قازقستان، انڈر16 فٹبال ٹورنامنٹ کا سبق،قومی ٹیم شکست کے پردے میں چھپی امید کی جیت
رپورٹ: غنی الرحمن


قازقستان، انڈر16 فٹبال ٹورنامنٹ کا سبق،قومی ٹیم شکست کے پردے میں چھپی امید کی جیت
رپورٹ: غنی الرحمن
کبھی کبھی اسکور بورڈ شکست دکھاتا ہے، مگر میدان میں ہونے والی جدوجہد ایک نئی جیت کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ قازقستان میں کھیلا جانے والا انڈر 16 فٹبال ٹورنامنٹ بھی پاکستان کے لیے ایسا ہی ایک موقع ثابت ہوا، جہاں نتائج سے ہٹ کر کارکردگی نے ایک نئے مستقبل کی جھلک دکھائی۔
قازقستان میں جاری UEFA ڈیولپمنٹ انڈر 16 ٹورنامنٹ پاکستان فٹبال کے لیے محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک سبق، ایک تجربہ اور ایک امید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔
بظاہر نتائج شاید ہمارے حق میں نہ رہے ہوں، مگر اگر کھیل کو گہرائی سے دیکھا جائے تو قومی ٹیم کی کارکردگی میں وہ جذبہ، نظم و ضبط اور دفاعی حکمت عملی نظر آئی جو مستقبل میں بڑی کامیابیوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ قومی انڈر 16 ٹیم کو اس ٹورنامنٹ کے لیے مناسب وقت نہیں مل سکا۔ کھلاڑیوں کی تیاری محدود رہی، جبکہ ٹیم نے مسلسل کئی گھنٹوں پر مشتمل طویل سفر کے بعد قازقستان پہنچتے ہی نہایت کم آرام کے ساتھ میزبان ٹیم کے خلاف پہلا میچ کھیلا۔
یہی وہ میچ تھا جس میں پاکستان کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس شکست کے پس منظر میں تھکن، حالات اور تیاری کی کمی جیسے عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے بعد جو کچھ میدان میں ہوا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے نہ صرف اپنی کارکردگی میں واضح بہتری دکھائی بلکہ مضبوط ٹیموں کے خلاف ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔
اگرچہ ہمارے فارورڈز گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے، مگر دفاعی لائن نے مخالف ٹیموں کو بھی کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے میچز میں کوئی بھی ٹیم پاکستان کے خلاف دو سے زیادہ گول نہ کرسکی، بلکہ ایک میچ برابر بھی رہا۔
یہ کارکردگی اس لیے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسی ٹورنامنٹ میں روسی ٹیم نے دیگر ٹیموں کو بڑے مارجن سے شکست دی۔ ان کی تکنیکی مہارت، فٹنس اور ٹیم ورک اپنی جگہ،
مگر پاکستانی کھلاڑیوں نے محدود وسائل اور کم وقت کے باوجود جس جرات اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، وہ کسی بھی طرح کم نہیں۔
یہاں کوچز کا کردار بھی قابلِ ستائش ہے۔ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ عیسیٰ خان اور اسسٹنٹ کوچ محمد ارشد جوکہ یہ دونوں قومی ٹیم کے سابق کپتان رہے ہیں، نے اپنی ذہانت، حکمت عملی اور محدود وقت میں تیاری کے باوجود کھلاڑیوں کو ایک منظم یونٹ میں تبدیل کیا۔
کوچ محمد ارشد کی قیادت میں پی ایے ایف نے 35ویں نیشنل گیمز میں دہائیوں کے بعد نیشنل گیمز کا چمپئن بنایا ، ان کی کوچنگ کا ہی نتیجہ تھا کہ قازقستان میں قومی فٹبال ٹیم نے دباؤ کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور ہر میچ میں مقابلہ کیا۔
یہ امر بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ کھلاڑی دنوں میں تیار نہیں ہوتے۔ ان کے پیچھے مہینوں بلکہ برسوں کی محنت، مستقل مزاجی اور درست رہنمائی ہوتی ہے۔
اگر پاکستان کو واقعی عالمی سطح پر فٹبال میں مقام بنانا ہے تو ہمیں نچلی سطح سے کام کرنا ہوگا۔ اسکول لیول پر نرسریاں قائم کرنا ہوں گی،
جہاں کھلاڑیوں کو نہ صرف بنیادی تربیت دی جائے بلکہ ان کی جسمانی فٹنس، متوازن خوراک اور جدید سہولیات کا بھی خیال رکھا جائے۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر محسن گیلانی کو چاہیئے کہ اسی ٹیم کو انہی کوچز کی نگرانی مزید ٹریننگ دیاجائے ، سکولوں کی سطح پر طلبہ کو فٹبال ٹریننگ دینے کیلئے ایک مثبت حکمت عملی ترتیب دی جائے ،
پاکستان میں باصلاحیت کوچز اور سابق انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی کوئی کمی نہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں آگے لایا جائے اور ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔
قازقستان ٹورنامنٹ کے بعد پاکستان فٹبال فیڈریشن اور پاکستان سپورٹس بورڈ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس ٹیم اور کوچنگ اسٹاف کی حوصلہ افزائی کے لیے باقاعدہ تقریب منعقد کریں۔
مزید برآں، اسی ٹیم کو انہی کوچز کی زیر نگرانی کم از کم تین سے چار ماہ کی مسلسل تربیت فراہم کی جائے تاکہ یہ صلاحیت ایک مضبوط اور کامیاب یونٹ میں تبدیل ہو سکے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قازقستان کا یہ دورہ شکست کا نہیں بلکہ سیکھنے اور سنورنے کا سفر تھا۔ اگر اس تجربے سے درست سمت میں رہنمائی لی گئی تو یہی ٹیم کل پاکستان کے لیے فخر کا باعث بن سکتی ہے۔



