
یوتھ گیمز: آغاز سے پہلے ہی بدنظمی کا شکار
تحریر: کھیل دوست، شاھدالحق
پاکستان کے نوجوانوں کے کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے یوتھ گیمز ایک امید کی کرن تھے، مگر افسوس یہ ہے کہ ابھی مقابلے شروع ہونے سے پہلے ہی بدنظمی اور بدانتظامی نے اس ایونٹ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ میں بے وقت تبادلے اور غیر موزوں تعیناتیاں پورے نظام کو ہلا کر رکھ چکی ہیں۔ دوسرے محکموں سے لائے گئے ڈیپوٹیشن افسران جو کھیلوں کی دنیا سے نابلد ہیں، انہوں نے نہ صرف تجربہ کار افراد کو کنارے لگا دیا بلکہ پورا سسٹم بکھیر دیا ہے۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ میں نئے لوگوں کو لایا جائے لیکن یہ تعیناتیاں محض دوسرے محکموں سے تعلق رکھنے والے دوستوں اور رشتہ داروں پر نہ ہوں بلکہ کھیلوں کے حقیقی ماہرین اور تجربہ کار افراد کو آگے لایا جائے۔
اگر یہی روش برقرار رہی اور کھیلوں سے آگاہی رکھنے والے ماہرین کو کھڈے لائن لگایا جاتا رہا تو خدشہ ہے کہ یوتھ گیمز ہی نہیں بلکہ سیف گیمز بھی بر وقت ممکن نہیں ہوں گی۔
مزید یہ کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے اپنے عملے میں ایسے نوجوان موجود ہیں جنہوں نے کھیلوں میں ماسٹرز اور ایم فل کیا ہوا ہے، لیکن انہیں ان کی صلاحیتوں کے مطابق کوئی عملی موقع فراہم نہیں کیا جا رہا۔
اگر ان نوجوان اہلکاروں کو کاغذی کارروائی کے بجائے مختلف مسائل پر ریسرچ، بہتری اور کھیلوں کی ترقی کے ٹاسک دیے جائیں تو کھیلوں میں انتظامی جدت لائی جا سکتی ہے۔ نوجوان بہتر طور پر جدید تقاضوں سے آگاہ ہیں اور ان کی توانائی اور بصیرت کو بروئے کار لا کر مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
ستمبر میں ہونے والے یوتھ گیمز ابھی تک فنڈز کی کمی کے باعث کھٹائی میں پڑے ہیں۔ صوبے بھی اپنے کھلاڑیوں کی تیاری اور اخراجات کے حوالے سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
کھلاڑیوں کی سلیکشن اور تربیتی کیمپس کی مدت بڑھنے سے مزید مالی بوجھ میں اضافہ ہوگا، جس نے صوبائی سطح پر تیاری کو اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔
یہ تمام تر بدانتظامی اور غفلت براہِ راست پاکستان اسپورٹس بورڈ اور وزارتِ کھیل پر عائد ہوتی ہے، جو نوجوانوں کے اس اہم ایونٹ کو بر وقت اور مؤثر انداز میں کروانے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ ایونٹ، جس سے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کے مستقبل کی بنیاد رکھی جانی تھی، وہ محض ایک کاغذی کاروائی بن کر رہ جائے گا۔
لیکن ابھی بھی وقت ہے۔ اگر فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے اسپورٹس بورڈ کو مستقل اور تجربہ کار افسران کی تعیناتی یقینی بنانا ہوگی
تاکہ فیصلے تسلسل کے ساتھ کیے جا سکیں۔ دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ یوتھ گیمز کے لیے مخصوص فنڈز مختص کیے جائیں اور شفاف طریقے سے صوبوں میں تقسیم کیے جائیں تاکہ ہر صوبہ اپنی تیاری پر پوری توجہ دے سکے۔ ساتھ ہی کھلاڑیوں کے تربیتی کیمپس کے اخراجات میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری پالیسی اپنانا بھی ناگزیر ہے۔
اگر حکومت اور اسپورٹس بورڈ بروقت فیصلے کر لیں تو یہ ایونٹ اب بھی نوجوانوں کے لیے ایک روشن مستقبل کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ یوتھ گیمز نہ صرف کھیلوں میں نئی توانائی بھر سکتے ہیں بلکہ قومی سطح پر نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہیں۔
شاھدالحق ; اسپورٹس رائٹر، فٹنس کوچ، اسپورٹس فلانتھراپسٹ CEO/Host SPOFIT YouTube Channel
📧 spofit@gmail.com | 📱 03335161425 YouTube: www.youtube.com/SPOFIT



