کرکٹ

کھیل، اصول اور کرکٹ کی سیاست ; تحریر: کھیل دوست، شاہد الحق

کھیل، اصول اور کرکٹ کی سیاست ; تحریر: کھیل دوست، شاہد الحق

کھیل کا تقدس پامال ;

انڈیا کے خلاف شکست پر تبصرے تو بہت ہو چکے، لیکن اصل سوال بھارتی ٹیم کے اس رویے پر ہے جس نے کھیلوں کے بنیادی اصول ہی روند ڈالے۔ جیت کے بعد روایتی "ہینڈ شیک” نہ کرنا محض ایک ضد نہیں بلکہ کھیل کی اصل روح پر کاری ضرب تھی۔ یہ رویہ اسپورٹس مین اسپرٹ کی کھلی نفی ہے۔

کھیلوں میں ہینڈ شیک کی تاریخ اور اہمیت ; 

ہینڈ شیک کا رواج صدیوں پرانا ہے۔ قدیم یونان اور روم میں یہ عمل اس بات کی علامت تھا کہ ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہیں، یعنی سامنے والے کے لیے امن اور اعتماد کا پیغام۔ جدید کھیلوں میں یہ روایت اسپورٹس مین اسپرٹ، باہمی احترام اور اتحاد کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

اولمپک چارٹر میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ کھیلوں کا مقصد صرف مقابلہ نہیں بلکہ قوموں کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہر کھیل کے بعد کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں تاکہ یہ پیغام دنیا تک پہنچے کہ کھیل میں جیت اور ہار اپنی جگہ، لیکن احترام اور بھائی چارہ مقدم ہے۔ بھارت نے اسی بنیادی روایت کو توڑ کر کھیل کی تاریخ میں ایک سیاہ باب رقم کر دیا۔

دبئی ایشیا کپ 2025 — نو ہینڈ شیک تنازعہ ; 

14 ستمبر 2025 کو دبئی میں کھیلے گئے ایشیا کپ کے میچ کے بعد یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بھارتی کپتان سوریہ کمار یادیو نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کی ٹیم نے پاکستان کے کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملانے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر اور پالیسی کے تحت کیا۔

یہ فیصلہ صرف کھیل کے خلاف نہیں بلکہ کھیل کو سیاست کا ہتھیار بنانے کی کھلی مثال ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ قدم بھارتی حکومت کی پالیسی کے تحت اٹھایا گیا، اور یادیو نے اس جیت کو پاکستان کے خلاف "پرفیکٹ جواب” قرار دیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی کپتان نے اس اقدام کو مئی میں ہونے والے چار روزہ سرحدی تنازعے کا تسلسل قرار دیا، جس نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا تھا۔

گویا کھیل کو سفارتی اور جنگی ماحول کی عکاسی کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کھیل کو امن اور بھائی چارے کے بجائے سیاسی انتقام کا ذریعہ بنا دیا گیا۔

بھارتی کرکٹ کا منفی رویہ صرف میدان تک محدود نہیں رہا۔ حد تو یہ ہے کہ بھارتی کرکٹ کا آفیشل ٹویٹر/ایکس اکاؤنٹ بھی پلیٹ فارم کے قوانین کی خلاف ورزی پر منقطع کر دیا گیا۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ بھارت اپنی کرکٹ کو کھیل کے بجائے سیاسی نفرت اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایشین کرکٹ کونسل کا سربراہ، جو بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا بھی سربراہ ہے، اس پروگرام پر آمادہ کیسے ہو گیا؟

کیا ایشیئن کرکٹ کونسل اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اس معاملے پر خاموش رہے گی؟ کیا ہمارا کرکٹ بورڈ اس پر آئی سی سی سے احتجاج کرواۓ گا؟ کیا کھیلوں کے ادارے کھیل کے وقار کے بجائے سیاسی مفاد کے سامنے جھک جائیں گے؟

بھارت کو بے نقاب کرنا ضروری کیونکہ کھیلوں میں کئی بار پاکستان کے خلاف کبھی پاکستان میں نہ کھیل کر اور کبھی پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے نہ دے کر کھیلوں میں دہشت گردی پھیلانے کی سازش کر چکا ھے۔

کھیلوں کا اصل حسن امن، بھائی چارہ اور احترام ہے۔ جو ملک اس فلسفے کو ماننے کے بجائے نفرت اور ضد کو کھیل میں لے آئے، اسے دنیا کے کھیلوں کے نقشے سے الگ کر دینا ہی بہتر ہے

میں پاکستان کے فیصلہ سازوں اور طاقتور حلقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ بھارت کے اس رویے کو عالمی سطح پر اجاگر کریں۔ وقت آگیا ہے کہ ڈپلومیسی کے ذریعے بھارت کو 2036اولمپک کی دوڑ سے باہر کیا جائے

اور یہ واضح کیا جائے کہ جو ملک کھیل میں دشمنی، نفرت اور سیاسی انتہا پسندی لاتا ہے، وہ کسی بھی عالمی ایونٹ کا میزبان یا امیدوار نہیں ہو سکتا۔ بھارت کے اس رویے کو "اسپورٹس ٹیررازم” یعنی کھیلوں میں دہشت گردی و بد معاشی کے مترادف قرار دینا چاہیئے ہے۔

اب بھی وقت ھے کرکٹ کو کرکٹ والوں کے حوالے کریں۔ کھیلوں میں اس بنیادی اصلاح کی ضرورت ہے کہ متعلقہ اور قابل لوگوں کو کھیلوں کی ذمہ داری دی جاۓ جو خصوصی طور پر کھیل کی ترقی کا باعث بنیں۔

کرکٹ کو صرف کرکٹ کے پیشہ ور افراد کے حوالے کیا جائے۔ یہ "درآمد شدہ روبوٹس” جو محض سفارشی بنیادوں پر تعینات ہیں، پاکستان کرکٹ کو بدنام کر رہے ہیں۔ کھیلوں کو بیوروکریٹک یا سیاسی تقرریوں کے ذریعے چلانے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔

پاکستان کی بھارت سے شکست بد ترین کارکردگی ھے جو ایک آئینہ ھے۔ زمینداروں کے لئے۔ ٹیم کی کارکردگی ناقص تھی، جس پر عوام اور ماہرین پہلے ہی اپنی رائے دے چکے ہیں۔

لیکن چیئرمین کرکٹ بورڈ کے لیے یہی سبق کافی ہے کہ کھیل کو کھیل کے طور پر چلنے دیا جائے۔ بصورت دیگر پاکستان مزید عالمی سبکی کا شکار ہوتا رہے گا۔

تحریر: کھیل دوست، شاھدالحق ; سینئر سپورٹس جرنلسٹ و ویلاگر | سابق نیشل پلیئر و فٹنس کوچ | اسپورٹس فلانتھاپسٹ

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!