
ڈی ایس او سوات کی "جادوئی بیڈمنٹن مشینیں” پانچ سال سے صرف الماری کی سیر کر رہی ہیں
مسرت اللہ جان
کھیلوں کے شائقین اور کھلاڑی پانچ سال سے یہ جاننے کے لیے بیتاب ہیں کہ ڈی ایس او سوات کے سپورٹس کمپلیکس میں بیڈمنٹن کی وہ مشینیں آخر کب کھیلنے کے لیے نکلیں گی۔ لیکن بدقسمتی سے،
ان مشینوں کا پانچ سال کا سفر صرف الماری کے اندر چھپنے اور تصاویر میں نظر آنے تک محدود رہا ہے۔یہ سچ ہے کہ میں نے 30 جون 2025 کو رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) کے تحت ایک بالکل معقول سوال پوچھا تھا:
سال 2020 سے 2025 تک کتنے کھلاڑیوں نے ان مشینوں پر تربیت حاصل کی، ان کے نام اور پوزیشنز کیا تھیں، مشینوں کی مینٹیننس کے لیے کیا اقدامات کیے گئے، اور یہ کب تک استعمال ہوتی رہیں۔
توقع تھی کہ جواب میں کم از کم ایک سنجیدہ تحریر آئے گی، یا پھر کوئی رپورٹ ملے گی جو ہمیں بتائے کہ یہ مشینیں استعمال ہو رہی ہیں یا کم از کم مینٹیننس کی گئی ہیں۔ لیکن 13 جنوری 2026 کو جو جواب ملا، اس نے سب توقعات کو چٹان کی طرح توڑ دیا:
صرف خالی الماری کی تصاویر! ہاں، صرف تصاویر، اور کوئی تحریری وضاحت نہیں۔یعنی پانچ سال میں یہ مشینیں شاید دنیا کی سب سے مہربان مشینیں ہیں:
وہ خود سے کھیلنے نہیں آتیں، نہ کوئی تربیت حاصل کرنے والا انہیں چھو سکتا ہے، اور نہ ہی ان کا کوئی مینٹیننس ریکارڈ دستیاب ہے۔ شاید یہ مشینیں واقعی جادوئی ہیں — صرف الماری کی سیر کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔
یہ تصاویر دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ مشینیں ایک قسم کی فنکشنل آرٹ انسٹالیشن ہیں، جو ہمیں یہ سبق سکھاتی ہیں کہ "ہزاروں روپے کی مشینیں خریدنا کافی نہیں، استعمال کرنا بھی ضروری ہے، لیکن وہ ڈی ایس او سوات پر منحصر ہے کہ استعمال کب ہوگا!”حالانکہ، اگر ہم تھوڑا سنجیدہ ہوں تو یہ مسئلہ صرف مزاحیہ نہیں رہا۔
لاکھوں روپے کی یہ مشینیں پانچ سال تک صرف خالی الماری میں پڑی رہیں، اور ہمیں نہ معلوم کہ کیوں استعمال نہیں ہوئیں۔ کسی بھی ادارے کے لیے یہ انتظامی ناکامی کی واضح مثال ہے۔
اب ذرا تصور کریں: پانچ سال سے یہ مشینیں چپ چاپ الماری میں بیٹھیں، شاید روزانہ کھلاڑیوں کی کمی محسوس کر رہی ہوں، یا پھر ڈی ایس او سوات کے افسران نے سوچا ہو کہ "مشینیں خود ہی تربیت دینے کا فن سیکھ لیں گی۔
” لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ مشینیں خود بھی شاید تنہا ہو کر بور ہو گئی ہوں۔ اگر مشینیں بول سکتی تو شاید ہم سے یہ شکایت کرتیں کہ: "ہمیں کیوں نہیں استعمال کیا گیا؟
پانچ سال میں کتنے کھلاڑی ہمارے ساتھ ٹریننگ کرتے؟ کون سا افسر ہماری مینٹیننس کرتا؟” لیکن افسوس کہ مشینیں ابھی بھی خاموش ہیں، اور ڈی ایس او سوات کا جواب بھی بس اتنا ہے کہ "یہ دیکھ لیں، تصویریں!”
یہ صورتحال نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ عام عوام کے لیے بھی شرمندگی کا باعث ہے۔ لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر پانچ سال میں یہ مشینیں کہاں تھیں، اور کیوں ہزاروں روپے کی سرمایہ کاری صرف الماری میں ضائع ہوئی۔
ڈی ایس او سوات کا یہ رویہ شفافیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ RTI کا مقصد عوام کو معلومات فراہم کرنا ہے، لیکن صرف تصاویر بھیج دینا اور کوئی تحریری وضاحت نہ دینا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ایک مذاق کے مترادف بھی ہے۔
یہاں ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ شاید ڈی ایس او سوات کے افسران کو لکھنا یا پڑھنا بھی نہیں آتا، کیونکہ جواب میں کوئی تحریر شامل نہیں تھی۔ اگر ایسا نہیں بھی ہے، تو کم از کم یہ ادارہ ہمیں یہ بتا سکتا تھا
کہ مشینیں استعمال نہیں ہوئیں اور کیوں۔پانچ سال میں یہ مشینیں، جو ممکنہ طور پر سوکھنے والے کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے خریدی گئی تھیں، بس الماری کے اندر ایک "ڈسپلے پیس” بن کر رہ گئی ہیں۔ اور ہم سب صرف تصاویر دیکھ کر فرض کر سکتے ہیں کہ یہ مشینیں واقعی پانچ سال سے سونا سہاگہ کر رہی ہیں۔
یہ معاملہ نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ تشویشناک بھی ہے۔ لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود اگر کوئی رپورٹ، مینٹیننس یا تربیت کا ریکارڈ موجود نہ ہو، تو یہ ادارہ کھلاڑیوں اور عوام کے ساتھ کم از کم بنیادی شفافیت میں ناکام ہے۔
یہ صورتحال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صرف مشینیں خرید لینا کافی نہیں، بلکہ ان کا استعمال اور ان کی دیکھ بھال کرنا بھی ضروری ہے۔ اور اگر یہ بھی نہ ہو، تو کم از کم عوام کو یہ بتانا چاہیے کہ مشینیں کیوں استعمال نہیں ہوئیں، اور مستقبل میں کب تک استعمال ہوں گی۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈی ایس او سوات کی یہ "جادوئی مشینیں” پانچ سال سے الماری کی سیر کر رہی ہیں، اور عوام صرف تصاویر دیکھ کر سوچ رہے ہیں کہ: "یہ مشینیں واقعی کام کر رہی ہیں یا صرف دکھانے کے لیے ہیں؟
"یہ مزاح اور تنقید ایک ساتھ پیش کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ صورتحال ایک سنجیدہ انتباہ ہے کہ ادارے اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برت رہے ہیں، اور لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری محض دکھاوا بن کر رہ گئی ہے۔



