
نیشنل گیمز کے ہیروز یا انتظامی بدنظمی کے شکار؟ پشاور تقریب کی اندرونی کہانی
مسرت اللہ جان
پشاور میں نیشنل گیمز 2026 کے میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کے اعزاز میں ہونے والی تقریب بظاہر ایک اعزاز تھی، مگر اندر کی کہانی کچھ اور ہی تصویر پیش کرتی ہے۔
یہ تقریب صرف انعامات کی تقسیم نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے سپورٹس سسٹم کی کمزوریوں، غیر سنجیدگی اور انتظامی بدنظمی کی ایک کھلی مثال بن کر سامنے آئی۔
تقریب سے ایک روز قبل تک مکمل ابہام برقرار رہا۔ پہلے اطلاع دی گئی کہ پروگرام وزیر ہاؤس میں ہوگا۔ پھر کہا گیا کہ ارینا ہال پشاور سپورٹس کمپلیکس میں دوپہر دو بجے تقریب ہوگی۔
اگلے ہی لمحے اطلاع آئی کہ وزیراعلیٰ لاہور میں ہیں اور وہی تقریب کی صدارت کریں گے۔ پھر اچانک بتایا گیا کہ پروگرام دوبارہ سپورٹس کمپلیکس میں ہوگا اور وزیر ہاؤس کا پلان ختم کردیا گیا۔
یہ کوئی معمولی ایونٹ نہیں تھا۔ یہ وہ تقریب تھی جس میں قومی سطح پر میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں کو کروڑوں روپے دینے تھے۔ اس سطح کے ایونٹ میں اس قسم کی کنفیوژن بنیادی منصوبہ بندی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔
اصل صورتحال اس وقت سامنے آئی جب کھلاڑی مقررہ وقت یعنی دو بجے پہنچے، لیکن وہاں انتظامات ابھی تک جاری تھے۔ صوفے اٹھا کر لائے جا رہے تھے، اسٹیج تیار ہو رہا تھا،
اور چائے کے انتظامات آخری وقت میں کیے جا رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی ایک “پروقار تقریب” تھی یا ایک جلد بازی میں کیا گیا بندوبست؟
ایک اور اہم پہلو وزیراعلیٰ کی عدم موجودگی تھا۔ پہلے کہا گیا کہ وہ تقریب میں شریک ہوں گے، پھر بتایا گیا کہ وہ بیمار ہیں۔ لیکن اسی دن ان کی دیگر اجلاسوں میں شرکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اگر وہ دیگر مصروفیات کے لیے دستیاب تھے تو پھر کھلاڑیوں کے لیے نہیں کیوں؟
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا کھلاڑی اس نظام میں ترجیح ہی نہیں رکھتے؟
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کی جگہ مشیر کھیل کو بھیجا گیا۔ یہ ایک علامتی فیصلہ نہیں بلکہ ترجیحات کا اظہار ہے۔ جب آپ قومی سطح کے میڈل ونرز کو انعام دے رہے ہوں، تو نمائندگی کی سطح بھی اسی معیار کی ہونی چاہیے۔
تقریب کے دوران ایک اور تضاد سامنے آیا۔ مشیر کھیل نے نیشنل جونیئر چیمپئن شپ کرانے کا اعلان کیا، لیکن وہ یہ واضح نہ کرسکے کہ یہ کس کھیل کے لیے ہوگی۔ یہ محض ایک اعلان تھا یا واقعی کوئی منصوبہ؟ کیونکہ بغیر وضاحت کے ایسے اعلانات صرف رسمی لگتے ہیں، عملی نہیں۔
انتظامی بے ترتیبی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ تقریب میں انڈر 21 گیمز کی ٹرافی ریجنل سپورٹس افسر کو دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ جب تقریب نیشنل گیمز کے میڈل ونرز کے لیے تھی، تو انڈر 21 کا ایوارڈ اس میں کیوں شامل کیا گیا؟ کیا دونوں ایونٹس کو ملا دیا گیا تھا یا یہ صرف ایک نمائشی فیصلہ تھا؟
مزید متنازعہ پہلو یہ ہے کہ بعض ایسے افراد کو بھی انعامات دیے گئے جن کا تعلق اصل ایونٹ سے واضح نہیں تھا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق ایسے کیسز بھی موجود ہیں جہاں غیر متعلقہ یا متنازعہ شرکت کرنے والوں کو بھی فائدہ پہنچایا گیا۔ اگر یہ درست ہے تو پھر انعامات کی شفافیت پر سوال اٹھتا ہے۔
ریجنل سپورٹس افسر کو ایوارڈ دینا بھی ایک متنازعہ فیصلہ تھا۔ اگر یہ کارکردگی کی بنیاد پر تھا، تو اس کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی؟ اور اگر یہ انڈر 21 ایونٹ سے جڑا ہوا تھا، تو پھر اس ایونٹ میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟
مثال کے طور پر ایک ڈیلی ویجز کوچ کے رشتہ دار کی شرکت، اور ایک خاتون کھلاڑی کا بغیر واضح میرٹ کے کھیل تبدیل کرنا، ایسے معاملات ہیں جن پر نوٹس لیے گئے تھے۔ لیکن ان تحقیقات کا نتیجہ کیا نکلا؟ اس پر مکمل خاموشی ہے۔
یہ خاموشی خود ایک سوال ہے
تقریب میں ایک اور اہم مسئلہ کوچز کے حوالے سے سامنے آیا۔ چارسدہ میں چار کوچز کو فارغ کیے جانے کے معاملے پر جب سوال اٹھایا گیا تو مشیر کھیل نے براہ راست جواب دینے کے بجائے مبہم بات کی کہ “ہم صحیح لوگ لائیں گے”۔
اس جملے کا مطلب واضح ہے:
13 سال تک کام کرنے والے کوچز کو “غلط” قرار دے دیا گیا، بغیر کسی شفاف معیار کے۔
یہ وہی کوچز ہیں جو نچلی سطح پر کھلاڑی تیار کرتے ہیں۔ اگر آپ انہیں غیر یقینی صورتحال میں رکھیں گے، تو سسٹم کیسے چلے گا؟
یہاں اصل مسئلہ صرف ایک تقریب نہیں، بلکہ ایک پورا نظام ہے جو بظاہر چل رہا ہے، مگر اندر سے کمزور ہے۔
ایک طرف کھلاڑیوں کو 3 لاکھ کی جگہ 6 لاکھ دینا ایک مثبت قدم ہے۔ دوسری طرف یہی کھلاڑی گھنٹوں بغیر انتظامات کے بیٹھے رہتے ہیں۔ ایک طرف جاز کیش کے ذریعے شفاف ادائیگی کی بات ہوتی ہے، دوسری طرف ایونٹ مینجمنٹ بنیادی سطح پر ناکام نظر آتی ہے۔
یہ تضاد ہی اصل کہانی ہے۔
اگر حکومت واقعی کھیلوں کے فروغ میں سنجیدہ ہے تو اسے چند بنیادی سوالوں کے جواب دینے ہوں گے:
کیا ایونٹس کی منصوبہ بندی پیشگی کی جاتی ہے یا آخری وقت میں؟
کیا کھلاڑی واقعی ترجیح ہیں یا صرف تقریبات کا حصہ؟
کیا انعامات کی تقسیم مکمل طور پر شفاف ہے؟
اور سب سے اہم، کیا فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں یا تعلقات پر؟
جب تک ان سوالوں کے واضح جواب نہیں ملتے، ایسی تقریبات محض نمائشی رہیں گی۔
کھلاڑیوں کو عزت صرف اسٹیج پر نہیں، پورے نظام میں ملنی چاہیے۔



