مضامین

کھیلوں کے “صحافیوں” کی بین الاقوامی مہم: ویزے، ٹکٹ، سپانسر اور غائب ہونے کی مشین

کھیلوں کے “صحافیوں” کی بین الاقوامی مہم: ویزے، ٹکٹ، سپانسر اور غائب ہونے کی مشین

مسرت اللہ جان

اگر آپ پشاور یا خیبرپختونخواہ میں کسی کھیل کے مقابلے میں جائیں تو سب سے پہلے آپ کو ایک دلچسپ منظر نظر آتا ہے: صحافیوں کی ایک نئی نسل، جو کیمرہ تھامے اور قلم پکڑے کھیلوں کی کوریج کر رہی ہے۔

لیکن حقیقت میں یہ لوگ صحافی نہیں، بلکہ چلتی پھرتی اسکیمیں ہیں۔ کبھی کبھی تو یہ ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے ان کے پاس کھیلوں کا شوق کم اور بیرونِ ملک ٹور کا جنون زیادہ ہو۔یہ سلسلہ نیا نہیں،

بلکہ ایک طویل اور متواتر روایت ہے۔ کچھ ادارے بڑے خوش اخلاقی سے انہیں پیڈ دیتے ہیں کہ “ہاں، یہ ہمارے رپورٹر ہیں”، جبکہ حقیقت میں یہ لوگ بس وہاں جا کر ایک آدھ تصویر کھینچ لیتے ہیں، کچھ پوز دیتے ہیں، اور پھر کہاں گئے کسی کو خبر نہیں۔ اگر یہ کھیلوں کے میدان میں جاسوس نہیں ہیں تو کم از کم ان کی غائب ہونے کی صلاحیت ایک فلمی جاسوس سے کم نہیں۔

اب بات کرتے ہیں سپورٹ کرنے والوں کی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بڑی مخلصی سے کہتے ہیں: “ہم تو صرف مدد کر رہے ہیں، دیکھو یہ صحافی ہماری طرف سے ہیں!” جی ہاں، وہ ادارے جو پیڈ دیتے ہیں، اور کچھ لوگ رقم بھیج کر انہیں باہر بھیجنے میں مدد کرتے ہیں۔ انسانی سمگلنگ کی یہ کوشش کھیلوں کی چمک دمک کے نام پر ہو رہی ہے۔

پچھلے پچیس سالوں کی رپورٹس اگر دیکھی جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ کھیلوں کی ایسوسی ایشن کے اندر ایک چھوٹا سا خفیہ ڈیٹا بیس موجود ہے، جو بتاتا ہے کہ کون کس کے توسط سے باہر گیا اور پھر واپس نہیں آیا۔ کئی ایسے نام سامنے آئیں گے جو آج بھی پردے کے پیچھے بیٹھ کر “صحافت” کی راہنمائی کر رہے ہیں۔

اب آتے ہیں سب سے دلچسپ پہلو پر‘ کھیلوں سے وابستہ صحافی اور ان کے اثاثے۔ اگر حکومت یا متعلقہ ادارے واقعی ان کے اثاثے چیک کریں، تو شاید آدھی کہانی فوراً سامنے آ جائے اور باقی آدھی خود بخود کھل جائے۔ایک رپورٹر جس کی تنخواہ نہ ادارے کو معلوم، نہ ایف بی آر کو، لیکن اثاثے بڑھ رہے ہوں، موبائل فلیگ شپ، اور بیرونِ ملک دورے باقاعدہ۔ اگر کسی نے پوچھا کہ آمدن کہاں سے؟ جواب ہوتا ہے: “بس اسپورٹس رپورٹنگ ہے، برکت والی فیلڈ ہے۔”

مزاحیہ مگر سنجیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ کسی زمانے میں کچھ صحافی ایسوسی ایشن کو پاسپورٹ دے کر کہتے تھے “ہمارے پاسپورٹ پر بھی ویزہ لگا دو، اور پھر ہمارے لیے سپانسر ڈھونڈو کہ ہم باہر جا رہے ہیں، ٹکٹ کا خرچہ کر دو۔” جی ہاں، یہ نہ صرف ایک سپورٹس ٹور ہے بلکہ مکمل پلان ہے کہ کس طرح رپورٹر بن کر بین الاقوامی سفر کیا جائے، ا

ور پھر کہاں کہاں چھپنا ہے۔ یہ سلسلہ کبھی کبھی اتنا مزاحیہ لگتا ہے کہ اگر کوئی فلم ساز یہاں آ کر اس پر فلم بنائے تو لگتا ہے کہ یہ فلم حقیقت سے زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگی۔ رپورٹر جا رہا ہے، کیمرا اٹھایا ہوا، مگر اصل مقصد ویزہ، ٹکٹ اور سپانسر تلاش کرنا ہے۔ کھیل دیکھنا تو بس شکلِ محفل ہے۔

اور پھر آتے ہیں پردہ نشین افراد۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اکثر کسی کونے میں بیٹھے رہتے ہیں، بظاہر چائے پیتے، لیکن حقیقت میں پوری کارروائی کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے نام اکثر صرف رپورٹس میں آتے ہیں، لیکن عوامی منظرنامے میں کبھی نہیں۔ یہ لوگ کھیلوں کی دنیا میں جیمز بانڈ قسم کا کردار ادا کرتے ہیں،

جسے لوگ دیکھتے ہیں تو بس کہتے ہیں: “کیا مزہ کی بات ہے!” لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اتنی خاموشی سے ہوتا ہے کہ اگر ایک انسٹاگرام پوسٹ یا ٹویٹ بھی آ جائے، تو لگتا ہے کہ زمین ہل گئی۔ اور اصل صحافی جو سچائی بتانے، حقائق سامنے لانے، اور کھلاڑیوں کی محنت کو دکھانے کے لیے نکلتے ہیں، ان کی محنت پردہ نشین رپورٹرز کے کھیل میں دب جاتی ہے۔

پشاور میں یہ کام کوئی نئی بات نہیں۔ برسوں سے چل رہا ہے، خاموشی سے، تسلسل کے ساتھ۔ کبھی اسپورٹس ایونٹ کے نام پر، کبھی ٹریننگ کے بہانے، کبھی کوریج کے لیٹر پر۔ اور پھر کہا جاتا ہے کہ “یہ تو انفرادی معاملہ ہے۔” انفرادی معاملہ اتنی بار ہو تو اسے سسٹم کہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انسانی سمگلنگ جیسے سنجیدہ جرم کو یہاں اتنی آسانی سے لپیٹ دیا گیا ہے کہ لگتا ہے یہ کوئی سمر ٹور ہو۔ رقم لی جاتی ہے، اسپورٹس کا نام استعمال ہوتا ہے، صحافت کی آڑ لی جاتی ہے، اور پھر سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے۔ اگر کوئی سوال کرے تو جواب تیار ہوتا ہے: “یہ تو میڈیا کا بندہ تھا۔”

اب سب سے اہم نکتہ، جس پر حکومت اور ایسوسی ایشن کو توجہ دینی چاہیے، وہ ہے صحافیوں کے اثاثے چیک کرنا۔ یہ کام کر لیا جائے تو شاید ہر گمشدہ رپورٹر کا راستہ کھل جائے۔ ٹکٹ کہاں سے آیا، ویزہ کس نے لگایا،

سپانسر کون تھا، اور اثاثے کہاں کہاں منتقل ہوئے—یہ سب سامنے آ جائے گا۔ یقین مانیے، کئی “غائب ہونے والے رپورٹرز” اسی ایک انکوائری سے پکڑ میں آ جائیں گے۔

یہ کالم کسی فرد کے خلاف نہیں، بلکہ ایک رجحان کے خلاف ہے۔ ایک ایسے رجحان کے خلاف جو کھیلوں کو بدنام کر رہا ہے، صحافت کو مشکوک بنا رہا ہے، اور نوجوانوں کو غلط راستہ دکھا رہا ہے۔ مزاح اپنی جگہ، مگر مسئلہ سنجیدہ ہے۔

آخر میں حکومت سے بس اتنی سی گزارش ہے کہ اگر واقعی کھیل، صحافت اور نوجوانوں کا مستقبل عزیز ہے تو اس معاملے کو ہنسی مذاق میں نہ لیا جائے۔

کیونکہ جو لوگ آج رپورٹر بن کر غائب ہو رہے ہیں، وہ کل پورے نظام کو غائب کر سکتے ہیں۔ اور ہاں، اگر کبھی کسی اسپورٹس ایونٹ میں کوئی رپورٹر اچانک نظر نہ آئے تو پریشان نہ ہوں۔ شاید وہ میچ جیت چکا ہے، بس ٹیم بدل لی ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!