
حسن خیل اسپورٹس کمپلیکس: سات سال بعد بھی صرف عمارت، سہولیات سے محروم نوجوان
حسن خیل سب ڈویژن پشاور میں واقع حسن خیل اسپورٹس کمپلیکس ایک عرصے سے حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے۔ یہ اسپورٹس کمپلیکس 2018 میں تعمیر تو کر دیا گیا تھا،
مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ آج تک اسے مکمل طور پر فعال نہیں بنایا جا سکا۔ عمارت موجود ہے، مگر کھیلوں کی بنیادی سہولیات، گراؤنڈ کی بہتری، سازوسامان اور انتظامی ڈھانچہ تاحال غائب ہے۔
سرکاری غفلت کے باوجود مقامی افراد اور نوجوان کھلاڑیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس کمپلیکس کو کسی حد تک قابلِ استعمال رکھا ہوا ہے۔
ذاتی وسائل اور چندے سے صفائی، معمولی مرمت اور کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو دراصل حکومتی اداروں کی ذمہ داری تھی۔ بدقسمتی سے ریاستی ذمہ داری عوام پر ڈال دی گئی ہے۔
علاقے کے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اگر حسن خیل اسپورٹس کمپلیکس کو مکمل سہولیات کے ساتھ فعال کر دیا جائے تو نہ صرف مقامی ٹیلنٹ کو سامنے آنے کا موقع ملے گا بلکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب بھی راغب کیا جا سکے گا۔ اس وقت نوجوانوں کے پاس نہ مناسب گراؤنڈ ہے اور نہ ہی تربیت یا مقابلوں کے مواقع۔
سماجی حلقوں نے معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور اسپورٹس سے وابستہ شخصیات سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم مسئلے کو اجاگر کریں اور اعلیٰ حکومتی حکام اور ڈائریکٹر اسپورٹس خیبرپختونخوا تک یہ آواز پہنچائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر بااثر آوازیں اس معاملے پر بات کریں تو حسن خیل اسپورٹس کمپلیکس کو فعال بنانے میں پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق حسن خیل کے نوجوان بھی وہی سہولیات کے حقدار ہیں جو دیگر علاقوں کے نوجوانوں کو میسر ہیں۔
اگر بروقت توجہ دی گئی تو یہ کمپلیکس مستقبل کے کھلاڑیوں کی نرسری بن سکتا ہے، بصورت دیگر یہ ایک اور سرکاری منصوبہ بن کر رہ جائے گا جو صرف فائلوں اور عمارت تک محدود ہے۔



