشتہ برسوں کے اختلافات کے باوجود اب دونوں اداروں کی کوشش ہے کہ مسائل عدالتوں اور بیانات میں نہیں بلکہ میز پر بیٹھ کر حل ہوں۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جو کھیلوں کی دنیا میں سکون اور اعتماد پیدا کر سکتی ہے۔
یہ تمام اقدامات خوش آئیند اور حوصلہ افزا ھیں بلکہ ایک طویل سفر کا آغاز ہیں۔ اگر اس سفر میں تسلسل قائم رہا، اگر شفافیت اور کارکردگی ہی معیار بنے رہے، تو یہ وقت زیادہ دور نہیں جب پاکستان کے کھلاڑی عالمی سطح پر دوبارہ اپنی پہچان منوا سکیں گے۔
قوم کی آنکھوں میں جو خواب ہیں، وہ خواب اسی وقت حقیقت میں ڈھلیں گے جب ادارے ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے بجائے سہارا دینے لگیں۔ آج کے فیصلے اگر کل کی روشنی میں ڈھل گئے تو یقیناً آنے والی نسلیں کھیلوں کو ایک نئی شان کے ساتھ دیکھیں گی۔
شاھدالحق مسلسل کئی سالوں سے کھیلوں کی ترقی اور جدید خیالات سے کھیلوں کی طاقت اور امن کے علمبردار ھیں، کھیلوں کے سینیئر صحافی ھیں اور کئی قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ رہ چکے ھیں۔
رابطہ: 03335161425 ; ای میل: spofit@gmail.com ; www.YouTube.com/SPOFIT



