
پاکستان ٹین پن بولنگ کا کٹھن سفر اور کامیابیاں۔۔۔
تحریر: کھیل دوست، شاہد الحق
پاکستان میں ٹین پن بولنگ کا باقاعدہ آغاز انیس سو ننانوے میں پاکستان ٹین پن بولنگ فیڈریشن کے قیام سے ہوا۔
یہ ادارہ ایشین بولنگ فیڈریشن اور ورلڈ بولنگ سے منسلک ہے اور پاکستان اسپورٹس بورڈ سے بھی تسلیم شدہ ہے۔قیام کے بعد سے فیڈریشن نے نیشنل چیمپئن شپس کا سلسلہ شروع کیا جو اب اپنی سترہویں ایڈیشن تک پہنچ چکی ہیں۔
اس سفر میں کئی نمایاں کھلاڑی سامنے آئے۔ مردوں میں سب سے نمایاں نام اعجاز الرحمن کا ہے جنہوں نے قومی سطح پر سب سے زیادہ ٹائٹلز جیت کر تاریخ رقم کی اور پہلی بار تین مرتبہ نیشنل سنگلز چیمپئن بنے۔
وہ 2009 میں ملائیشیا میں ہونے والے عالمی کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ٹاپ اسکوررز میں شامل رہے۔ ان کی قیادت اور انتظامی صلاحیتوں نے فیڈریشن کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے ساتھ ساتھ غزنفر بلال، دانش شاہ، علی سوریا، سکندر حیات اور انص عرف جیسے باصلاحیت کھلاڑی بھی قومی مقابلوں میں مستقل نظر آئے ہیں۔
خواتین میں آمنہ سلیدرا نے اپنی شاندار کارکردگی سے کئی ٹائٹلز اپنے نام کیے جبکہ عائشہ سلیدرا اور ایرم جہان بھی مسلسل قومی سطح پر میڈل جیتتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ امینہ روش، نور، شائستہ اور دیگر خواتین کھلاڑی بھی پاکستان اوپن اور قومی مقابلوں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔
یہ سب کامیابیاں اس حقیقت کے باوجود حاصل کی گئیں کہ فیڈریشن کو ہمیشہ سے شدید مسائل کا سامنا رہا۔ بنیادی فنڈز کی کمی، حکومت اور اسپورٹس بورڈ کی غیر یقینی سپورٹ، اور سب سے بڑھ کر کسی قومی بولنگ سینٹر کی عدم موجودگی وہ رکاوٹیں ہیں
جن کی وجہ سے پاکستان کے کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح نہیں دکھا سکے۔ کئی بار فنڈز کی قلت کے باعث ٹیمیں ایشیائی یا عالمی ایونٹس میں شرکت سے بھی محروم رہیں۔
اس کے باوجود، پاکستان میں ٹین پن بولنگ کی ترقی ایک روشن پہلو ہے۔ قومی چیمپئن شپس، پاکستان اوپن اور آزادی کپ جیسے ٹورنامنٹس نے کھیل کو زندہ رکھا اور نوجوانوں کو اس کھیل سے جوڑے رکھا۔ حالیہ برسوں میں غزنفر بلال اور دیگر نئے نام سامنے آئے ہیں جو مستقبل کے لیے امید دلاتے ہیں۔
اعجاز الرحمن کا کردار اس سفر میں خصوصی طور پر قابل ذکر ہے۔ وہ نہ صرف کھلاڑی کے طور پر کئی اعزازات جیت چکے ہیں بلکہ انتظامی سطح پر بھی فیڈریشن کے سکریٹری جنرل اور صدر کی حیثیت سے کھیل کو آگے بڑھانے میں سرگرم رہے۔
ٹین پن بولنگ کے لیے یہ سفر آسان نہیں رہا مگر مسلسل محنت، محدود وسائل میں لگن، اور کھلاڑیوں کا جذبہ بتاتا ہے کہ اگر ریاستی سرپرستی اور سہولتیں فراہم کی جائیں تو یہ کھیل پاکستان کے لیے بڑے اعزازات لا سکتا ہے۔
شاہد الحق ; اسپورٹس رائٹر، اسپورٹس فلانتھراپسٹ، سابق نیشنل باسکٹ بال پلیئر، فٹنس کوچ، رابطہ کریں
📧 spofit@gmail.com | 📞 03335161425 | www.youtube.com/SPOFIT



